اغواءکیس ،سی ٹی ڈی شہباز تاثیر کا بیان قلمبند کرنے میں ناکام، عدالت نے ایک بار پھر مہلت دے دی

لاہور

لاہور(نامہ نگار )انسداد دہشت گردی کی عدالت میں سی ٹی ڈی سلمان تاثیر مرحوم کے بیٹے شہباز تاثیر کا بیان قلمبند کرکے پیش نہ کرسکی جس پر فاضل جج نے آئندہ سماعت 24مئی کوہر صورت بیان قلمبند کرکے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ فاضل جج نے پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے دو ملزمان عبدالرحمن اور عثمان کے حوالے سے سپرنٹنڈنٹ جیل سے رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔

لاہورکالج برائے خواتین یونیورسٹی کی وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹرعظمیٰ قریشی کی اہلیت لاہورہائیکورٹ میں چیلنج

انسداد دہشت گردی کی عدالت میں شہباز تاثیر اغوا کیس کی سماعت شروع ہوئی توعدالت میں سی ٹی ڈی کی طرف سے بتایا گیا کہ اس کیس کے دو ملزمان عثمان اور عبدالرحمن پولیس مقابلے میں ہلاک ہو چکے ہیںجس پرعدالت نے جیل کے سپرنٹنڈنٹ سے رپورٹ طلب کرلی ہے، واضح رہے کہ اس کیس میں اب ایک ملزم فراج رہ گیا ہے جبکہ دوسرا ملزم معظم مفرور ہے جس کہ اشتہاری ہے۔عدالت میں فراج اور ہلاک ہونے والے ملزمان کی طرف سے درخواست دی گئی تھی کہ شہباز تاثیر نے رہائی کے بعد کہا تھا کہ اس کو طالبان نے اغوا کیا تھا ،اس بیان کی روشنی میں وہ ملزم نہیں بنتے،استدعا ہے کہ انہیں بری کیا جائے اس پر عدالت نے سی ٹی ڈی کو حکم دے رکھا تھا کہ وہ شہباز تاثیر کا بیان قلمبند کرکے عدالت میں رپورٹ پیش کریں لیکن سی ٹی ڈی نے عدالت میں موقف اختیار کیاکہ شہباز تاثیر دستیاب نہیں ہورہاہے،مزید مہلت دی جائے جس پر فاضل جج نے ایک بار پھرسی ٹی ڈی کو شہبازتاثیر کا بیان قلمبند کرنے کا موقع دیتے ہوئے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔