چیئرمین واپڈا اور 3ممبران کی تعیناتیاں بظاہر غیر قانونی ہیں ،حکومت نے نہ ہٹایا تو عدالت فیصلہ کرے گی ،ہائی کورٹ

لاہور

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے چیئرمین واپڈا اور 3ممبران کی تعیناتی کے خلاف درخواست پر وزارت پانی و بجلی سے 12 اپریل تک جواب طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ بادی النظر میں یہ تعیناتیاں غیر قانونی ہیں مناسب ہوگا کہ حکومت خود ہی انہیں ہٹا دے ورنہ میرٹ پر فیصلہ کیا جائے گا۔

عالمی یوم مسرت پاکستان ایک بار پھر بھارت پر بازی لے گیا، اقوام متحدہ نے رپورٹ جاری کردی

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سید منصور علی شاہ نے آصف کھوکھر کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست میں چیئرمین واپڈا مزمل حسین، ممبر واپڈا شاداب خان، انوار الحق اور نصیر رفیق کو فریق بناتے ہوئے کہا گیا تھا کہ حکومت نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یہ تعیناتیاں کی ہیں۔ درخواست گزار نے الزام عائد کیا کہ چیئرمین واپڈا اور ممبرز کی تعیناتی کے لئے کوئی اخبار اشتہار بھی نہیں دیا گیا۔ اسی طرح حکومت نے ممبر فنانس واپڈا انوار الحق کو 2014 سے ایڈیشنل چارج دے رکھا ہے،عدالت ان تعیناتیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم کرے۔ چیف جسٹس نے ابتدائی سماعت کے بعد قرار دیا کہ بادی النظر میں چیئرمین واپڈا اور ممبرز کی تعیناتیاں غیرقانونی ہیں، مناسب ہو گا حکومت خود ہی انہیں ہٹا دے ورنہ میرٹ پر فیصلہ کیا جائے گا۔ عدالت نے چیئرمین واپڈا اور تینوں ممبرز کو نوٹس جاری کر دیئے جبکہ آئندہ سماعت پر وزارت پانی و بجلی اور واپڈا کے افسران کو بھی طلب کر لیاہے۔