گروپ انشورنس کی رقم کاٹتے ہیں توملازمین کو ادائیگی کیوں نہیں کرتے ،وکلاءبحث کے لئے طلب

لاہور

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے ریٹائرڈ ملازمین کو کٹوتی شدہ گروپ انشورنس کی رقم نہ دینے کے خلاف درخواست پر پنجاب حکومت، نیشنل انشورنس کارپوریشن اور ملازمین کے وکلاءکو 22مارچ کو حتمی بحث کے لئے طلب کر لیاہے۔

چیئرمین واپڈا اور 3ممبران کی تعیناتیاں بظاہر غیر قانونی ہیں ،حکومت نے نہ ہٹایا تو عدالت فیصلہ کرے گی ،ہائی کورٹ

چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی درخواستوں پر سماعت کی، درخواست گزاروں کی طرف سے ثمرہ ملک اور چودھری نصیر ایڈووکیٹس نے موقف اختیار کیا کہ پنجاب حکومت سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے ماہانہ گروپ انشورنس کی رقم کاٹتی ہے لیکن یہ رقم ریٹائرڈ سرکاری ملازم کو ادا نہیں کی جاتی ہے، انہوں نے نشاندہی کی کہ پنجاب ایمپلائز ویلفیئر آرڈیننس کے رولز کی دفعہ 8کے تحت اگر ریٹائرڈ سرکاری ملازم 65برس سے قبل انتقال کر جائے تو انشورنس کی رقم اس کے ورثاءکو ادا کی جاتی ہے لیکن اگر 65برس کے بعد ریٹائرڈ ملازم انتقال کر جائے تو کسی کو بھی گروپ انشورنس کی رقم ادا نہیں کی جاتی ہے، انہوں نے بلوچستان ہائیکورٹ کا حوالے دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ بلوچستان ہائیکورٹ نے اس اقدام کو غیرقانونی قرار دیا ہے جس کے بعد اب ریٹائرمنٹ پر ہی ملازم کو گروپ انشورنس کی رقم ملتی ہے، نیشنل انشورنس کارپوریشن کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ملازمین کی لائف انشورنس کاٹی جاتی ہے، لائف انشورنس کا قانون ہی یہ ہے کہ 65 برس سے پہلے فوت ہونے پرورثاءکو ادائیگی ہوگی، عدالت نے عبوری بحث سننے کے بعد فریقین کے وکلاءکو حتمی بحث کے لئے طلب کر لیاہے۔