حافظ سعید نظر بندی کیس ،ہائی کورٹ نے حکومت کو لمبی تاریخ دینے سے انکار کردیا،بحث کا حکم

لاہور

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے جماعت الدعوة کے امیر حافظ سعید سمیت 5افراد کی نظربندی کے خلاف درخواست پر محکمہ داخلہ پنجاب کو لمبی تاریخ دینے کی استدعا مسترد کر تے ہوئے 21مارچ کو بحث مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔

اورنج لائن ٹرین منصوبے سے متعلقہ دستاویزات اور تفصیلات سول سوسائٹی کے وکیل کو فراہم کرنے کا حکم

جسٹس کاظم رضا شمسی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے درخواست پر سماعت کی۔ محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جواب داخل کراتے ہوئے سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انہیں چند منٹ پہلے کیس کی سماعت مقرر ہونے کا پتہ چلا، اس لئے انہیں مہلت دی جائے، جواب میں کہا گیا ہے کہ حافظ سعید، ظفر اقبال ملک، عبدالرحمان، کاشف حسین اور عبداللہ کو قانون کے مطابق نظربند کیا گیا ہے۔ درخواست گزار کے وکیل اے کے ڈوگر نے اپنے دلائل میں کہا کہ جماعت الدعوتہ فلاحی تنظیم ہے اور کسی غیرریاستی سرگرمی میں ملوث نہیں لیکن حکومت نے غیرقانون طور پر 5افراد کی نظربندیوں کا حکم نامہ جاری کیا، ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے امریکہ کے دباﺅ پر حافظ سعید اور ان کے ساتھیوں کو نظربند کیا جبکہ آئین پاکستان ہر شہری کو آزاد رہنے کا حق دیتا ہے۔ انہوں نے استدعا کی کہ حافظ سعید اور ان کے ساتھیوں کی نظربندیاں کالعدم کی جائیں۔