کرپشن برداشت نہیں ،بہاو الدین زکریا یونیورسٹی لاہور کیمپس کیس میں ہائی کورٹ نے چیئر مین نیب کوطلب کرلیا

لاہور

لاہور(نامہ نگارخصوصی )لاہورہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں قائم تین رکنی فل بنچ نے بہاو ¿الدین زکریا یونیورسٹی لاہور کیمپس کے طالب علموںکو ڈگریاں جاری نہ کرنے اور زیر تعلیم طالب علموںکی رجسٹریشن نہ کرنے کے خلاف دائر درخواستوں پرچیئرمین نیب، ڈی جی نیب ملتان اور پراسیکیوٹر جنرل نیب کو طلب کرلیا ہے ۔

عرب دنیا کا وہ بڑا اسلامی ملک جہاں ہم جنس پرستی کو قانونی حیثیت دے دی گئی، دنیا بھر کے مسلمان حیران پریشان رہ گئے

عدالتی حکم پر بہاو ¿الدین زکریا یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے لاہور کیمپس کے تمام طالب علموںکا ریکارڈعدالت میں پیش کر دیا۔صوبائی وزیر زعیم قادری بھی عدالت کے حکم پر پیش ہوئے۔چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر مختار احمد اور سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نسیم نواز نے سب کیمپس کی نجی انتظامیہ کی جانب سے کیمپس کی عمارت استعمال کرنے کی پیش کش کو ناقابل عمل قرار دے دیا۔چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ایچ ای سی کے صوبائی دفتر کو طالب علموںکی انرولمنٹ اور رجسٹریشن کے ون ونڈو آپریشن کے لئے مختص کرنے اور یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز سے رابطے کے لئے مخصوص کرنے کی پیشکش کی۔طالب علموں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ انہوں نے سب کیمپس میں جمع کرائی مگر نیب کی جانب سے اکاونٹ فریز ہونے کے سبب یونیورسٹی انتظامیہ دوبارہ فیس کا تقاضا کر رہی ہے۔جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اتنے بڑے پیمانے پر فیسیں لیں گئیں اور بعد میں ڈگریوں کو جعلی کہا گیا یہ سیدھی سیدھی کرپشن ہے۔ بچے ملک کا مستقبل ہیں ان کے جذبات سے کسی کو کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے۔۔عدالت نے قرار دیا کہ نیب سوتی رہتی ہے اور لوگ ادارے بناکر لوٹ مار کر رہے ہیں۔بچوں کے والدین نے اپناپیٹ کاٹ کر انکی تعلیم کے اخراجات برداشت کئے ہیں۔کسی کو تعلیم کے نام پر فراڈ نہیں کرنے دیں گے۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی۔