ہائی کورٹ نے جبری شادی کی شکار خاتون 2بچوں سمیت دارلامان بھجوا دی ،عدالتی حکم عدولی پر 2تھانیدار معطل

لاہور

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے جبری شادی کی شکار دو بچوں کی ماں کوبچوں سمیت دارالامان بھجوا دیا،عدالت نے کزن ہونے کے دعویدار شخص کا ریکارڈ فراہم نہ کرنے پر تھانہ فیکٹری ایریا کے ایس ایچ او ممتاز کاکڑ اور اے ایس آئی غلام رسول کو معطل کر نے کا حکم دے دیا۔

کریم کار سروس سے لاکھوں افراد مستفید ہورہے ہیں،آمدورفت کی سہولت کے ساتھ ساتھ ایک لاکھ افراد کو نوکریاں ملیں گی: ایم ڈی جنید اقبال

جسٹس محمد فرخ عرفان خان نے کیس کی سماعت کی۔درخواست گزار اشفاق نامی شہری نے موقف اختیار کیا کہ اس کی کزن کو امجد نامی شخص نے زبردستی اپنے پاس رکھا ہے مگر پولیس کوئی کاروائی نہیں کر رہی۔عدالتی حکم پر تھانہ فیکٹری ایریا کے سب انسپکٹر غلام رسول نے کرن بی بی اس کی 6 سالہ بیٹی زینب فاطمہ اور 4 سالہ بیٹے محمد سہیل کو عدالت میں پیش کیا۔امجد نامی شخص نے عدالت کو آگاہ کیا کرن اس کی بیوی ہے اس نے کسی کو زبردستی اپنے پاس نہیں رکھا۔خاتون نے عدالت کو بتایا کہ امجد نے اس سے جبری شادی کی جبکہ اس کے دو بچے ہیں اب وہ اپنے خاوند کے ساتھ نہیں جانا چاہتی۔جس پر عدالت نے یمارکس دیئے کہ عدالت کسی عورت کو اجنبی شخص کے ساتھ نہیں بھجوا سکتی۔عدالت نے درخواست گزار کے خونی رشتہ دارہونے کا ریکارڈ پیش نہ کرنے پر تھانہ فیکٹری ایریا کے ایس ایچ او ممتاز کاکڑاور اے ایس آئی غلام رسول کو معطل کرنے کا حکم دے دیا۔عدالت نے دو بچوں کی ماں کو دارالامان بھجواتے ہوئے آئندہ سماعت پر درخواست گزار کزن ہونے کے دعویدار شخص کے بارے میں ریکارڈ عدالت میں طلب کر لیا۔