سیاسی ورکر نے جب اپنے قائد کے سامنے گھاس کھانی شروع کی تو............

لافٹر

ایک غریب سیاسی ورکر نے بھوک سے تنگ آ کر بھیک مانگنے کا منصوبہ بنایا لیکن شہر میں بھکاریوں کی بھرمار کی وجہ سے اسکوکامیابی نہ مل سکی تو اس نے انوکھا طریقہ اپنانے کی ٹھان لی ۔ اس نے دیکھا ایک بڑے پارک میں اسکی سیاسی پارٹی کاجلسہ ہورہا ہے۔اس نے مجمع کے قریب پہنچ کر گھاس کھانا شروع کردی۔ ایک جاننے والے پارٹی ورکر نے پوچھا ” ابے گھاس کیوں کھاتاہے،روٹی نہیں ملی کیا؟“
وہ بولا”یار کئی روز سے بھوکا ہوں۔ پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لیے گھاس کھانے پر مجبور ہوگیا ہوں “ ورکر نے رحم کھایااوراسے 100 روپے دیے اور کہا ”گھاس چھوڑو ، 100 روپے سے تمہیں اچھا کھانا مل جائے گا“غریب ورکرآدمی بہت خوش ہوکرچلنے ہی لگا تھا کہ اسے خیال آیا ”اگر یہ ورکر اتنا رحمدل ہے توہمارا لیڈر اس سے بھی زیادہ رحمدل ہوگا۔ “
سٹیج کے قریب پہنچ کر دیکھا اس نے دیکھا پارٹی لیڈر کرسی پر براجمان ہے ۔ اس نے سٹیج کے قریب اُگی گھاس کھانا شروع کردی۔لیڈرکی نگاہ اس پر پڑی تو پوچھا ” یہ کیا کررہے ہو ؟ “
غریب ورکر چلایا”قائد محترم کئی روز کا بھوکا ہوں۔ پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لیے گھاس کھانے پر مجبور ہوگیا ہوں ۔ “
لیڈرنے غریب کو سٹیج پر بلایا۔ مائیک پر لوگوں سے مخاطب ہوکر بولا” دیکھو پچھلے دور کی پالیسیوں کی وجہ سے غریب گھاس کھانے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ ہم عوام کو بھوک سے نجات دلانے کے لیے آئے ہیں۔ میں غریبوں کا رکھوالا بن کر آیا ہوں “ یہ سن کر مجمع نے جوشیلے نعرے لگائے۔ میڈیا نے ٹی وی چینلز پر انسانی ہمدردی کی خبر بریکنگ نیوزمیں جاری کر دی۔ تقریر ختم ہوئی تو سٹیج سے اترتے ہوئے اسی غریب ورکرنے لیڈرکے سامنے آکر اپنی مدد کی درخواست کی۔ لیڈرنے جیب سے 20روپے نکال کر اسکے ہاتھ پر رکھے اور بولے ” پاگل اس پارک میں گھاس بہت کم ہے۔ میٹرومیں بیٹھو، 20 روپے کے ٹکٹ میں راوی پار شاہدرہ پہنچو وہاں بہت زیادہ اور لمبی لمبی گھاس ہے “
زاہد محمود اکبر ۔۔۔۔لاہور