بار بار ’’موبائل‘‘ کو دیکھنا بے چینی کا سبب بن سکتا ہے،رپورٹ


لاہور ،کوئٹہ(یو این پی ) جیسا کہ ایک حالیہ مطالعے کا نتیجہ بتاتا ہے کہ موبائل فون بار باردیکھنے والے لوگ اپنی روزمرہ زندگیوں میں اتنے ہی زیادہ بے چین ہو سکتے ہیں۔ موبائل فون درحقیقت ہماری زندگی یا یوں کہہ لیں کہ ہمارے خاندان کا ایک حصہ بن چکا ہے جو ہر وقت ہر جگہ ہمارے لیے موجود ہوتا ہے اور اب ہم سے زیادہ ہم کو بہتر سمجھنے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔ جیسا کہ ایک حالیہ مطالعے کا نتیجہ بتاتا ہے کہ موبائل فون بار بار دیکھنے والے لوگ اپنی روزمرہ زندگیوں میں اتنے ہی زیادہ بے چین ہو سکتے ہیں۔امریکی ریاست فلوریڈا کی یونیورسٹی سے منسلک ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ اگرچہ موبائل فونز ہماری روزمرہ کی سرگرمیوں میں تیزی سے وسیع کردار ادا کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود بہت کم تحقیقات میں فون استعمال کرنے کی عادت اور شخصیت میں انفرادی اختلافات کے درمیان تعلقات کو ظاہر کیا گیا ہے۔ تجزیہ کے مزید تسلسل سے ظاہر ہوا کہ جو لوگ چند منٹ کے لیے بھی اپنے فون سے علیحدہ ہونے کے لیے تیار نہیں تھے وہ اپنی روزمرہ کی زندگیوں میں اضطراب کے مسائل پر قابو پانے میں بھی ناکام تھے۔ یونیورسٹی سے منسلک ماہر نفسیات ڈاکٹر جیسن چین نے کہا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ بار بار فون دیکھنا آپ کے بے قابو بے چینی کی طرف سے ہوتا ہے۔