مکڑیاں ، انسانوں اور وہیل مچھلیوں سے زیادہ گوشت کھاتی ہیں


برلن (مانیٹرنگ ڈیسک) گھروں کی چھتوں اور دیواروں پر جالے بنانے والی مکڑیوں سے دنیا بھر کی خواتین خانہ کو شدید نفرت ہے۔ یہ نفرت ان کی شکل و صورت کی وجہ سے نہیں بلکہ ان جالوں کی وجہ سے ہے جو گھروں کی چھتوں اور دیواروں کی صفائی کے دوران انہیں جھاڑنا پڑتے ہیں۔ لیکن ان کے بارے میں یہ انکشاف ہوا کہ گوشت کھانے کی ان کی عادت حیران کن طور پر بہت زیادہ ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق مکڑیاں سالانہ بنیادوں پر انسانوں کی نسبت دوگنا گوشت کھاتی ہیں۔دنیا بھر کی25ملین میٹرک ٹن وزن کی مکڑیاں سالانہ800ملین ٹن گوشت کھاتی ہیں۔دا سائنس آف نیچر‘ نامی جریدے نے جرمنی، سوئٹزرلینڈ اور سویڈن سے تعلق رکھنے والے سائنس دانوں کی ایک تحقیق شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یہ ننھی منی مخلوق دنیا بھر میں سالانہ بنیادوں پر جتنے کیڑے مکوڑے کھا جاتی ہے، انہیں تولا جائے تو ان کا وزن قریب 800 ملین میٹرک ٹن بنتا ہے۔اس کے مقابلے میں دنیا بھر کے انسان سالانہ 400 ملین میٹرک ٹن گوشت کھاتے ہیں۔ یعنی مکڑیاں ہر سال انسانوں کی نسبت قریب دگنا گوشت کھا جاتی ہے۔مکڑیوں اور انسانوں کے بعد وہیل مچھلیاں تیسرے نمبر پر ہیں جو سالانہ 280 تا 500 ملین میٹرک ٹن خوراک کھاتی ہیں۔