روسی سفیر کے قتل کے بعد امریکہ اور مغرب کو اپنا متعصبانہ رویہ بدلنا ہوگا ،شاداب رضا

میٹروپولیٹن 4


لاہور(خبر نگار خصوصی)سنی تحریک کے مر کزی رہنما محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ انقرہ میں روسی سفیر کے قتل کے بعد امریکہ اور مغرب کو اپنا متعصبانہ رویہ بدلنا ہوگا ۔مسلم امہ پر ہونے والا جبر اور مزید کوئی بھی برداشت نہیں کر سکتا ۔اگر عالمی ادارے اپنی سرمہری قائم رکھیں گے تو لوگوں کو خود فیصلے کرنے اور مسلط کرنے کا موقع فراہم کریں گے۔روسی صدر پیوٹن کو چاہئے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کریں اور مسلم امہ بارے اپنا رویہ درست کریں ۔انقرہ میں قتل ہونے والے سفیر کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہئے۔عالمی طاقتوں کو چین کے مثبت اور دوستانہ رویے کو مثال بنانا اور اپنانا چاہئے۔طاقت کے نشے میں دھت عالمی ثورماؤں کو ہوش میں آنا چاہئے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز انقرہ میں قتل کئے گئے روسی سفیر کے رد عمل پر کیا ۔محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہاکہ انقراہ میں روسی سفیر کا قتل مسلم امہ کو انصاف نہ دئے جانے کا رد عمل ہو سکتا ہے۔

انصاف کے دعویدار عالمی اداروں کو چاہئے کہ وہ شام کی صورت حال پر اپنی بند آنکھیں کھولیں۔پوری دنیا میں مسلم امہ کا قتل عام کیا جا رہا ہے مگر اقوام متحدہ نے مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔روسی سفیر کا قتل متعصب عالمی رہنماؤں کے لئے واضع پیغام ہے،امریکہ اور مغرب کو اپنا رویہ بدلنا ہوگا۔محمد شاداب رضا نقشبندیکہا کہ روسی سفیر کے قتل کو مسلمانوں یا کسی بھی طرح کی دہشتگردی سے جوڑنا قبل از وقت ہوگا۔اداروں کو تحقیقات کرنی چاہئے ۔اقوام متحدہ کو شام کی صورت حال پر فوری اجلاس طلب کرنا چاہئے اور جنگ بندی پر مکمل طور پر عمل درآمد کروانا چاہئے۔