اہل قلم معاشرے کو کھلی آنکھ سے دیکھتے ہیں، ان کے کلام میں تعصب نہیں ہوتا: گورنر پنجاب


ملتان ( سٹاف رپورٹر)گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ملک بھر میں جو ترقیاتی کام کئے ہیں اور عوام کو جس قدر ریلیف دیا ہے‘ اس کا دیگر ادوار سے موازنہ کیاجائے تو صاف فرق نظر آتا ہے‘ انہوں نے کہا کہ عوام انصاف کریں کہ کو ن ان سے مخلص ہے وزیر اعلیٰ ‘ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ انہیں ساری ساری رات نیند نہیں آتی ‘ وہ اپنے عوام کیلئے سوچتے ہیں‘ گورنر رفیق رجوانہ نے مزید کہا کہ شاعر ،ادیب اور اہل قلم ہمارے لئے روشنی کا باعث ہیں انہی کی وجہ سے معاشروں میں اندھیروں کا خاتمہ ہو تا ہے اور ترقی کی نئی راہیں کھلتی ہیں اہل قلم عوام میں ہمت حوصلے اور جذبے کی نئی روح پھونکتے ہیں جس سے قومیں پروان چڑھتی ہیں شعراء اپنی انقلابی شاعری کے ذریعے معاشرے کی دکھتی ہوئی رگ پر ہاتھ رکھتے ہیں اور اپنے کلام کے ذریعے ارباب اختیار تک عوام کے مطالبات اور مسائل پہنچاتے ہیں۔اہل قلم حساس ترین لوگ ہوتے ہیں جو معاشرے کو کھلی آ نکھوں اور کھلے دل سے دیکھتے ہیں ان کے کلام میں کوئی تعصب نہیں ہو تا ہم سب کو بھی تعصبات سے بالا تر ہو کر قومی ایجنڈے پر کام کر نا ہو گا ہمارا قومی ایجنڈا پاکستان کی ترقی اورخوشحالی ہے جس کے لئے ہمیں دن رات محنت کر نا ہو گی ۔انہوں نے ان خیالات کا اظہارر ریڈیو پاکستان ملتان کی عمارت میں اکادمی ادبیات پاکستان کے ملتان آفس کی افتتاحی تقریب سے خطا ب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیر اعظم پاکستان کے مشیر برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ عرفان صدیقی ، چیئر مین اکادمی ادبیات پاکستان ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو، رکن اکادمی ادبیات حفیظ خان، شاعر و ادیب ڈاکتر محمد اسلم انصاری، دانشور ،شاعر و ادیب خالد مسعود خان،شاکر حسین شاکر،ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ، اظہر مجوکہ، شاکر شجاعبادی ،اطہر ممتاز،صنعتکار چوہدری ذوالفقار علی انجم،مئیر ملتان چوہدری نوید الحق ارائیں،سابق صوبائی وزیر چوہدری عبدالوحیدارائیں، ڈپٹی مئیر ملتان حاجی سعید احمد انصاری، مسلم لیگ ن کے رہنما ملک محمد آصف رجوانہ، بلال بٹ ،سابق ایم این اے شیخ طارق رشید اور جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے شاعر ، ادیب اور لکھاریوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ جنوبی پنجاب خواجہ غلام فرید و دیگر صوفی شعراء اہل قلم اور دانشوروں کی دھرتی ہے جنہوں نے اپنے کلام کے ذریعے جہالت کا خاتمہ کیا اور ہر طرف روشنی پھیلائی۔جنوبی پنجاب میں اکادمی ادبیات کے دفتر کا قیام انتہائی خوش آئند ہے جس سے یہاں کے اہل قلم کو پہچان ملے گی اور ایک ایسا پلیٹ فارم میسر آئے گا جس سے ان کی نگارشات کو ملکی و بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا جا سکے گا جس پر ہم وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور مشیر وزیر اعظم عرفان صدیقی کے شکر گزار ہیں۔ گورنر پنجاب نے مزید کہا کہ ہمیں اس دھرتی نے شناخت دی ہے اور ہمارے اوپر اس دھرتی کا قرض ہے کہ ہم اس کی خدمت کریں ہمارے اہل قلم کو چاہیئے کہ وہ عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کی جانے والی خدمات اور اقدامات کو بھی عوام میں اجا گر کریں۔گورنر پنجاب نے مزید کہا کہ وزیر اعظم پاکستان کی طرف سے شاعروں و ادیبوں کے لئے وظائف کی تعداد اور مقدار کو بڑھانے پر ہم انکا شکریہ ادا کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے شاعر ستاروں کی مانند ہیں ہمیں ان کی عزت و احترام کرنا ہو گا۔گورنر پنجاب نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت کے دور میں جنوبی پنجاب میں مثالی ترقی ہو رہی ہے جو اس سے پہلے نہیں ہو ئی ملتان میں تین نئی یونیورسٹیاں قائم کی گئیں۔ کڈنی سنٹر بنا یا گیا، انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی توسیع کی جارہی ہے ، ڈیرہ غاذیخان میں یونیورسٹی اور میڈیکل کالج بنا یا گیا اور مظفرگڑھ میں طیب اردگان ہسپتال بنایا گیا،انہوں نے مزید کہا کہ ملتان مطفر گڑھ کو ڈبل کیرج وے بنا نے کے لئے اقدا مات کئے جا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سیاست ایک عبادت کا درجہ رکھتی ہے ہماری اولین ترجیح عوام کی خدمت اور انہیں سہولیات بہم پہنچا نا ہے جس کے لئے ریکارڈ ترقیاتی منصو بے شروع کئے گئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بلدیاتی نظام کو فعال کر دیا گیا ہے جس سے عوام کے مسائل نچلی سطح پر حل ہونگے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مشیر برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ عرفان صدیقی نے کہا کہ ملتان میں اکادمی ادبیات کے دفتر مے قیام میں گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ کی خصوصی کاوشیں شامل ہیں ۔دفتر کے قیام سے جنوبی پنجاب کے شاعروں اور ادیبوں کو ایک فورم میسر آگیا ہے جہاں انہیں علمی ،ادبی و تحقیقی سرگرمیوں کے مواقع میسر آئیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت نے شاعروں اور ادیبوں کی فلاح و بہبود پر خصوصی توجہ دی ہے ۔وزیر اعظم پاکستان نے شاعروں و ادیبوں کو فراہم کئے جا نے والے وظائف کی رقم کو دگنا کر دیا ہے جو کہ فی کس 13ہزار روپے ہو گئی ہے پہلے5 سو اہل قلم کو وظیفہ دیا جا رہا تھا اب اسکی تعداد ایک ہزار کر دی گئی ہے اس طرح کسی بھی شاعر یا ادیب کی حادثاتی موت پر اسکو دی جانے والی انشورنس کو دولاکھ سے بڑھا کر چار لاکھ اور طبعی موت کی صورت میں ایک لاکھ روپے سے بڑھا کر دو لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ شاعروں و ادیبوں کی فلاح و بہبود کے لئے حکومت پاکستان نے پچاس کروڑ روپے کے خصوصی فنڈز جاری کئے ہیں جنہیں فکس ڈیپازٹ کر ا کے اسکی آمدن کو اہل قلم کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے گا۔عرفان صدیقی نے مزید کہا کہ ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو ایسے شاعروں و ادیبوں کی تخلیقات کا جائزہ لے گا جو اپنے کام کی اشاعت کروانے کی استطاعت نہیں رکھتے ان ادیبوں کے تخلیقات کی اشاعت، طباعت اور سرکولیشن کے اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اکادمی ادبیات ملتان کے دفتر میں لفٹ کا اہتمام بھی کر دیا جائے گا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئر مین اکادمی ادبیات پاکستان ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو نے کہا کہ ہمارا مقصد شاعروں و ادیبوں کی تخلیقات اور ان کے کلام کو عوام تک لے کے جا نا ہے اس کے لئے ہم تمام اقدا مات کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کتاب ہی ترقی کی طرف لے کر جاتی ہے جس گھر میں کتابیں پڑی رہیں وہاں کوئی دہشت گرد پیدا نہیں ہو سکتا ۔ہم اپنے شاعروں و ادیبوں کو محبت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ، انہوں نے مزید کہا کہ شاعروں و ادیبوں کی ڈائریکٹری تیار کی جارہی ہے ان کو اکادمی ادبیات کی طرف سے خصوصی کارڈز بھی جاری کئے جا رہے ہیں جس پر مختلف کمپنیوں کی میڈیسن اور لیبارٹری ٹیسٹ میں انہیں خصوصی رعایت دی جائے گی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر اسلم انصاری نے کہا کہ آج کی تقریب ملتان کی تہزیبی و ثقافتی اور ادبی سفر میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اب جنوبی پنجاب کے لکھنے والوں کو قومی سطح پر آنے کا موقع ملے گاجن لوگوں نے اس دفتر کے قیام کیلئے کاوشیں کیں ان کو ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔تقریب سے خطا ب کرتے ہوئے شاعر و کالم نگار خالد مسعود خان نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے شاعروں اور ادبیوں کے لئے آج کا دن بہت اہم ہے ہمارے شعراء و ادیبوں کو ایک شناخت ملی ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملتان میں بھی ادب اور کلچر کے فروغ کے لئے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف آرٹ کلچر اینڈ لینگویج لاہور کی طرز کا ادارہ بنا یا جائے ۔تقریب سے رکن اکادمی ادبیات حفیظ خان اور شاکر حسین شاکر نے بھی خطا ب کیا۔ قبل ازیں گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ اورمشیر وزیر اعظم برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ عرفان صدیقی نے ریڈیو پاکستان ملتان کی عمارت میں اکادمی ادبیات پاکستان کے ریجنل آفس ملتان کا افتتاح کیا۔