قندیل بلوچ قتل کیس ، مفتی عبدالقوی ضمانت منظور ہونے کے بعد ملتان جیل سے رہا

ملتان

ملتان (ڈیلی پاکستان آن لائن)عدالت کی طرف سے قندیل بلوچ قتل کیس میں مفتی عبدالقوی کی درخواست ضمانت منظور ہونے کے بعد انہیں  سینٹرل جیل ملتان  سے رہاکر دیا گیا ،عدالت نے ان کی ضمانت 2لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کی تھی۔جیل کے باہر اہل خانہ ،رشتہ داروں ،عزیز و اقارب اور مریدوں کی بڑی تعداد نے استقبال کیا ،قندیل بلوچ کے ساتھ سیلفی کے پیچھے کون سی طاقتیں کار فرما تھیں؟؟ وہ تمام صاحب عقل لوگوں کو معلوم ہیں، پنجاب پولیس اور جیل کی باتیں کل (بدھ کے روز ) کروں گا،مفتی عبد القوی کی جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو ۔

قندیل بلوچ قتل کیس، مفتی عبدالقوی کی درخواست ضمانت منظور , ناکافی ثبوت جمع کروائے گئے: عدالت

تفصیلات کے مطابق معروف ماڈل اور فحش ویڈیوز سے شہرت حاصل کرنے والی قندیل بلوچ قتل کیس کے سلسلے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔عدالت کے حکم پر  کیس کے مرکزی ملزم مفتی عبدالقوی کو ملتان  جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔ایک ماہ قبل درخواست ضمانت مسترد ہونے پر مفتی عبدالقوی  کو ملتان پولیس نے حراست میں لیا  تھا  تاہم اب ملتان کی عدالت کی جانب سے حکم دیئے  جانے کے بعد مفتی عبدالقوی کو ملتان جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔

ماڈل قندیل بلوچ قتل کیس میں ضمانت پررہائی پانیوالے مفتی عبدالقوی نے اپنی رہائی کے بعد جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے  کہاہے کہ جتنے دن حوالات میں رہا،میرابلڈ پریشر80سے 120تک رہا، پنجاب پولیس اور جیل کی باتیں کل (بدھ کے روز ) کروں گا، سیلفی کے ایک سال بعد 2017ء میں کیس کاچالان مکمل کیا گیا جبکہ اس عرصہ میں کیس کے 4 تفتیشی افسرتبدیل ہوئے ،انہوں نےاپنے  مریدین کولمحہ بہ لمحہ ان کے بارے میں آگاہ رکھنے پرمیڈیا کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ  پنجاب پولیس اور جیل کی باتیں کل کروں گا ابھی صرف اتنا ہی کہتا ہوں کہ ’’ پنجاب پولیس زندہ باد‘‘  ۔ایک ماہ بعد جیل سے رہائی کے موقع پر جیل کے باہر مفتی عبد القوی کے اہل خانہ ،دوست احباب رشتہ داروں اور مریدوں کی بڑی تعداد جمع تھی جہاں رہائی پر مفتی عبد القوی کا استقبال کیا اور ان پر پھوں کی پتیاں نچھاور کیں ۔

واضح رہے ماڈل قندیل بلوچ قتل کیس میں مفتی عبدالقوی کو19 اکتوبرکوگرفتارکیا گیا تھا ،اس سے قبل آج ملتان نیو جوڈیشل کمپلیکس میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج امیر محمد خان کی عدالت میں مفتی عبدالقوی کی درخواست ضمانت کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران مفتی عبدالقوی کے وکیل نے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ مقتولہ کا بھائی اسلم شاہین کیس میں نامزد ملزم ہے، لیکن اس کی ضمانت ہوگئی ہے جبکہ مفتی عبدالقوی پر قندیل کے بھائیوں کو اکسانے کا الزام ہے اور سعودیہ سے آنے والی نامعلوم کال پر مفتی عبدالقوی کو ملزم ٹھہرایا جا رہا ہے۔ وکیل کا مزید کہنا تھا کہ پولی گرافکس رپورٹ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ دلائل مکمل ہونے کے بعد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے مفتی عبدالقوی کی ضمانت دو لاکھ روپے مچلکوں کے عوض منظور کرلی۔ گذشتہ روز جوڈیشل مجسٹریٹ پرویز خان نے مفتی عبدالقوی کو 7 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا تھا۔ اس سے قبل گذشتہ ماہ کے آخر میں مفتی قوی کا پولی گرافک ٹیسٹ کیا گیا، جس کے دوران ان سے قندیل بلوچ قتل کیس اور مقتولہ کے بھائی سے تعلقات سمیت مختلف سوالات کیے گئے۔ تاہم پنجاب فارنزک سائنس اتھارٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ مفتی عبدالقوی نے پولی گرافی ٹیسٹ میں تعاون نہیں کیا۔یاد رہے کہ گزشتہ برس جولائی میں سوشل میڈیا پر فحش اور غیر اخلاقی ویڈیوز سے شہرت حاصل کرنے والی  ماڈل قندیل بلوچ کو ان کے بھائی وسیم نے مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کردیا تھا، مقدمے میں مقتولہ کے کزن حق نواز کو بھی نامزد کیا گیا، یہ دونوں ملزمان اس وقت ملتان جیل میں ہیں۔ مفتی عبدالقوی، قندیل بلوچ کے ہمراہ اس وقت منظرعام پر آئے تھے جب گزشتہ برس رمضان المبارک کے دوران ماڈل نے چند سیلفیز اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کیں جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے  مفتی عبد القوی کو  شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ بعدازاں قندیل بلوچ کے ساتھ متنازع سیلفیز کو جواز بناکر ان کے والد عظیم کی درخواست پر رویت ہلال کمیٹی کے سابق رکن مفتی عبدالقوی کو بھی ضابطہ فوجداری کی دفعہ 109 کے تحت مقتولہ کے بھائی کو اکسانے کے الزام میں مقدمے میں نامزد کردیا گیا تھا۔اپنی رہائی کے بعد مفتی عبد القوی کا نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ  قندیل بلوچ کے ساتھ سیلفی کے پیچھے کون سی طاقتیں کار فرما تھیں؟؟ وہ تمام صاحب عقل لوگوں کو معلوم ہیں، جیل میں گزرے دنوں کے احوال کے بارے میں میڈیا کو ضرور بتاؤں گا اور اس حوالے سے کل (بدھ کے روز ) میڈیا سے تفصیلی گفتگو کروں گا ۔