آمنہ خود سوزی کیس کے ملزم ایس ایچ او کی حرکتیں نہ بدلیں، 9 سالہ بچے کو حبس بے جا میں رکھ کرتشدد ، کرنٹ بھی لگاتا رہا

مظفرگڑھ

مظفر گڑھ (ڈیلی پاکستان آن لائن) آمنہ خود سوزی کیس کے ملزم ایس ایچ او محمد ادریس کی حرکتیں نہ بدلیں، 9 سالہ بچے کو کئی روز تک حبس بے جا میں رکھ کر شدید تشدد کا نشانہ بنایا ، دوران حراست کمسن بچے کو کرنٹ کے جھٹکے بھی دیتا رہا۔
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق ایس ایچ او تھانہ صدر مظفر گڑھ محمد ادریس نے 9 سالہ وسیم کو کئی روز تک تھانے میں محبوس رکھا اور انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بناتا رہا، ایس ایچ او نے بچے کو نامعلوم مقدمے میں ملوث کرکے عدالت پیش کیا تو عدالت نے بچے کو فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت میں وسیم کی والدہ خان پور بگا شیر کی رہائشی عقیلہ مائی نے بتایا کہ ایس ایچ او محمد ادریس نے اس کے کمسن بیٹے کو دوران حراست بجلی کے کرنٹ کے جھٹکے بھی دیے ہیں۔ عدالت نے بچے کی رہائی کا حکم دیتے ہوئے محکمہ اینٹی کرپشن کو ایس ایچ او کے خلاف مقدمہ درج کرکے کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔ مقدمہ درج ہونے کے باوجود ایس ایچ او اپنی کرسی پر براجمان ہے اور تاحال اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں : آمنہ نے زیادتی کا نشانہ بننے کے بعد خود کو آگ لگا لی ،کیا زیادتی کا شکار لڑکیاں خود کو آگ لگالیں؟ مختاراں مائی
واضح رہے کہ جنوری 2014 میں مظفر گڑھ کی 17 سالہ لڑکی آمنہ کو اجتماعی بد فعلی کا نشانہ بنایا گیا تھا، وہ اس وقت کے ایس ایچ او تھانہ مینر ہزار محمد ادریس سے انصاف کی بھیک مانگتی رہی لیکن موصوف نے اس کی فریاد پر کان نہ دھرا جس کے بعد اس نے مایوس ہو کر تھانے کے باہر خود سوزی کرلی تھی۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق ایس ایچ او محمد ادریس کے خلاف وزیر اعلیٰ پنجاب کے حکم پر آمنہ خود سوزی کیس میں مقدمہ درج کیا گیا تھا جو اب بھی زیر سماعت ہے۔