احتساب کا عمل رکنا نہیں چاہئے ، پانامہ لیکس میں موجود تمام افراد کے احتساب کے لیے دوبارہ عدالت سے رجوع کریں گے :سینیٹر سراج الحق

قومی

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ قوم نے جس عزم کے ساتھ مسلح دہشتگردی کو شکست دی ، معاشی دہشتگردی کے خاتمہ کے لیے بھی اسی جوش و جذبے اور عزم کی ضرورت ہے ۔ قوم کو سیاست سے بالاتر ہو کر معاشی دہشتگردوں کا مقابلہ کرنا ہوگا , احتساب کا جو عمل وزیراعظم کی نااہلی سے شروع ہواہے ، اب اسے رکنا نہیں چاہیے ۔ کلرک سے لے کر جرنیل اور وزیراعظم تک سب کو احتساب سے گزرنا پڑے گا ۔ نوازشریف بیرون ملک اثاثے نہ بنانے کا قانون ختم نہ کرتے تو قومی دولت بیرونی بنکوں میں جمع نہ ہوتی ۔ دفعہ باسٹھ ٹریسٹھ کو آئین سے نکالنا منہ پر لگی سیاسی دھونے کی بجائے آئنہ توڑنے کے مترادف ہے ۔ کرپشن کے خلاف ہماری تحریک جاری رہے گی ، ہم پانامہ لیکس میں موجود تمام افراد کے احتساب کے لیے دوبارہ عدالت سے رجوع کریں گے ۔ انتخابی اصلاحات کے بغیر الیکشن بے فائدہ ہوں گے ۔ فاٹا اصلاحات پر سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات پر فوری عمل کیا جائے ۔ حکومت عدالتوں کے فیصلوں پر تنقید کرنے کی بجائے اپنی کارکردگی بہتر بنائے ۔

 جماعت اسلامی کی مرکز مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد منصورہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےسینیٹر سراج الحق نے کہاکہ وزیراعظم کی نااہلی کے فیصلے سے احتساب کے جس عمل کاآغاز ہوا ہے ، قوم اسے ہر صورت میں مکمل دیکھنا چاہتی ہے ۔ جماعت اسلامی نے پانامہ کیس کے حوالے سے سپریم کورٹ میں جو پٹیشن دائر کی تھی ، اس میں پانامہ سکینڈل میں ملوث 436 دیگر لوگوں کے نام بھی موجود ہیں جنہوں نے قومی دولت لوٹ کر پیسہ باہر منتقل کیا اور آف شور کمپنیاں بنائیں ۔انہوں نے کہاکہ اگر باقی لوگوں کے خلاف کاروائی نہیں ہوتی تو لوگ وزیراعظم کےخلاف فیصلہ کو متعصبانہ قرار دیں گے ۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ احتساب صرف سیاستدانوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ بیوروکریسی ، جرنیلوں اور ججز کا احتساب بھی ہوناچاہیے اور موجودہ ججز کا اصل امتحان یہ ہے کہ کیا وہ احتساب کے اس عمل کو ججز اور جرنیلوں تک پھیلانے میں کامیاب ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ بنکوں سے اربوں روپے کے قرضے لے کر ہڑپ کرنے اور این آراو کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے والوں کو بھی احتساب کے کٹہر ے میں کھڑا کرنا ضروری ہے اور سب سے اہم مسئلہ لوٹی گئی دولت کی واپسی ہے تاکہ عوام کو تعلیم ، صحت اور روزگار کی سہولتیں میسر آئیں اور آئندہ نسل کی محرومیاں ختم کی جاسکیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہم کسی تعصب میں مبتلا نہیں اور نہ کسی کی ذات سے نفرت ہے ۔ ہم کرپشن کے خلاف ہیں اور جب تک ملک سے اس لوٹ کھسوٹ کے نظام کا خاتمہ نہیں کر لیتے ، ہماری جدوجہد جاری رہے گی ۔ انہوںنے کہاکہ اسٹیٹ بینک کے پاس یہ اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ غریب کی بجائے دولت مندوں کو اربوں روپے کے قرضے دے کر معاف کر دے ۔انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ ایک قدم آگے بڑھے اور احتساب کا ایک مستقل نظام بنائے تاکہ آئندہ کسی کو قوم کی ایک پائی بھی لوٹنے کی جرا ¿ت نہ ہو ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ حکومت پارلیمنٹ کے رواں اجلاس میں انتخابی اصلاحات کا بل پیش کرے تاکہ انتخابات سے قبل ان اصلاحات کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے سکے ۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت نے انتخابی اصلاحات سے متعلق اپنے وعدوں اور کمٹمنٹس پر عمل نہیں کیا ۔ بہتر یہ ہے کہ حکومت اپنی باقی مدت میں اپنے سابقہ وعدوں کو عملی جامہ پہنائے اور انتخابات سے قبل انتخابی اصلاحات کے نفاذ کو یقینی بنائے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ گڈ گورننس کے لیے ضروری ہے کہ نئے وزیراعظم اداروں کو مضبوط بنائیں ۔ ایک سوال کے جواب میں سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ نئے وزیراعظم کو پہلے قائداعظم ؒ یا علامہ اقبال ؒ کے مزار پر جاناچاہیے تھا لیکن انہوں نے نوازشریف کے پاس مری جا کر بھی کوئی غیر آئینی کام نہیں کیا ۔ایک دوسرے سوال کے جواب میں سراج الحق نے کہاکہ حلقہ این اے 120 کے بارے میں لاہور کا مقامی نظم فیصلہ کرے گا ۔ بہتر ہے کہ اپوزیشن مل کر الیکشن لڑے ۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں اپنی نئی نسل کو شائستگی اور تحمل و برداشت کا درس دینا چاہیے ۔ ہم شائستگی کے قائل ہیں اور نفرتیں اور دشمنیاں پالنے کے خلا ف ہیں ۔