سانحہ سندر، ریسکیو کارروائیاں جاری،23افراد جاں بحق ،100سے زائد مزدور زندہ نکال لیئے گئے،ایک کونکالنے کیلئے ٹانگیں کاٹنی پڑیں

قومی

لاہور(مانیٹر نگ ڈیسک ) لاہور کے علاقے سندر میں فیکٹری کو پیش آنے والے سانحے کے بعد سے اب تک عمارت کے ملبے سے 100سے زائد مزدوروں  کوزندہ جبکہ 23 کی لاشیں نکال لی گئیں ۔ 200سے زائد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔زندہ نکالے جانے والوں میں ایک شخص ایسا بھی ہے جس کی دونوں ٹانگیں کاٹ کر ملبے سے نکالا گیا ہے ۔ملبے سے نکالنے کے بعد اسے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں اس کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ادھر ایک اور شخص کی لاش نکال لی گئی ہے جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 19ہو گئی ہے ، ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ 17 گھنٹے سے جاری ریسکیو آپریشن میں اربن پاک فوج کے 250جوان امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ریسکیو آپریشن میں جدید ترین مشینری اور خصوصی مہارت کے حامل افراد حصہ لے رہے ہیں۔اپنے بچوں اور اہلخانہ کیلئے دو وقت کی روٹی کمانے کیلئے گئے افراد کو کیا خبر تھی کہ ا±ن پر اچانک قیامت ٹوٹ پڑے گئی۔ سندر انڈسٹریل اسٹیٹ میں فیکٹری کی عمارت کیا ڈھیر ہوئی کئی خواب چکنا چور ہو گئے۔ حادثے کے بعد امدادی کارروائیاں فوری طور پر شروع کردی گئیں۔ فوج ، ریسکیو اہلکار اور بحریہ ٹاون کی ٹیموں نے ملبے سے زخمیوں کو نکالا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق کنکریٹ کے ملبے میں دبے مزدوروں کو بچانے فوج کی 250رکنی ٹیم امدادی کارروائیوں میں مصروف ہے۔ پاک فوج کے جوانوں میں قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے خصوصی طور پر تربیت یافتہ دستہ بھی شامل ہے۔پاک فوج کی ٹیم بھاری مشینری بھی اپنے ہمراہ لائی ہے جن میں ملبہ اٹھانے کے لیے دو ہائیڈرالک جیک ، 2 جنریٹرز ، ایکسویٹرز ، ڈمپرز اور ایمبولینسز شامل ہیں ۔نجی ٹی وی کے مطابق ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کے لیے دو سراغ رساں کتے بھی لائے گئے ہیں۔ جنرل آفیسر کمانڈنگ لاہور میجر جنرل طارق امان نے جائے حادثہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ریسکیو کارروائیوں کو مانیٹر کیا۔ امدادی کاموں میں شہری بھی کسی سے پیچھے نہ رہے اور حتیٰ الوسع مدد کرتے رہے۔ملبے سے زندہ نکالے جانے والے ایک مزدور نے بتایا کہ ملبے تلے تقریبا دوسو مزید افراد دبے ہوئے ہیں ،ملبے تلے دبے لوگ رو رہے تھے مدد کیلئے پکار رہے تھے۔علاوہ ازیں فیصل آباد سے آنے والی 20رکنی اور سیالکوٹ سے آنے والی 18رکنی ریسککیو کی ٹیمیں بھی امدادی آپریشن کیلئے پہنچ گئی ہیں۔علاوہ ازیں ڈی سی او لاہور محمد عثمان کا کہناہے کے زندہ افراد کو با حفاظت نکالنے کےلئے کوشاں ہیں اس لیئے ریسکیو ٹیمیں محتاط انداز میں کام کررہی ہیں۔انہوں نے کہا بلڈنگ کے تینوں لینٹرزمین بوس ہوچکے ہیں،ہلاکتوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اب تک 18 افراد کی لاشیں جبکہ 102افرادکو زندہ نکال لیا یا ہے۔