ٹرمپ نے امت مسلمہ کے زخموں کو مزید گہرا اور مسلمانوں کا مستقبل جنگ کی طرف دھکیل دیا ،او آئی سی اُمہ کے جذبات کی حقیقی ترجمانی کا فرض ادا کرے :مولانا فضل الرحمن

قومی

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارلحکومت تسلیم کرنے اور   تل ابیب سے اپنا سفارت خانہ منتقل کرنے کی شدید مذمت اور اس امریکی فیصلے کو مسترد  کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ گذشتہ 15 ،سولہ سال سے  عالم اسلام میں جنگ بھڑکانے کی جس روش پر گامزن ہے ،اس اعلان نے زخم اور بھی گہرے کر دیئے اور مسلمانوں کا مستقبل جنگ کی طرف دھکیل دیا ہے ،امریکہ خطے میں امن نہیں چاہتا کیونکہ اس اعلان سے مشرق وسطی مٰن امن کی کوششوں کو ثبوتاژ کرنے کا سب بن چکا، پوری قوم کسی تفریق کے بغیر کل ملک بھر میں فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا ثبوت اور وحدت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک گیر احتجاج میں اپنا بھر پور کردار ادا کرے ۔

یہ بھی پڑھیں:بالآخر سعودی عرب اور ڈونلڈ ٹرمپ کا ہنی مون ختم، لڑائی ہوگئی، ٹرمپ نے اسرائیل پر مہربانی کے بعد سعودی عرب کے خلاف ایسا اعلان کردیا کہ سعودی حکومت کو ہلا کر رکھ دیا

تفصیلات کے مطابق اپنے ویڈیو پیغام میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ اور قومی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ اس اعلان سے امریکی صدر نے تمام بین الاقوامی اصولوں ،عالمی اداروں کے قوانین، قوموں کے آزادی کے حق  اور ان کے انسانی حقوق کی نفی کی ہے ،فلسطینی جو اپنی سرزمین کو اسرائیل کو آزاد کرانے اور بیت المقدس کو صیہونی استعمار سےبازیاب کربنے کے لئے قربانیاں دیتے چلے آ رہے اور لاکھوں فرزندان فلسطین اس راستے میں اپنے خون کا نذرانہ پیش کر چکے، اپنے بچے یتیم کرا چکے اور وہاں کی خواتین نے اپنے سہاگ قربان کر دیئے ہیں ،ایسی قوم کی اتنی بڑی قربانیوں کے بعد امریکی صدر ٹرمپ کے اس اعلان نے مسلمانوں کے جسم میں زخم کو اور بھی گہرا کر دیا ہے۔انہوں نے  پوری پاکستانی قوم سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر وہ اپنا  بھر پور ملی وحدت کا مظاہرے کرے اور کل جمعہ کے اجتماعات میں ٹرمپ کے اس اعلان کے خلاف اپنا بھر پور احتجاج امریکیوں ،عالمی اداروں اور دنیا کے سامنے رکھیں ،جبکہ آئمہ کرام اور خطبا حضرات جمعہ کے اجتماعات میں اپنے خطبات میں اس اقدام کی مذمت اور قرادادیں بھی پاس کریں۔انہوں نے او آئی سی اور  امت مسلمہ سے اپیل  کرتے ہوئے کہا  کہ ان کی آواز ایک ہونی چاہئے ،فلسطینیوں اور بیت المقدس کی آزادی کے حق ، ایک اصول کی سربلندی اور آزادی کے عظیم اصولوں  کی سربلندی کے لئے ہمیں ایک آواز بن کر فلسطینیوں کا ساتھ دینا ہو گا ۔مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ کے اس اعلان کو ہم مسترد کرتے ہیں اور  اسلامی تنظیم کانفرنس کے سربراہان سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ امت مسلمہ کے جذبات کے ترجمان بنتے ہوئے امت مسلمہ کی حقیقی ترجمانی کا حق ادا کریں ،ہم بھی اس حوالے سے اپنا احتجاج پوری دنیا کے سامنے رکھیں گے ۔

ڈیلی پاکستان کا یو ٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کے لیے یہاں کلک کریں