شریف خاندان کے کیسز کا فیصلہ حقائق پر مبنی ہے،عدالتوں سے محاذ آرائی نہیں کرنی چاہیے ،ن لیگ کا دو دھڑوں میں بنٹنے کا تاثر درست نہیں، آزاد ملک اپنے علاقے میں کسی کو جوائنٹ آپریشن کی اجازت نہیں دے سکتا:چودھری نثار

قومی

ٹیکسلا (ڈیلی پاکستان آن لائن )سابق وفاقی وزیر داخلہ اور مسلم لیگ ن کے رہنما چودھری نثار نے کہا ہے کہ میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کے کیسز پر میرا پہلے دن سے یہ موقف رہا ہے کہ شریف خاندان کے کیسز کا فیصلہ حقائق پر مبنی ہے اور مزید کیسز کا فیصلہ عدالتوں میں ہونا ہے۔ اگر ہم سمجھتے ہیں کہ ایک عدالت میں انصاف نہیں ہوا تو ہمیں دوسری اور پھر تیسری عدالت میں جانا چاہیے لیکن کیسز کے فیصلے عدالت میں ہی ہوں گے۔ ان کا کہنا تھاکہ اسوقت ملک میں جمہوریت اور قانون ہے، عدالت حقائق کے مطابق فیصلہ کر رہی ہے،عدالتی فیصلے تسلیم کرنے چاہئیں، کسی قسم کی محاذ آرائی نہیں ہونی چاہئے، اس کا نقصان نواز شریف اور پارٹی کو ہوگا، جمہوری اور مہذب معاشروں میں فیصلے عدالتیں ہی کرتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ شاہد خاقان عباسی نے کابینہ کے اجلاس میں عدالتوں کے خلاف بیانات دینے سے منع کیا ،اس کے بعد ن لیگ کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں بھی اداروں کے خلاف محاذ آرائی روکنے کی بات کی گئی ،وزیر اعلیٰ پنجاب نے بھی میٹنگز اور عوامی اجتماعات میں اداروں کے خلاف محاذ آرائی بند کرنے کے بیانات دیے ،لیکن اس کے باوجود ایسا کیوں ہو رہا ہے ،وزیراعظم کو اس پر نوٹس لے کر اس عمل کو بند کرانا چاہیے ۔

مزید خبریں :شریف خاندان کے خلاف فیصلہ حقائق پر مبنی ہے: چوہدری نثار
ٹیکسلا میں میڈ یا سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی آزاد ملک اپنے علاقے میں کسی کو جوائنٹ آپریشن کی اجازت نہیں دے سکتا ،اگر کسی اور طاقت کو ملک میں آپریشن کرنے کی اجازت دیں تو یہ ملک کو خطرے میں ڈالنے کی بات ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ملک میں کہیں آپریشن ہونا ہے تو سیکیورٹی فورسز میں صلاحیت ہے کہ وہ خود آپریشن کریں ،ہمیں فوج اور انٹیلی جنس اداروں کی صلاحیتوں پر بھرپور اعتماد ہے، پاک فوج دنیا کی 5 ویں بڑی فوج ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان میں آپریشن ہماری تضحیک ہے، خود مختار ملک اپنی حدود میں آپریشن کی اجازت نہیں دے سکتا، پاکستان میں آپریشن کیلئے ہماری اپنی فورسز ہی کافی ہیں۔ چوہدری نثار نے کہا کہ اگر کسی نے کسی کو خوش کر نے کے لیے جوائنٹ آپریشن کرنے ہیں تو یہ بائی لیٹرل بائی لیٹرل ہونا چاہیے ،افغانستان میں بھی دن کے اجالے میں دہشت گرد گروپ آپریٹ کر رہے ہیں ،افغانستان میں بھی جوائنٹ آپریشن ہونا چاہیے ۔انہوں نے کہا اپنے گھر کی صفائی سے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میرا موقف واضح ہے کہ اپنے گھر کی صفائی ضروری ہونی چاہیے لیکن اس حوالے سے بار بار بیانات نہیں دئیے جانے چاہیے ،ان بیانات سے بھارت اور امریکہ کے بیانیے کو تقویت ملتی ہے ۔

مزید خبریں:کسی بھی چینل کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے: چوہدری نثا ر
انہوں نے واضح کیا کہ مسلم لیگ میں کوئی فاروڈ بلاک نہیں بن رہا،ن لیگ کا دو دھڑوں میں بنٹنے کا تاثر درست نہیں ،جس طریقے سے جماعت چل رہی ہے اس طرح چلتی رہے گی اور میں اپنی بات کرتا رہوں گا،میری اپنی جماعت سے کمٹمنٹ ہے جو کہ ساری عمر نبھائی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ 2013سے پہلے میری پارٹی قیادت سے کوئی ناراضگی نہیں تھی لیکن اس کے بعد دو تین واقعات ہوئے جس سے لگا کہ مجھے فیصلہ سازی سے دور کیا جا رہا ہے ۔چودھری نثار نے بتا یا کہ 2013سے پہلے میں مشورے دیتا تھا ،اگر ان پر عمل نہیں بھی ہوتا تھا تو میں ناراض نہیں ہوتا تھاکیو نکہ میری بات سنی جاتی تھی لیکن پھر ایسا محسوس ہوا کہ میری درست بات کو منفی انداز میں لیا جا رہا ہے ۔انہوں نے بتا یاکہ 7ماہ پہلے میں نے نواز شریف سے ملاقات کر کے کہا کہ مجھے لگتا ہے میری باتوں کو مثبت طریقے سے نہیں لیا جاتا اس پر نواز شریف نے کہا ایسا نہیں ہے آپ اپنا موقف دیا کریں لیکن پھر بھی مجھے فیصلہ سازی سے دور رکھا گیا ۔۔

مزید خبریں :چودھری نثار نے مریم نواز کو مسلم لیگ ن کے لیے خطرہ قرار دے دیا