پاک فوج میں قادیانی بھرتی ہو سکتے ہیں یا نہیں؟ حقیقت سامنے آگئی

قومی

راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن )ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور باجوہ نے کہا ہے کہ پاک فوج میں خاص مسلک کے لوگوں کے آنے پر کوئی پابندی نہیں ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ پاک فوج میں ہرمسلمان افسر ایک سرٹیفکیٹ سائن کرتا ہے جس میں ختم نبوت پر یقین رکھنا ڈکلیئر ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا ہے کہ پاک فوج میں ہر مذہب ، فرقے ، رنگ اور نسل کے لوگ شامل ہیں ، ہماری فوج قومی یکجہتی کی درخشندہ مثال ہے ، یہاں ایسی کوئی پابندی نہیں کہ اس میں خاص مسلک کے لوگ آئیں گے،کیپٹن صفدر بھول رہے ہیں کہ پاک فوج میں شمولیت کے وقت مسلمان فوجیوں کو ختم  نبوت ﷺ  پر حلف دینا ہوتا ہے۔ 

پاکستان کی سرحدوں میں مشترکہ آپریشن کی کوئی گنجائش نہیں، خفیہ معلومات کا تبادلہ ہیں تعلقات کو بہتر بنا سکتا ہے: میجر جنرل آصف غفور
نجی ٹی وی کے پروگرام” دنیا کامران خان کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے ہوئے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ پاک فوج ایک قومی فوج ہے اور یہ قومی ہم آہنگی کی ایک بہترین مثال ہے، جہاں تک کیپٹن (ر) صفدر کے قومی اسمبلی میں بیان کا تعلق ہے تو شاید وہ بھول رہے ہیں کہ پاک فوج میں شمولیت کے وقت ہر مسلمان فوجی کو ایک حلف نامے پر دستخط کرنا پڑتا ہے کہ وہ قادیانی نہیں اور ختم نبوت ﷺ پر مکمل یقین رکھتا ہے ۔ پاک فوج میں مختلف مذاہب کے لوگ شامل ہیں اور جب وہ فوجی وردی پہن لیتے ہیں تو ان کا پہلا مقصد پاکستان کا دفاع ہوتاہے۔