ضرورت پڑی تو حسن اور حسین کی گرفتار ی کے لئے انٹرپول کو خط لکھ دیں گے:شاہد خاقان عباسی

قومی

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ حسن اور حسین نے وطن واپسی اور اپنے کیسز کے دفاع کا فیصلہ خود کرنا ہے ،اگر ان کی گرفتاری کے حوالے سے انٹرپول کو خط لکھنا پڑا تولکھ دیں گے۔

طالبان کے چنگل سے بازیاب کرائے گئے غیرملکی جوڑے کے ہاں دوران قید 3بچوں کی پیدائش ہوئی
نجی چینل ”ڈان نیوز“کے پروگرام ”نیوز آئی“میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ کابینہ میں اس وقت اسحاق ڈار سے بہترکوئی وزیر خزانہ کااہل نہیں ،اسحاق ڈار پہلے 16 گھنٹے کام کرتے تھے اب 12 گھنٹے کرتے ہیں،4گھنٹے ان کواپنے کیس کی تیاری میں دینے پڑتے تھے،جب تک عدالت فیصلہ نہیں کرتی اسحاق ڈارکوعہدے پر رہنے کاحق ہے، اگر وہ اپنا کام نہ کرتے تو نکال دیتا۔ان سے استعفی کی لینے کی خبریں بے بنیاد ہیں۔

ایف آئی اے کی کارروائی، غیر قانونی طور پر گردوں کی پیوند کاری کرنے والے 7افراد کو حراست میں لے لیا
ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کی ناکامی کا اعتراف سب سے پہلے میں کرتا ہوں،اس ادارے کا ایک ہی حل ہے کہ اس کی نجکاری کر دی جائے ،لیکن اس معاملے میں ہمیں عدالتوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔پاکستان سٹیل مل بھی خسارے میں چل رہی ہے ،ملک کے کوئی بھی صوبہ اس کے انتظام سنبھال لے ہمیں کوئی اعتراض نہیں ،ہم نے حکومت سندھ سے کہا آپ پاکستان اسٹیل ایک ارب  روپے میں لے لیں،حکومت کے پاس کوئی ایسا ادارہ نہیں جہاں پاکستان اسٹیل کے ملازمین کو بھیجا جائے۔
ملک کی معیشت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہمارے حکومت میں آنے کے بعد آج پاکستان بہت بہتر پوزیشن میں ہے،ایکسپورٹس کے ایشو ہیں ، ایکسپورٹس پالیسی ایک دن میں لاگو نہیں ہوجاتی، تاہم  ایکسپورٹ کوبڑھانےکی کوشش کررہے ہیں۔کوئی ادارہ اکیلے کام نہیں کرسکتا،تمام ادارے مل کر ملک کی بہتری کےلیے کام کریں،حکومتیں تبدیل ہوتی ہیں،معاشی پالیسیاں چلنی چاہیے۔
قطر ایل این جی کے معاہد ے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ میں نے کیا تھا ،میں آج بھی اس کاذمہ دار ہوں ،ایل این جی حکومت سے حکومت کامعاہدہ ہے معاہدہ خفیہ رکھناشرط ہے،شیخ رشید مجھے جانتے ہیں ،میں ان کوجانتا ہوں ،مجھ پر الزام وہ شخص لگائے جس کا اپنا دامن صاف ہو۔

حکومت اب کسی چینل کے خلاف کوئی شکایت نہیں کرئے گی، وسائل کا ضیاع ہے۔ ٹی وی چینلز کے خلاف عدالتوں میں 975 مقدمات ہیں انہیں ختم کرنے کا حکم دیا ہے، 88 ٹی وی چینلز اوسطا 8 لاکھ فیس ادا کرتے ہیں۔
میڈیا سیل کا اپنا ایک رول ہے جو پارٹی کے لئے کام کرتے ہیں۔