حکمران ٹولہ آئین کو بدلنے کی بجائے اپنے آپ کو بدلے، آئین کو چھیڑنے والے جرنیلوں کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کرتے ہوئے احتساب کیا جائے:سراج الحق

قومی

نوشہرہ(ڈیلی پاکستان آن لائن)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ آئین پاکستان ملکی سالمیت و بقاءکی ضمانت ہے،آئین کے دفعہ 62/63کوچھیڑنا ملکی سالمیت و جغرافیائی حدود کو چھیڑنے کی مترادف ہے،حکمران ٹولہ آئین کو بدلنے کی بجائے اپنے آپ کو بدلے،ہم آئین کو کسی صورت بدلنے نہیں دینگے، پاکستان کے آئین میں اللہ کی حاکمیت کو تسلیم کیاگیا ہے اور نبی ﷺ کو آخری نبی تسلیم کیا گیاہے،  آئین کو چھیڑنے والے جرنیلوں کااحتساب بھی کیا جائے اور ان کے خلاف دفعہ 6  کے تحت کاروائی کی جائے.

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پبی میں تحریک نجات پارٹی پاکستان کے جماعت اسلامی میں انضمام کے حوالے سے منعقدہ بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر جنرل سیکرٹری تحریک نجات جواد بنی سینا نے اپنی پارٹی کو جماعت اسلامی میں اوراپنے اثاثوں کو جماعت اسلامی کیلئے وقف کرنے کا بھی اعلان کیا، جبکہ امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا مشتاق احمد خان ،امیر جماعت اسلامی ضلع نوشہرہ حاجی انوار الاسلام اور دیگر نے بھی جلسے سے خطاب کیا
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ مسئلہ حکمرانوں کی انا کا ہے، حکمران اپنے آپ کو اور اپنی خواہشات کو بدلنے کی بجائے ملکی آئین کو بدلنے پر تلے ہوئے ہیں ، آئین پاکستان کو بدلنا قادیانیوں کی سب سے بڑی اور دلی خواہش ہے کیونکہ پوری دنیا میں واحد ہماراآئین ہے، جسمیں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکمران آئین اور ملکی سالمیت کو چھیڑنے کی بجائے اپنے آپ کو بدلیں اور سارے اختیارات کو ایک فرد کے ہاتھ میں دینے کی بجائے جمہور کے لئے سوچیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے حکمرانوں نے عوام کو مہنگائی اور بے روزگاری اور مایوسیوں کے تحفے دیئے ، جرنیل ہو،سیاستدان یا بیوروکریٹس ان سب کانہ صرف بھرپور احتساب ہو بلکہ آئین کی دفعہ باسٹھ اور تریسٹھ کو ان کیلئے لازمی قرار دیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ ان تمام جرنیلوں کا بھی احتساب ہو اور دفعہ چھ لاگو ہو جنہوں نے پاکستان کے آئین کو چھیڑاہو، ملک میں قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے اور اداروں کے درمیان ٹکراﺅ کی صورتحال پیدا نہ کی جائے ۔ نوازشریف اور مشرف سمیت سب کو قانون کے دائرے میں لائے بغیر قانون کی حکمرانی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا ،  ملک آئین کی بالادستی سے ہی ترقی اور خوشحالی کی طرف بڑھے گا۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ہم کسی سے ذاتی اختلاف نہیں رکھتے ہم ملک و قوم کے مفاد کی بات کرتے ہیں ہم اپنے آئین کی بالادستی کی بات کرتے ہیں اور اس میں عوام کی فلاح ہے کیونکہ آئین عوام کو تحفظ دینے کی بات کرتا ہے آئین عوام کو بنیادی سہولیات دینے کی بات کرتا ہے ۔