نواز شریف پر تنقید دراصل پاکستان پر تنقید ، مریم نواز کی حیثیت کا فیصلہ قوم کرچکی، پاناما کیس ہارنے پر اپیل نہیں کریں گے: مریم اورنگزیب

قومی

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ جو لوگ وزیر اعظم نواز شریف پر تنقید کرتے ہیں وہ دراصل پاکستان کے دشمنوں کے ہاتھوں کو مضبوط کر رہے ہیں۔ وہ تنقید تو میاں نواز شریف پر کرتے ہیں لیکن درحقیقت وہ (ریاست) پاکستان کے خلاف بات کر رہے ہوتے ہیں۔ مریم نواز لوگوں کے دلوں میں بستی ہیں اور ان کی حیثیت کا فیصلہ یہ قوم کرچکی ہے۔ پاناما کیس میں اپنے خلاف فیصلہ آ بھی گیا تو وزیر اعظم اس کے خلاف کوئی اپیل نہیں کریں گے۔
پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نواز شریف بین الاقوامی لیڈر بن چکے ہیں اس لیے کچھ طاقتوں کو ان کی یہ ترقی ہضم نہیں ہو رہی ۔ جو لوگ میاں نواز شریف پر تنقید کرتے ہیں وہ درحقیقت دشمنی تو میاں نواز شریف کے ساتھ کر رہے ہیں لیکن دراصل وہ پاکستان مخالف طاقتوں کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں، وزیر اعظم نواز شریف پر تنقید دراصل (ریاست) پاکستان پر تنقید ہے۔

ترکی میں اغوا نوجوانوں کے اہلخانہ نے ایف آئی اے کو موبائل اورسوشل میڈیا ریکارڈدے دیا
انہوں نے کہا کہ آج جب مریم نواز نے اسلام آباد میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کیا تو سوال اٹھایا گیا کہ وہ کس حیثیت میں پارلیمنٹ یا ارکان پارلیمان سے خطاب کر سکتی ہیں۔ میں بتانا چاہتی ہوں کہ مریم نواز پاکستان کے لوگوں کے دلوں میں بستی ہیں اور قوم نے ان کی حیثیت کا فیصلہ پہلے ہی کردیا ہے۔
مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ سائبر قوانین کے تحت جب کوئی کارروائی کی جاتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ حکومت انتقامی سیاست کر رہی ہے، کوئی ادارہ خواہ وہ الیکشن کمیشن ہی کیوں نہ ہو جب کوئی کارروائی کرتا ہے توعمران خان کہتے ہیں کہ یہ ادارہ مسلم لیگ ن کے ساتھ ملا ہوا ہے۔
پاناما کیس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف نے استثنیٰ حاصل ہونے کے باوجود ٹرائل کا سامنا کیا جبکہ پی ٹی آئی سپریم کورٹ کے فیصلے پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔ اگر پاناما کیس کا فیصلہ اپنے خلاف آبھی گیا تو بھی وزیر اعظم کہیں بھی اس فیصلے کے خلاف اپیل نہیں کریں گے۔
مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اپنے دور حکومت میں وزیر اعظم نے بہت سے منصوبوں کے فیتے کاٹے جس کی عمران خان کو تکلیف ہے اور طرح طرح کے الزامات لگاتے رہتے ہیں حالانکہ ابھی تک کوئی بھی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا جس میں وزیر اعظم نے کسی ادارے پر دباﺅ ڈالا ہو، تمام قومی و بین الاقوامی سرویز میں وزیر اعظم نواز شریف کو مقبول ترین لیڈر قرار دیا گیا۔