سندھ حکومت کو اسٹیل مل ایک ارب روپے میں لے لینے کی آفر کی ،جب تک عدالت فیصلہ نہیں سناتی اسحاق ڈارکوعہدے پررہنے کاپوراحق ہے: شاہد خاقان عباسی

قومی

اسلام آباد(آن لائن)وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے کہاہے کہ ہم نے سندھ حکومت کوآفرکی ہے کہ اسٹیل مل ایک  ارب روپے میں لے لیں ، عدالتی فیصلوں نے ملک میں مالی بحران پیداکیا،پاکستان کومعاشی چیلنجزہیں ان پربھی قابوپالیں گے ،اسحاق ڈارسے بہترکوئی وزیرخزانہ نہیں ،جب تک عدالت فیصلہ نہیں سناتی اسحاق ڈارکوعہدے پررہنے کاپوراحق ہے ،ایل این جی معاہدے کے نفع اورنقصان کاذمہ دارہوں ،معاہدے کے حوالے سے تمام حقائق سے پارلیمنٹ سے آگاہ کرچکا ہوں ،کیپٹن (ر )صفدرکابیان اشتعال انگیزہے ،نوازشریف مجھے اورپارٹی کوان کے بیان سے اتفاق نہیں ،ان سے بیان کے متعلق پوچھاجائیگا،پی آئی اے کی بہتری کاواحدراستہ اس کی نجکاری ہے ،حسن اورحسین نوازنے مقدمہ کے دفاع کافیصلہ خودکرناہے ،ضرورت پڑی توانٹرپول کوخط لکھ دیں گے ۔
نجی ٹی وی کوانٹرویودیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ عوام نے نوازشریف کومنتخب کیاتھا،28جولائی کافیصلہ تاریخ پرچھوڑدیں ،اسحاق ڈارکے بارے میں ہمیں کسی ادارے نے نہیں کہاکہ وہ اسحاق ڈارکے ساتھ کام نہیں کریگا۔اسحاق ڈارپہلے16گھنٹے کام کرتے تھے اب 12گھنٹے کام کرتے ہیں ،4گھنٹے وہ اپنے کیس پرلگاتے ہیں ،اسحاق ڈارسے بہتروزیرخزانہ کوئی نہیں ۔وزیراعظم نے کہاکہ کیپٹن صفدرکے جوابدہ نہ نوازشریف ہیں نہ میں ہوااورنہ اسمبلی ہے ،کیپٹن صفدرنے جوتقریرکی انہوں نے اپنے جذبات کااظہارکیا۔کیپٹن صفدرسے ضرورپوچھوں گاکہ انہوں نے کس سے اجازت لیکربات کی ۔انہیں کہوں گاکہ ایسی بات نہ کریں جس سے انتشارکاخدشہ ہو۔نوازشریف کادامادہونے کے سبب کیپٹن صفدرکی ذمہ داری ہے کہ وہ ذمہ داری کامظاہرہ کریں ،شاہدخاقان عباسی نے کہاکہ میں شیخ رشیدکواوروہ مجھے جانتے ہیں ،یہی شیخ رشیدکی بدقسمتی ہے ۔حسن اورحسین نوازنے واطن واپس آنے اورکیسزکادفاع کرنے کافیصلہ خودکرناہے ۔ضرورت پڑی توانٹرپول کوخط لکھیں گے ۔انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ ن کی حکومت آنے سے ملکی معیشت بہترہوئی ہے ۔ملکی معیشت کمزورہوتونقصان سب کوہوتاہے اسی تناظرمیں آرمی چیف نے تجاویزدیں ،ہمیں مل بیٹھ کرمسائل کاحل نکالناہوگا۔وزیراعظم نے کہاکہ پی آئی اے کی ناکامی کااعتراف سب سے پہلے میں کرتاہوں ،پی آئی اے کی بہتری کاواحدراستہ اس کی نجکاری ہے ،ایکسپورٹ کے مسائل ہیں ،ایکسپورٹ پالیسی ایک دن میں مرتب نہیں ہوجاتی ۔
وزیراعظم نے کہاکہ ہمارے پاس ایساکوئی ادارہ نہیں کہ جس میں اسٹیل مل کے ملازمین کوبھیج سکیں ،ایل این جی معاہدے کے نفع نقصان کامیں خودذمہ دارہوں ۔خواجہ سعدرفیق نے ریلوے کوخسارے سے نکال لیاہے ،ہم نے سندھ حکومت کوآفرکی ہے کہ اسٹیل مل ایک روپے میں لے لیں ۔انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ کے اندرجوکچھ ہورہاہے وہ تماشابن چکاہے ،عدلیہ کے فیصلے سے ملک میں بحران پیداہواہے ۔وزیراعظم نے کہاکہ ملک کومعاشی چیلنجزدرپیش ہیں ،قابوپالیں گے ،کروڑوں پاکستانی ملک سے باہرسرمایہ لگاتے ہیں ،پیسہ کماتے ہیں نیب تحقیقات کرے ،ایکسپورٹ کوبڑھانے کی کوشش کررہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اسحاق ڈارکومستعفی ہونے کامشورہ نہیں دیا،استعفیٰ مانگنے کی باتیں بے بنیادہیں ،اسحاق ڈارکے خلاف جب تک فیصلہ نہیں آجاتاوہ وزیرخزانہ رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ مختلف ٹی یوی چینلزکے خلاف 975مقدمات ہیں جنہیں ختم کرنے کا حکم دیا ہے ،88چینلز اوسطاً 8لاکھ فیس اداکرتے ہیں،پیمرا متنازعہ قوانین ختم نہیں کرسکتاپیمرا کچھ کرنے لگے تو عدالت روک لیتی ہے ۔وزیر اعظم نے کہاکہ حکومتیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں معاشی پالیسیاں جاری رہنی چاہئیں کوئی ادارہ اکیلے کام نہیں کرسکتاملک کی بہتری کیلئے سب کو ملک کو کام کرنا ہوگا ۔