سی پیک کے کل 50 ارب ڈالر میں سے چینی کمپنیاں اب تک پاکستان میں کتنے ارب ڈالر لگاچکی ہیں؟ جواب جان کر پاکستانی واقعی خوشی کے مارے بھنگڑے ڈالیں گے کیونکہ۔۔۔

قومی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاک چین اقتصادی راہداری کے عظیم الشان منصوبے کے آغاز سے ہی جہاں چین اور پاکستان نے اسے گیم چینجر اور تاریخ ساز منصوبہ قرار دے رہے ہیں تو وہیں پاکستان کے دشمنوں نے اس کے بارے میں شکوک و شبہات پھیلانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔جو بھی لوگ عوام کو مایوس اور گمراہ کرنے کے لئے کہہ رہے تھے کہ نجانے اس منصوبے کا مستقبل کیا ہوگا، اور کون جانے یہ کب پایہ تکمیل کو پہنچے گا، انہیں یہ جان کر یقیناًگہرا صدمہ پہنچے گا کہ چینی کمپنیاں پاکستان میں 30 ارب ڈالر (تقریباً 30 کھرب پاکستانی روپے) کی سرمایہ کاری کر بھی چکی ہیں۔
ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین سرتاج عزیز نے گزشتہ روز ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے ، جس کے تحت موجودہ 20 ہزار میگا واٹ کی تنصیب شدہ کپیسٹی میں مزید 17 ہزار میگا واٹ کا اضافہ ہوگا۔ اس موقع پر انہوں نے انکشاف کیا کہ چینی کمپنیاں پہلے ہی اس منصوبے کے تحت 30 ارب ڈالر (تقریباً 30 کھرب پاکستانی روپے)کی سرمایہ کاری کرچکی ہیں جبکہ یہ منصوبے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت لگائے جارہے ہیں۔ توانائی کی پیداوار کے ساتھ ٹرانسمیشن کی گنجائش میں اضافہ بھی جاری ہے۔ مالی سال 2016-17ء کے دوران نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کی ٹرانسمیشن کپیسٹی میں 3000 میگا وولٹ ایمپیئر (MVA) کا اضافہ ہوا ہے۔
سرتاج عزیز نے مزید بتایا کہ حکومت کی جانب سے توانائی پالیسی کومہنگی تھرمل پاور سے انرجی مکس کی جانب منتقل کرنا دیرپا معاشی ترقی کا سبب بنے گا۔ ان کا کہنا تھا ’’حکومت مختلف ذرائع سے توانائی پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے جن میں شمسی، آبی اور ہوائی ذرائع شامل ہیں جبکہ ایل این جی اور کوئلے کے پراجیکٹ بھی لگائے جارہے ہیں۔‘‘ وہ انٹرنیشنل کانفرنس آن سسٹین ایبل انرجی ٹیکنالوجیز سے خطاب کررہے تھے۔