سیاست اور جمہوریت کو کرپٹ اشرافیہ نے یرغمال بنا رکھا ہے ،حکمرانوں کے دروازے عوام کیلئے بند ، مودی اور جندال کیلئے کھلے ہیں:سینیٹر سراج الحق

قومی

گجرات(ڈیلی پاکستان آن لائن)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے قوم سے اپیل کی ہے کہ” اسٹیٹس کو “کے ظالمانہ شکنجہ کو توڑنے کیلئے میرا ساتھ دیں ،اسٹیٹس کو کے مسلط کردہ ظالمانہ نظام میں عام آدمی کیلئے کچھ نہیں ،سیاست اور جمہوریت کو کرپٹ اشرافیہ نے یرغمال بنا رکھا ہے ، نام نہاد جمہوریت اور فوجی آمریت میں اسی اشرافیہ کے وارے نیارے ہوتے ہیں ،  کرپشن ختم ہوجائے اور لوٹی دولت واپس آجائے تو عوام کو تعلیم صحت اورچھت کی سہولتیں مفت دی جاسکتی ہیں ، سپریم کورٹ نے لٹیروں کا احتساب نہ کیا تو عوام چوکوں اور چوراہوں میں ڈاکوﺅں کے اس ٹولے کا احتساب کریں گے ، ڈان لیکس جیسے قومی سلامتی کے مسئلے میں اصل مجرموں کو بچانے کیلئے چند معصوم لوگوں کو قربانی کا بکرا بنایا گیا مگر حکمران یاد رکھیں یہ معاملہ چھپا نہیں رہے گا اور حکمرانوں کوآج نہیں تو کل قوم کو اصل حقائق بتانا پڑیں گے، حکمرانوں کے دروازے عوام کیلئے بند ، مودی اور جندال کیلئے کھلے ہیں ، کشمیری ماﺅں بہنوں اور بچوں کے قاتل اعظم کو ہمارے وزیر اعظم رائیونڈ میں بلا کر آموں اور ساڑھیوں کے تحفے پیش کرتے ہیں ، جماعت اسلامی کی جدوجہد کا مقصد ملک سے کرپشن کا خاتمہ اور قرآن کے نظام کا نفاذ ہے ۔

جیل چوک گجرات میں بڑے عوامی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئےسینیٹر سراج الحق نے کہا کہ سپریم کورٹ سے ہم نے استدعا کی تھی کہ قومی دولت لوٹنے والے موجودہ اور سابقہ حکمرانوں کا احتساب کیا جائے تاکہ ملک سے کرپشن ختم ہو،موجودہ اور سابقہ حکمرانوں کا احتساب ہوجائے اور ان کیلئے اقتدار کے ایوان نہیں کوٹ لکھپت اور اڈیالہ جیل ہے ۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ ایسا نظام بنائے جس میں کوئی احتساب سے بالا تر نہ ہو اور ایسا روڈ میپ دیا جائے جس میں کسی کو قوم کا ایک پیسہ لوٹنے کی بھی جرا ت نہ ہو  ، کرپشن کے خلاف ہماری تحریک جاری رہے گی ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ڈان لیکس کے حوالے سے پوری قوم نے مطالبہ کیا تھاکہ قومی سلامتی کے اس انتہائی نازک مسئلے کی مکمل تحقیق ہونی چاہئے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو مگر حکمرانوں نے اصل مجرموں کو بچانے کیلئے چند معصوم لوگوں کو قربانی کا بکر ا بنایا ۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جدوجہد کا مقصد غریب لوگوں ،کسانوں اور مزدوروں پر اقتدار کے ایوانوں کے دروازے کھولنا ہے ، جب تک عام آدمی اسمبلیوں میں نہیں پہنچتا ظلم و جبر کا یہ نظام ختم نہیں ہوسکتا، اس لئے عوام آئندہ انتخابات میں ان لٹیروں کی بجائے اپنے اندر سے دیانتدار لوگوں کو منتخب کریں ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ قائد اعظم نے جس اسلامی پاکستان کی بنیاد رکھی تھی آج حکمران اس بنیاد کو کھوکھلا کررہے ہیں اور کلمہ کی بنیاد پر بننے والے پاکستان میں سیکولر ازم اور لبرل ازم کے نعرے لگا رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کے بیانات نظریہ پاکستان اور پاکستان کی خاطر جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے شہداءسے بے وفائی اور غداری ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے نظریہ پر قائم رہے گا ،قائد اعظم نے قران کو پاکستان کا دستور قرار دیاتھا اور ان شاءاللہ وہ وقت دور نہیں جب ملک میں نظام مصطفی کا نفاذ اور غریب کا راج ہوگا