سپریم کورٹ نے عمران خان نااہلی کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا

قومی

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ نے حنیف عباسی کی عمران خان کی نااہلی کیلئے دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا،چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیکھتے ہوئے کہا کہ کوئی یہ نہ سمجھے فیصلہ کل آئے گا ابھی بہت مواد آنا ہے ،ہم سچ کی تلاش کیلئے سماعت کر رہے ہیں۔
دوران سماعت نعیم بخاری نے دلائل نیازی سروسزلمیٹڈکے اکاؤنٹ میں ایک لاکھ پاوٌنڈرکھے گئے،جولائی 2007میں عمران خان کے اکاؤنٹ میں 20ہزاریورو آئے،مارچ 2008میں عمران خان کے اکاؤنٹ میں 22ہزاریوروآئے اوریہ رقوم 2012میں کیش کرائی گئیں۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے کہا تھا 8لاکھ روپے پاکستان نقد لائے گئے۔
اس پر نعیم بخاری کا کہناتھا کہ ہوسکتا ہے مجھ سے کہنے میں غلطی ہوئی ہویا آپ نے غلط سمجھا ہو۔
جسٹس عمر عطابندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اثاثے چھپانے اور غلطی میں فرق ہے،عمران خان نے اپنا یورواکاو¿نٹ ظاہر نہیں کیا،عمران خان نے اپنایورواکاؤنٹ کب اورکتنی رقم سے کھولا؟
اس پر نعیم بخاری نے کہا کہ اس کیس کا پاناما سے موازنہ کسی طورنہیں کیا جاسکتا،وہ وزیر اعظم کا معاملہ تھا سیلری اکاو¿نٹ میں آتی رہی نکلوائی نہیں گئی،درخواست گزار کے مقدمے سے ہٹ کرعدالت نے سوالات پوچھے اورعدالت کے سوالات پردستاویزات لائیں گئیں ،مقدمے میں الزام لگایا گیا کہ بیوی کے اثاثے ظاہر نہیں کئے۔
حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ کا کہناتھا کہ عمران خان نے سماعت میں 18 بار موقف بدلا اور 18 سچ بولے۔
عمران خان کے وکیل نعیم بخاری کادلائل دیتے ہوئے کہناتھا کہ اس بات سے آگاہ ہوں جو سپریم کورٹ نے آبزرویشن دی ، ایک دفعہ موقف اپنانے کے بعد اس سے پھر نہیں سکتے،اس کیس میں3سوال اٹھائے گئے تھے، سورس آف لندن پراپرٹی، کتنی قیمت پر بیچا گیااور رقم کہاں خرچ ہوئی؟ ،لندن پراپرٹی پاکستان میں کب ڈکلیئرکی گئی۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان نے تحریری جواب سے آج تک کوئی یوٹرن نہیں لیااور نہ ہی ان کے کسی بیان میں تضادہے ، نعیم بخاری کا کہناتھا کہ لندن فلیٹ کی منی ٹریل عدالت کوپیش کردی،اسے ایمنسٹی سکیم میں ظاہر کیاگیاجبکہ آف شورکمپنی میں عمران خان ڈائریکٹرنہیں۔
اس پر چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کہا کہ لندن فلیٹ ظاہرکیاگیالیکن آف شورکمپنی ظاہرنہیں کی گئی
درخواست گزار کے وکیل اکرم شیخ کا کہناتھا کہ عدالت نے عمران خان کوبیان میں تبدیلی کی اجازت نہیں دی۔
نعیم بخاری نے کہا کہ عمران خان کی ریٹرن پرالیکشن کمیشن نے اعتراض نہیں کیا،کچھ چھپایاہوتاتوریٹرننگ افسردستاویزات مستردکرسکتاتھا۔
دوران سماعت جسٹس عمر عطابندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اثاثے چھپانے اورغلطی میں فرق ہے،عمران خان نے یورواکاو¿نٹ ظاہرنہیں کیا،یورواکاو¿نٹ کب اورکتنی رقم سے کھولاگیا؟۔
اس پر نعیم بخاری نے کہا کہ اکاو¿نٹ تب کھولاگیاجب عمران خان ایم این اے تھے،یہ اکاو¿نٹ لندن فلیٹ کی عدالتی کارروائی کے دوران کھولاگیا،اوریہ رقم عمران خان پاکستان لائے۔
سپریم کورٹ نے عمران خان کی نااہلی کیلئے دائر درخواست پرفریقین کے وکلا ءکے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا،چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیکھتے ہوئے کہا کہ کوئی یہ نہ سمجھے فیصلہ کل آئے گا ابھی بہت مواد آنا ہے ،ہم سچ کی تلاش کیلئے سماعت کر رہے ہیں،چیف جسٹس آف پاکستان کا کہناتھا کہ سچ بولنے کا فائدہ یہ ہے کہ آپ کو یاد نہیں رکھنا پڑتا کہ پہلے کیا کہاتھا،مجموعی تصویر سامنے رکھ کر دیکھنا ہے کہ بددیانتی ہوئی کہ نہیں ۔

مزیدپڑھیں:۔اسلام آبادہائی کورٹ،سابق وزیراعظم نوازشریف سے پارٹی صدر بننے پر ایک بار پھر جواب طلب