” ہم امریکہ کو تمہارے خلاف یہ کام نہیں کرنے دیں گے“ روس اور چین دونوں نے پاکستان کو یقین دہانی کروادی، سب سے بڑا مسئلہ حل کردیا

قومی

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) چین اور روس نے پاکستان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر امریکہ کی جانب سے اسلام آباد پر کسی بھی قسم کی پابندیاں لگانے کی کوشش کی گئی تو وہ اسے ویٹو کرکے امریکہ کو منہ کی کھانے پر مجبور کردیں گے۔
ایکسپریس ٹربیون کے مطابق امریکہ کی نئی افغان پالیسی کے بعد پاکستانی قیادت پوری طرح متحرک ہوچکی ہے اور وزیر خارجہ خواجہ آصف اہم ممالک کے دورے کر چکے ہیں جبکہ پاکستان نے روس اور چین کے ساتھ بھی رابطے کیے ہیں۔ روس اور چین نے پاکستان پر امریکی دباﺅ کی مخالفت کی ہے، اور اسلام آباد کو یقین دہانی کرائی ہے اس کی ہر فورم پر مدد کی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان مغربی ممالک بالخصوص فرانس اور برطانیہ کے ساتھ بھی رابطے کرے گا۔

نئی افغان پالیسی پر بلآخر پاکستان نے بڑا عملی اقدام اٹھانے کااعلان کردیا ،حکومت نے پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ چوہدری نثار کے دل کی بات بھی پور ی کرنے کا فیصلہ کر لیا
اسلام آباد اور واشنگٹن میں اس وقت تعلقات سرد مہری کا شکار ہوئے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئی افغان پالیسی کا اعلان کیا اور الزام لگایا کہ پاکستان دہشتگردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہا ہے۔ امریکہ پہلے ہی پاکستان کو دی جانے والی امداد کو حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی سے مشروط کرنے کی تیاریاں کر رہا ہے، جبکہ واشنگٹن نے اسلام آباد پرعالمی پابندیاں لگوانے کا اشارہ بھی دیا ہے۔

ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی ناکام ہوگی،کسی کو افغانستان کی جنگ پاکستان میں لڑنے کی اجازت نہیں دیں گے: وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی
وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے پیر کے روز امریکہ پر واضح کیا ہے کہ پاکستان پر کسی بھی قسم کی پابندیاں عائد کرنے سے دہشتگردی کے خلاف کوششیں متاثر ہوں گی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ’ ہم دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، ایسا کوئی بھی کام جس سے ہمارے مفادات کو نقصان پہنچے اس کا نتیجہ امریکی مفادات کو نقصان کی شکل میں برآمد ہوگا‘۔

امریکا نے ایک بار پھر اپنی ناکام افغان پالیسیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈال دیا،یہ پاکستان کیلئے سبق ہے کہ چند ڈالر کیلئے کسی کی جنگ نہ لڑے:عمران خان
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی پاکستان کو دھمکی کے بعد اسلام آباد کے پالیسی سازوں نے اب واشنگٹن کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات رکھنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ یہ طے پاچکا ہے کہ اب پاکستان امریکی امداد سے چھٹکارا حاصل کرے گا، اور واشنگٹن سے صرف اسی صورت میں اعلیٰ سطح کے روابط بحال کیے جائیں گے جب وہ نئی افغان پالیسی پر پاکستان کے تحفظات دور کرے گا، اگر مستقبل میں امریکہ کسی معاملے میں پاکستان کی حمایت کا طلبگار ہوگا تو اسے ’ ڈو مور‘ سے توبہ کرنے کا کہا جائے گا اور اس پر واضح کیا جائے گا کہ برابری کی سطح پر تعلقات رکھے جائیں۔

نواز شریف، چوہدری نثار، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کو کئی ماہ سے امریکہ کی افغان پالیسی کا علم تھا: نجی ٹی وی کا دعویٰ
ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ نے سفارتکاروں کے ذریعے پاکستان کے اعلیٰ حکام کو پیغام پہنچایا ہے کہ واشنگٹن اور اسلام آباد کے تعلقات مضبوط کرنے کیلئے مذاکرات کرکے تمام مسائل حل کیے جائیں گے لیکن پاکستان نے واضح کیا ہے کہ اگر تعلقات بحال کرنے ہیں تو امریکہ کو ’ ڈومور‘ کی گردان ختم کرنی ہوگی۔