ٹرائل کورٹ میں نواز شریف کے ساتھ زیادتی ہوئی تو سپریم کورٹ تحفظ دے گی،جسٹس آصف سعید کھوسہ،خواجہ حارث کے دلائل مکمل

قومی

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)پاناما نظرثانی کیس میں وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث کے اپنے دلائل مکمل کر لئے، دوران سماعت دلائل دیتے ہوئے خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ عدالت نے قرار دیا کہ جے آئی ٹی نے زبردست کام کیا ،ایسا لگتا ہے کہ سپریم کورٹ بھی شکایت کنندہ بن گئی، جسٹس عظمت سعید نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہم پر یقین کریں سڑکوں پر نہیں ، اس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ یہ نہ کہیں کہ سپریم کورٹ مدعی بن گئی ہے،ہم اپنی آبزوریشن سے متعلق معاملے کو واضح کر دیتے ہیں ،نواز شریف کیخلاف کئی کیس سپریم کورٹ میں آئے ہیں،ہم ہر شہری کے حقوق کا تحفظ کریں گے، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ٹرائل میں زیادتی ہوئی تو سپریم کورٹ ریسکیو کرے گی، ٹرائل کورٹ نے اپنا کام آزادی سے کرنا ہوتاہے،نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ مخصوص کیس کی نگرانی سے کیس پر اثر پڑتا ہے،جس پر جسٹس کھوسہ نے یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ نگراں جج ٹرائل پر اثر انداز نہیں ہوگا، آرٹیکل 203خود مانیٹرنگ کا کہتا ہے،پاناما نظرثانی کیس میں خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ احتساب عدالتوں کیلئے سپریم کورٹ میں پہلے ہی مانیٹرنگ جج موجودہے، جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ہائیکورٹ میں تو ہرضلع کےلئے مانیٹرنگ جج ہوتاہے، کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ الگ سے نگراں جج نہیں لگانا چاہیے تھا؟،آپ کا نقطہ ہم نے نوٹ کرلیا ،اب آگے چلیں،خواجہ حارث نے کہا کہ عدالت نے پہلے بھی جے آئی ٹی کی نگرانی کی، اب ٹرائل کورٹ کی بھی نگرانی کی جارہی ہے ، جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ نگراں جج کا ٹرائل سے کوئی تعلق نہیں ہوتا،عدالتی ہدایات پر عملدرآمد کےلئے نگراں جج تعینات کیا گیا ،جج صرف مانیٹرنگ کےلئے ہوتا باریک بینی کےلئے نہیں ۔