نیب ریفرنسز،استغاثہ کے گواہوں پر خواجہ حارث کی جرح مکمل،سماعت22 نومبرتک ملتوی،مزید4 گواہ طلب

قومی

سلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نوازشریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اورداماد کیپٹن صفدر کیخلاف نیب ریفرنسز میں ٹرائل شروع ہو گیا،تفصیلات کے مطابق نوازشریف اپنی صاحبزادی اور داماد کے ہمراہ احتساب عدالت میں پیش ہوئے،نیب کورٹ کے جج محمد بشیر نے مقدمات کی سماعت کی،اس موقع پر نیب کی ٹیم اور استغاثہ کے گواہوں نے اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔دوران سماعت ایس ای سی پی کی خاتون افسر سدرہ منصور نے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ 18اگست 2017کو نیب لاہور میں تفتیشی افسر کے سامنے پیش ہوئی اور نیب کی طرف سے مانگی گئی دستاویزات تفتیشی افسر کو پیش کیں جس پر میرے دستخط اور انگوٹھے کا نشان موجود ہے اوریہ اصل دستاویزات چیک کرلیں۔
گواہ سدرہ منصور نے عدالت کو بتایا کہ نیب کو فراہم کردہ دستاویزات میں کورنگ لیٹر،کمپنیوں کی سالانہ آڈٹ کی تصدیق شدہ رپورٹس شامل ہیں جونیب کو حدیبیہ پیپر ملز کی2000سے2005تک کی آڈٹ رپورٹ پیش کی،رپورٹ کے مطابق اکاو¿نٹ میں4کروڑ 94لاکھ96ہزارروپے تھے،اس مدت کے ریکارڈ کے مطابق نوازشریف ڈائریکٹر رہے نہ شیئرہولڈر،2000سے2005تک کے آڈٹ میں حدیبیہ پیپر ملز میں ایک جیسی رقم موجود نہیں،اوریہ دستاویزات میں نے تیار نہیں کیں۔
احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے استفسار کیا کہ کیاحدیبیہ کیس شیئرہولڈرزمیں نوازشریف کانام ہے؟۔
اس پر نوازشریف کے وکلا خواجہ حارث اور امجد پرویز نے جرح کے دوران اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ فوٹو کاپیاں ہیں اصل نہیں۔
جس کے جواب میں نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ نیب آرڈیننس کے مطابق فوٹو کاپیاں ہی ضروری ہوتی ہیں۔
استغاثہ کی گواہ سدرہ منصور نے کہا کہ یہ کاپی کمپنیز کی جانب سے ایس ای سی پی کو فراہم کی گئیں۔
اس پر نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ان دستاویزات پر کمپنیز کی مہر یا سیل موجود نہیں ہے۔
ایس ای سی پی کی خاتون افسر نے کہا کہ جی نہیں ہے اور یہ ضروری بھی نہیں ہے،نیب کے تفتیشی افسر کو بیان میں بھی یہی بتایا تھا۔
خواجہ حارث نے کہاکہ ان دستاویزات پر تو کمپنیز کا کورنگ لیٹر بھی نہیں ہے۔
استغاثہ کی گواہ نے کہا کہ جی نہیں ہے لیکن فائل سے چیک کرلیتی ہوں،
خواجہ حارث نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ دستاویزات کےلئے آپ کے خط پرکمپنیزکا جوابی خط کہاں ہے۔
گواہ سدرہ منصور نے جواب دیا کہ فائلز میں چیک کر لیتی ہوں۔
نیب پراسیکیوٹر نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ابھی دستیاب نہ ہوا تو پھر پیش کردیں گے۔
وکیل صفائی نے سدرہ منصور کی فراہم کردہ دستاویزات پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ سارے گواہوں کو دوبارہ بلائیں گے عدالت دیکھے گی۔
اس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہم سمجھ سکتے ہیں ان پر کام کا بہت دباو¿ ہے۔
اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ نہیں ایسی بات نہیں میں صرف یہ کیس لڑ رہا ہوں،کام کا دباو¿نہیں۔
استغاثہ کے گواہ جہانگیر احمد نے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے شریف فیملی کے انکم ٹیکس ریٹرن نیب کو فراہم کئے۔
نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے جرح کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے جو ریکارڈ پیش کیا یہ آپ کو دیا گیا اور آپ نے پیش کیا؟ ،یہ ریکارڈ پہلے آپ کے پاس نہیں تھا؟۔
اس پر گواہ نے بتایا کہ میں ایف بی آر کا نمائندہ ہوں اوریہ ریکارڈ ایف بی آر کے پاس تو تھا،گواہ کا کہناتھا کہ میںزون 2 کا کمشنر رہا ہوں، ریکارڈ براہ راست کبھی میرے پاس نہیں رہا۔
خواجہ حارث نے سوال کیا کہ کیا کبھی نوازشریف کے ٹیکس سے متعلق کسی نے سوال اٹھایا؟۔
اس پر گواہ نے کہا کہ میرے علم میں ایسی کوئی بات نہیں۔
احتساب عدالت نے خواجہ حارث کی جرح مکمل ہونے پر سماعت 22 نومبر تک ملتوی کردی اور مزید4 گواہوں کو طلب کر لیا۔

 مزید پڑھیں:۔جج سزا نہیں دے گا بلکہ سزا دلوائی جا رہی ہے: نواز شریف