بھارت کے سی پیک میں شامل ہونے سے خطے میں تبدیلی اور خوشحالی آئے گی: سندھندرا کلکرنی

قومی

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)بھارتی صحافی سندھندرا کلکرنی نے کہا ہے کہ بھارت کے سی پیک میں شامل ہونے سے خطے میں تبدیلی اور خوشحالی آئے گی۔
تفصیلات کے مطابق پلڈاٹ کے زیر اہتمام سی پیک کے حوالے سے سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے بھارت کے ممتاز صحافی اورآبزرور ریسرچ فاﺅنڈیشن کے چیئرمین سندھندرا کلکرنی نے کہا ہے کہ بھارت کے سی پیک میں شامل ہونے سے خطے میں تبدیلی اور خوشحالی آئے گی،یہ قدرت کی طرف سے ایک معجزہ ہے جس میں بھارت کو شامل ہونا چاہیے،یہ بھارت کے زرمبادلہ کو دوگنا کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔
بھارت میں جاری بنگلہ دیش،چین،میانمار کا معاشی منصوبہ شمالی بھارت میں شروع کیا گیا ہے،صرف بھارت کو ہی نہیں خطے کے دوسرے ممالک بنگلہ دیش کو بھی سی پیک میں شامل ہونا چاہیے،پاکستان اور چین کے سفارتکاروں کو ان ممالک کو بڑے منصوبے میں شامل کرنے کیلئے قائل کرنا چاہیے،بہترین سفارتکاری کے باعث یہ ممکن ہوسکتا ہے۔

پی ایس ایل نے دھوم مچا دی
اگر سٹیڈیم میں بیٹھ کر یا پھراپنے گھر کے قریب ترین سکرین پر میچ دیکھنے کے خواہش مند ہیں تو یہ خبر آپ کیلئے ہے
تقسیم ہند کی 70ویں سالگرہ پر مسئلہ کشمیر پر دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی جگہ پر رکھ سوچنا چاہیے،ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت کے بجائے اپنی حیثیت کا اندازہ خود لگانا چاہیے،پاکستان مسئلہ کشمیر مذاکرات کو بنیاد بنا رہا تو بھارت دہشتگردی اور دیگر مسائل بارے بات کرنا چاہتا ہے۔
انہوں کہا ہے کہ ماضی میں پاکستان اور بھارت کے تعلقات کشیدگی کا شکار رہے ہیں،ماضی کو بھلا کرآگے آنے کی ضرورت ہے دونوں ممالک کے دانشوروں کوبھی اپنے خیالات کا تبادلہ کرنا چاہیے اسی سے برف پگھلے گی۔
بھارتی صحافی کے علاوہ سابق سیکرٹری وزارت دفاع ریاض حسین کھوکھر،سینیٹر مشاہد حسین سید،سلیم صافی،سینیٹر عبدالقیوم اور دیگر افراد نے بھی شرکت کی ہے۔


ریاض حسین کھوکھر نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین بداعتمادی ہمیشہ بلندی پر رہی ہے،یہ کوئی نئی بات نہیں ہے،سارک کے رکن ممالک کو سرد مہری چھوڑ کر معاملات کو آگے بڑھانا چاہیے۔
معروف صحافی سلیم صحافی نے کہا ہے کہ پاکستان پہلے بھی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کر کے سفارتی قدم بڑھا چکا ہے،پاکستان نے دہشتگردی کو ختم کرنے کیلئے عزم کیا جب خود اس کا شکار تھا بھارت کا اس بارے کردار سوالیہ نشان ہے۔