”جے آئی ٹی رپورٹ کی فائنڈنگز تسلیم کرنا لازم نہیں ، ہم نے قانونی حدود کو مد نظر رکھ کر فیصلہ کرنا ہے“، سپریم کورٹ نے پاناما عملدرآمد کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی

قومی

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)جے آئی ٹی کی حتمی رپورٹ کے بعد ملکی تاریخ کے سب سے بڑے مقدمے پانامہ کیس کی پہلی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ نوازشریف کی نااہلیت کا فیصلہ اکثریتی نہیں تھا ، ہم نے قانونی حدود کو مد نظر رکھ کر فیصلہ کرنا ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جے آئی ٹی نے جن دستاویز پر انحصار کیا وہ تصدیق شدہ نہیں۔جے آئی ٹی کی رپورٹ کی تمام فائنڈنز تسلیم کرنا ہم پر لازم نہیںجے آئی ٹی کی فائنڈنگز سارا پاکستان جان چکا ہے۔جے آئی ٹی رپورٹ کی فائنڈنگز کے پابند نہیں۔آج سماعت کے دوران تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری اور جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف نے اپنے دلائل مکمل کیے ، شیخ رشید کے دلائل کے بعد وزیر اعظم کے وکیل خواجہ حارث کے دلائل جاری تھے کہ سپریم کورٹ نے سماعت کل تک ملتوی کردی ، کل خواجہ حارث اپنے دلائل کا تسلسل جاری رکھیں گے۔
تفصیلات کے مطابق جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس عظمت سعید شیخ پر مشتمل 3رکنی بینچ نے جے آئی ٹی رپورٹ پر سماعت کی۔تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے دلائل کا آغاز کیا تو بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیے کہ ہر چیز صاف شفاف ہونی چاہیے۔الزامات اس نوعیت کے تھے جن کی تحقیقات ضروری تھیں ، تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنائی گئی۔
شائد ہم یہ ایکسرسائز جلد مکمل کر لیں۔جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ حدیبہ پیپر ملز کی سیٹلمنٹ کی اصل دستاویزات سربمہر ہیں۔نااہلیت کا فیصلہ اکثریتی نہیں تھا۔قانونی پیرا میٹرز کو دیکھ کر فیصلہ کریں گے۔جے آئی ٹی رپورٹ پر کس حد تک عمل کر سکتے ہیں؟اگر بادی النظر کہہ دیا تو پھر تو یہ کیس ہی ختم ہو گیا۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ”نوازشریف کو ریکارڈ کے مطابق کچھ نہ کچھ تنخواہ ملتی رہی ہے۔اثاثے آمدن سے زائد ہونے کے نتائج کیا ہونگے ؟نعیم بخاری نے جواب دیا کہ جعلی دستاویز پیش کرنے پر فوجداری مقدمہ بننا چاہیے۔جسٹس اعجاز افضل نے استفسارکیا کہ جے آئی ٹی دستاویز کو سورس جانے بغیر درست قرار دیا جا سکتا ہے؟
نعیم بخاری کے دلائل پر جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیے کہ ضرورت پڑنے پر جلد 10کو بھی کھول کر دیکھیں گے۔ انہوں نے نعیم بخاری سے استفسار کیا کہ کیا قطری خطو ط جعلی اور کہانی خودساختہ ہے؟ جس پر نعیم بخاری نے جواب دیا کہ میرے حساب سے دونوں چیزیں ہی خود ساختہ ہیں۔
وزیر اعظم نوازشریف نے جے آئی ٹی رپورٹ پر 10 صفحات پر مبنی اعتراض سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا ہے جبکہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بھی اپنے اعتراضات سپریم کورٹ کے حوالے کر دیے ہیں۔
وزیر اعظم کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعظم کی جانب سے جے آئی ٹی رپورٹ پرجواب جمع کرا چکا ہوں، رپورٹ تعصب اور جابنداری پر مبنی ہے۔ جے آئی ٹی نے احتیارات سے تجاوز کرتے ہوئے رپورٹ مرتب کی۔ عدالت رپورٹ کو مسترد کرے۔جے آئی ٹی نے اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کیا۔ جے آئی ٹی کا رویہ بھی متعصبانہ تھا۔ جے آئی ٹی نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ، جے آئی ٹی کی دستاویزات کو بطور ثبوت تسلیم نہیں کیا جا سکتا، عدالت جے آئی ٹی رپورٹ اور آئینی درخواست مسترد کرنے کا حکم دے۔ جے آئی ٹی رپورٹ کسی شواہد پر بننی نہیں اور نہ ہی اس پر ریفرنس بن سکتا ہے۔جے آئی ٹی کی رپورٹ کی کوئی اہمیت نہیں ، رپورٹ آئین اور قانون کے خلاف ہے۔ چاہتے ہیں عدالت اور عوام کا وقت ضائع نہ کیا جائے۔
سماعت کے دوران تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے دلائل کے آغاز میں موقف اپناکہ تحقیقات کا معاملہ عدالت اور جے آئی ٹی کے درمیان ہے۔رپورٹ کے مطابق لندن فلیٹس شروع دن سے شریف خاندان کےے تھے مگرشریف خاندا ن کے اثاثوں کی تقسیم میں لندن فلیٹس کا ذکر نہیں ہے۔قطری خط افسانہ ہونے کے بعد کہانی ختم ہو گئی۔
انہوں نے موقف اپنایا کہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے وزیر اعظم کو نااہل قرارد یا ہے اور جسٹس گلزار احمد نے بھی ان کی تائید کی تھی جبکہ تین ججز نے مزید تحقیقات کی ہدایت دی۔یہ فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ دو ججز کا فیصلہ درست تھا یا نہیں۔جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیے کہ ہم نے قانونی حدود کو مد نظر رکھ کر فیصلہ کرنا ہے۔ہر چیز صاف شفاف ہونی چاہیے۔جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ حدیبہ پیپر ملز کی سیٹلمنٹ کی اصل دستاویزات سربمہر ہیں۔نااہلیت کا فیصلہ اکثریتی نہیں تھا۔قانونی پیرا میٹرز کو دیکھ کر فیصلہ کریں گے۔
جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ حدیبیہ کیس میں قطری خاندان کا ذکر ہونا ضروری نہیں تھا۔نعیم بخاری نے موقف اپنایا کہ حسن نوا ز کہتے ہیں کاروبار کیلئے پیسہ حسین نواز نے دیا ، حسن نواز کی کمپنیاں خسارے میں تھیں۔ حسن نواز کے نام پر برطانیہ میں آٹھ کمپنیاں رجسٹر ہیں۔حسن نواز کے پاس اراضی کے کاروبار کیلئے مالی ذرائع نہیں تھے۔جے آئی ٹی نے بھی کہا حسن نواز کے پاس فنڈز نہیں تھے۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ جے آئی ٹی نے طارق شفیع کے بیانات کو گمراہ کن اور جعلی قرار دیا ، جے آئی ٹی نے نوازشریف کی حقیقت واضح کر دی۔اب جے آئی ٹی رپورٹ پر عدالت نے فیصلہ کرنا ہے جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ جے آئی ٹی کے مطابق قطر میں سرمایہ کاری کیلئے رقم موجود ہی نہیں تھی۔ بینچ کے سربراہ جسٹس اعجا ز افضل نے کہا کہ شہبازشریف جے آئی ٹی کے سامنے بطور گواہ پیش ہوئے، انکا بیان صرف تضاد کی نشاندہی کیلئے استعمال ہو سکتا ہے۔شہباز شریف کے بیان کا جائزہ دفعہ 161ضابطہ فوجداری کے تحت ہی لیا جا سکتا ہے۔ شہبازشریف کا بیان پولیس افسر کے سامنے ریکارڈ کیے گئے بیان جیسا ہے۔
نعیم بخاری کے دلائل مکمل ہونے کے بعد جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف نے اپنے دلائل کے دوران موقف اپنایا کہ نوازشریف کے اثاثوں اور آمدن میں مماثلت نہیں ہے ، جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم نوازشریف کے اثاثے اور آمدن میں مطابقت نہیں ہے۔نوازشریف نے جے آئی ٹی کے سامنے قطری خط کو درست قرار دیا۔نوازشریف جے آئی ٹی کے سامنے ٹال مٹول کرتے رہے۔نوازشریف نے قومی اسمبلی کے سامنے تقریر میں سچ نہیں بولا۔جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیے کہ جے آئی ٹی رپورٹ پڑھ چکے ہیں۔جے آئی ٹی رپورٹ پر دلائل دیں تو انہوں نے کہا کہ ہماراانحصار جے آئی ٹی رپورٹ کی فائنڈنگز پر ہے۔
توفیق آصف کے بعد شیخ رشید نے دلائل دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ میری گزارشات سمارٹ ، سویٹ
اور شارٹ ہیں۔انشائ اللہ انصاف ہی جیتے گا۔جے آئی ٹی رپورٹ میں بے نامیوں کا جمعہ بازار لگا ہے ، جے آئی ٹی کو عدالت نے نیب اور ایف آئی اے سمیت دیگر اختیارات دیے۔ جے آئی ٹی ممبران نے بہت اچھا کام کیا ، انصاف کی جیت ہو گی ، ہر کیس کے پیچھے ایک چہرہ ہوتا ہے اور اس کیس کے پیچھے نوازشریف کا چہرہ ہے،۔ایک بچے کو سعودی عرب اور دوسرے کو لندن رکھا گیا۔ 5ججوں نے قوم کی خدمت کی اس کا صلہ ضرور ملے گا۔ لوگوں نے کہا جے آئی ٹی رپورٹ ”جنوں “ کی رپورٹ ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس عمر میں ہمارا شناختی کارڈ نہیں بنتا ان کے بچوں کروڑوں کماتے ہیں۔نوازشریف نے لندن فلیٹس کے باہر کھڑے ہو کر پریس کانفرنس کی، نوازشریف کا اقامہ سامنے آنے سے قوم کی ناک کٹ گئی۔ وزیر اعظم دوسرے ملک میں نوکری کرتا ہے جس سے ملک کی ناک کٹ گئی۔ وزیرا عظم ساری عمر کیلئے نااہل ہوتے ہیں۔نوازشریف کا تنخوا ہ لینا معنی نہیں رکھتا معاملہ ملکی عزت کا ہے۔ مریم نواز آف شور کمپنیوں کی بینی فشل مالک ثابت ہوئیں۔کیس نیب کو بھجوانا ہے تو وہاں بھی جے آئی ٹی بنائی جائے۔شیخ رشید نے دلائل کے دوران ججز کو جناب سپیکر کہہ دیا جس پر کمرہ عدالت قہقہوں سے گونج اٹھا۔

کل سماعت کے دوران وزیر اعظم نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔