وزیر اعظم کا جے آئی ٹی پر اعتراض سپریم کورٹ میں جمع، رپورٹ مسترد کرنے کی استدعا، ارکان کی نامزدگیاں چیلنج

قومی

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے جے آئی ٹی پر اعتراضات پر مبنی جواب سپریم کورٹ میں جمع کرادیا گیا ہے۔ وزیر اعظم نے اپنے جواب میں جے آئی ٹی ارکان اور ان کی تحقیقات پر اعتراضات اٹھائے اور انہیں غیر شفاف قرار دیتے ہوئے جے آئی ٹی رپورٹ مسترد کرنے کی استدعا کی ہے۔
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے 12 صفحات پر مشتمل جواب جمع کرایا گیا ہے جس میں اعتراض اٹھایا گیا ہے کہ تمام تفتیشی عمل قانونی ضابطوں کے خلاف ہے، جے آئی ٹی نے اختیارات کا غلط استعمال کیا، بیرون ممالک سے حاصل کی جانے والی دستاویزات کی نیب آرڈیننس کے تحت کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے، ایسی دستاویزات جن کی قانون میں کوئی حیثیت نہ ہو ان دستاویزات پر سپریم کورٹ فیصلہ نہیں دے سکتی۔
وزیر اعظم نے اعتراض اٹھایا ہے کہ رپورٹ میں وزیراعظم کی ذات اور نوکری سے متعلق حقائق تصوراتی ہیں جبکہ جے آئی ٹی کے وزیراعظم سے متعلق ریمارکس تعصب ظاہر کرتے ہیں اور وزیراعظم کیخلاف شہادتیں عدالتی اختیارات استعمال کرنے کے مترادف ہے۔

جواب میں اعتراض اٹھایا گیا ہے کہ جے آئی ٹی نے سپریم کورٹ کی جانب سے دیے جانے والے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے باہمی قانونی معاونت کے لیے یوکے سے مدد لی ۔ قانونی معاونت کیلئے جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا کے کزن اختر علی کی خدمات لی گئیں ، اختر علی لندن میں پی ٹی آئی کا متحرک کارکن ہے۔
وزیر اعظم نے اپنے جواب میں استدعا کی ہے کہ فیئرٹرائل مدعاعلیہان کا بنیادی حق ہے اور عدالت قرار دے چکی ہے کہ شفاف تحقیقات کے بعد ٹرائل شفاف ہوگا لہٰذا غیر شفاف تحقیقات کو کالعدم قراردیا جائے۔ جے آئی ٹی رپورٹ کا والیوم 10 فراہم کیا جائے کیونکہ والیوم 10 کو خفیہ رکھنا بد نیتی ہے اور وزیر اعظم کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ سپریم کورٹ میں جمع کرائے جانے والے جواب میں وزیر اعظم نے جے آئی ٹی ارکان پر بھی اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے جے آئی ٹی ارکان پر  اٹھائے گئے اعتراضات کی تفصیلات یہاں کلک کرکے پڑھی جا سکتی ہیں۔