”یہ بتائیں کہ کیا قطری خطو ط ۔۔۔“پاناما سماعت کے دوران جج نے ایسا سوال پوچھ لیا کہ تحریک انصاف کے وکیل کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا

قومی

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن ) پاناما کیس کی سماعت کے دوران تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے قطری خطوط کو بوگس اور جعلی قرار دیدیا ۔

92نیوز کے مطابق جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد پاناما کیس کی پہلی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل نے نعیم بخاری سے استفسار کیا کہ کیا قطری خطوط بوگس ہیں یا کہانی خود ساختہ ہے؟جس پر نعیم بخاری نے جواب دیا کہ میرے حساب سے دونوں چیزیں ہی خود ساختہ ہیں۔
جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیے کہ ہم نے قانونی حدود کو مد نظر رکھ کر فیصلہ کرنا ہے ۔ہر چیز صاف شفاف ہونی چاہیے ۔جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ حدیبہ پیپر ملز کی سیٹلمنٹ کی اصل دستاویزات سربمہر ہیں۔نااہلیت کا فیصلہ اکثریتی نہیں تھا۔قانونی پیرا میٹرز کو دیکھ کر فیصلہ کریں گے۔
نعیم بخاری نے موقف اپنایا کہ حسن نوا ز کہتے ہیں کاروبار کیلئے پیسہ حسین نواز نے دیا ، حسن نواز کی کمپنیاں خسارے میں تھیں۔ حسن نواز کے نام پر برطانیہ میں آٹھ کمپنیاں رجسٹر ہیں۔حسن نواز کے پاس اراضی کے کاروبار کیلئے مالی ذرائع نہیں تھے۔جے آئی ٹی نے بھی کہا حسن نواز کے پاس فنڈز نہیں تھے۔