دستاویزات درست ماننے کیلئے ضروری ہے کہ ذرائع کی تصدیق کی جائے: سپریم کورٹ

قومی

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاناما کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے ہیں کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں شامل دستاویزات کو درست ماننے کیلئے ضروری ہے کہ ان کے ذرائع کی تصدیق کی جائے۔
کیس کی سماعت کے دوران ایف زیڈ ای کے حوالے سے دلائل دیتے ہوئے پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری نے کہا جے آئی ٹی نے بتایا ہے کہ ایف زیڈ ای نامی کمپنی نوازشریف کی ہے۔ حسین نواز کے مطابق کمپنی 2014 میں ختم کردی گئی تھی ۔ نواز شریف ایف زیڈ ای کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے چیئرمین تھے۔
جسٹس اعجازافضل نے نعیم بخاری سے استفسار کیا کہ کیا ایف زیڈ ای کی دستاویزات جے آئی ٹی کو قانونی معاونت کے تحت ملیں یا ذرائع سے؟سوال یہ ہے کہ کیا حاصل دستاویزات کیلئے قانونی تقاضے پورے کیے گئے؟ دستاویزات کا سورس کیا ہے اور کیا وہ قابل اعتماد ہے۔ کیا ذرائع جانے بغیر دستاویزات کو درست قراردیا جاسکتا ہے؟، دستاویزات کو درست ماننے کیلئے ضروری ہے کہ ان کی تصدیق کی جائے۔
نعیم بخاری نے کہا کہ آپ کی مسکراہٹ کامطلب ہے آپ میری بات سے متفق نہیں ہیں، جے آئی ٹی کی فائنڈنگ اور سفارشات عدالت پرلازم نہیں ہیں، کمپنی کی دستاویزات قانونی معاونت کے تحت ہی پاکستان آئیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ تمام دستاویزات تصدیق شدہ نہیں ہیں جس پر نعیم بخاری نے کہا کہ دستاویزات درست ہیں صرف دستخط شدہ نہیں۔