ایک سینئر وزیر نے بالواسطہ جے آئی ٹی کو اہم دستاویزات فراہم کیں: حامد میر

قومی

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر صحافی و اینکر پرسن حامد میر نے کہا ہے کہ ایک سینئر وزیر نے بالواسطہ طور پر جے آئی ٹی کی مدد کی اور اسے شریف خاندان کے حوالے سے اہم دستاویزات فراہم کیں۔
نجی ٹی وی جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ جے آئی ٹی کے ڈاکیو منٹس کا انکار نہیں کیا جا سکتا، یو اے ای کی وزارت انصاف نے ہی آپ کی منی ٹریل کو اڑا دیا تو پھر آپ کیا کر سکتے ہیں۔ یو اے ای سے تحقیقات کے بعد جے آئی ٹی اس نتیجے پر پہنچی چونکہ شریف خاندان کی منی ٹریل ہی غلط ہے اس لیے قطری شہزادے کا بیان نہیں لیا گیا، جب قطر کو پیسہ گیا ہی نہیں ہے تو قطری شہزادے کا بیان کیوں ریکارڈ کرتے۔

دستاویزات درست ماننے کیلئے ضروری ہے کہ ذرائع کی تصدیق کی جائے: سپریم کورٹ
انہوں نے کہا کہ ایک سینئر وزیر ایسے ہیں جو اس سارے معاملے میں بری طرح الجھے ہوئے ہیں۔ ن لیگ کی طرف سے سوال اٹھ رہا ہے کہ آخر جے آئی ٹی کو دستاویزات کس نے فراہم کیں ؟۔ جے آئی ٹی کو یہ دستاویزات فراہم کرنے میں اس وزیر کا بھی بالواسطہ بہت اہم کردار ہے۔
حامد میر نے کہا کہ ن لیگ نئے الیکشن کی طرف نہیں جائے گی کیونکہ مارچ 2018 میں سینیٹ کا الیکشن ہے اس لیے ان کی کوشش ہوگی کہ پنجاب اور بلوچستان اسمبلی سے ووٹ حاصل کرلیے جائیں۔ اگر معاملہ نا اہلی کی طرف جاتا ہے تو وزیر اعظم نے چوہدری نثار سے رائے پوچھی تو انہوں نے کہا کہ وہ وزارت عظمیٰ کے خواہشمند نہیں ہے۔ شاہد خاقان عباسی سے میں نے خود پوچھا تو انہوں نے کہہ دیا کہ وہ وزارت عظمیٰ کے خواہشمند نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی شہباز شریف سے براہ راست بات ہوئی ہے جن کا ذاتی خیال ہے کہ اگر وہ پنجاب سے ہٹ جائیں گے تو ان کا متبادل نہیں ہے جبکہ بہت سے منصوبے جاری ہیں جو مکمل نہیں ہو پائیں گے۔ جنوبی پنجاب کے بعض ایم این ایز بھی شہباز شریف کے ساتھ خوش ہیں لیکن اگر انہوں نے لاہور چھوڑ کر اسلام آباد میں ڈیرے ڈالے تو ان ایم این ایز کے بدکنے کا خدشہ ہے۔ خود نواز شریف کی بھی یہی رائے ہے۔ بہر حال وہی شخص وزیر اعظم بنے گا جس پر نواز شریف ہاتھ رکھیں گے لیکن کچھ سینئر وزیروں نے یہ ضرور کہا ہے کہ جس کو بھی لے کر آئیں اس پر یہ سوال نہیں اٹھنا چاہیے کہ اس کا کوئی سیاسی تجربہ نہیں ہے۔