جے آئی ٹی میں شامل آئی ایس آئی کا نمائندہ خفیہ ادارے کا باقاعدہ ملازم نہیں، وزیر اعظم کا اعتراض

قومی

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعظم نواز شریف نے جے آئی ٹی رپورٹ پر سپریم کورٹ میں 12 صفحات پر مشتمل جواب جمع کرادیا ہے جس میں جے آئی ٹی ارکان پر بھی اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔ وزیر اعظم کے اعتراض میں کہا گیا ہے کہ جس شخص کو جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی کے نمائندے کے طور پر شامل کیا گیا ہے وہ خفیہ ادارے کا باقاعدہ ملازم نہیں ہے۔
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق وزیر اعظم کے جواب میں اعتراض اٹھایا گیا ہے کہ آئی ایس آئی کے جس شخص (بریگیڈیئر کامران)کو جے آئی ٹی میں شامل کیا گیا وہ آئی ایس آئی کا باقاعدہ ملازم ہی نہیں ہے اور نہ ہی وہ آئی ایس آئی سے تنخواہ لیتا ہے بلکہ وہ کسی اور ادارے سے آئی ایس آئی میں ڈیوٹی کر رہا ہے۔ جس معاہدے کے تحت وہ آئی ایس آئی کے ساتھ کام کر رہاہے وہ غیر قانونی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیر اعظم کا جے آئی ٹی پر اعتراض سپریم کورٹ میں جمع، رپورٹ مسترد کرنے کی استدعا، ارکان کی نامزدگیاں چیلنج
وزیر اعظم کے جواب میں جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا پر بھی اعتراض اٹھایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ جے آئی ٹی نے قانونی معاونت کیلئے یو کے میں واجد ضیاءکے کزن اختر راجہ کی خدمات حاصل کیں جو کہ لندن میں پی ٹی آئی کا متحرک کارکن ہے۔
وزیر اعظم کے جواب میں بلال رسول پر اعتراض کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان کا تعلق تحریک انصاف سے ہے جبکہ ان کی اہلیہ انتخابات کے دوران پی ٹی آئی کی قومی اسمبلی کی امیدوار رہ چکی ہیں۔ وزیر اعظم نے اعتراض اٹھایا ہے کہ جے آئی ٹی کے رکن عامر عزیز کا تعلق ق لیگ سے ہے جبکہ وہ حدیبیہ پیپر ملز کی تحقیقات میں بھی شامل رہے ہیں۔