”سمجھد میں نہیں آتا کیس کی تحقیقات کیسے کریں “، پاناما لیکس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کے ریمارکس

قومی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) پاناما لیکس تحقیقات کیس میں سپریم کورٹ میں جمع کرائی جانے والی دستاویز اورشواہد پر چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا ہے ”کم سے کم میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کیس کی تحقیقات کیسے کریں گے“۔جب تک تفصیل سے تحقیقات نہیں ہوتی کسی نتیجے پر نہیں پہنچیں گے ۔

سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی پانچویں سماعت کے دوران وزیر اعظم نوازشریف اور انکے بچوں کے خلاف تحریک انصا ف کے دستاویزی ثبوت اور دیگر شواہد کے حوالے سے وکلاءکے دلائل سننے کے بعد ریمارکس دیے کہ ہر پیشی پر 8،10 نئی درخوااستیں ا?جاتی ہیں۔ اس طرح تو کیس کا فیصلہ جلدی نہیں ہو گا جبکہ عدالت چاہتی ہے کہ کیس کا جلد فیصلہ کیا جائے۔ جب تک تفصیل سے تحقیقات نہیں ہوتی کسی بھی نتیجے پر نہیں پہنچیں گے۔
انہوں نے تحریک انصاف کے وکیل حامد خان کو ہدایت کی کہ آپ کو پاناما کیس میں ٹھوس شواہد پیش کرنا ہوں گے ۔ انکورائری کمیشن تمام شواہد کا جائزہ لے سکتا ہے ۔