بھٹو ازم پاکستان کی بقاءہے، میاں صاحب! ضیاءازم چھوڑ یں، وزیراعلیٰ پنجاب مارتے بھی ہیں اور رونے بھی نہیں دیتے: بلاول بھٹو زرداری

قومی

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ قائداعظم سے لے کر بی بی شہید تک ایک ہی مشن رہا ہے کہ عوام کی طاقت عوام کو دینی ہے، اسلام ہمارا دین، مساوات ہماری معیشت، طاقت کا سرچشمہ عوام اور شہادت ہماری منزل ہے، بھٹوازم پاکستان کو بچا سکتا ہے، میں باغی ہوں، میں بھٹو ہوں، جو چاہے مجھ پر ظلم کرو۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ کارکنوں کے جذبے کو سلام پیش کرتے ہیں۔ قائداعظم نے ہمیں پاکستان کا تحفہ دیا لیکن قائداعظم کو زندگی نے اتنا موقع نہ دیا کہ وہ جمہوریت کا تحفہ دیتے تاہم قائداعظم کا مشن پورا کرنے کیلئے ذوالفقار علی بھٹو میدان میں آئے اور 73ءکا آئین دے کر بابائے قوم کا نامکمل خواب پورا کر دکھایا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہمیشہ دو قوتیں رہیں، بھٹوازم اور آمریت کے پجاری، 18 اکتوبر 2007ءوہ دن تھا جب آمریت کے مارے ہوئے لوگوں کو امید کی روشنی نظر آئی، وہ دن جب بھٹو کی بیٹی، پاکستان کی پہچان، وہ بی بی جو اپنے وطن کے سارے بچوں کی ماں تھی، اپنے لوگوں کی خاطر ان کے پاس آئی، صرف اس لئے کیونکہ ان کے ملک میں وہ جمہوریت چھین لی گئی جو شہید ذوالفقار علی بھٹو نے دی تھی، وہ اپنے لوگوں کی خاطر ان کے پاس آئی اور پھر دنیا نے دیکھا کہ 30 لاکھ سے زیادہ لوگ ان کے لئے نکلے، پاکستان کی تاریخ میں آج تک ایسا مجمع نہیں دیکھا گیا، وہ لوگ ایک امید کے ساتھ آئے تھے، وہ جانتے تھے کہ ان کی عظیم لیڈر انہیں آمریت اور دہشت گردی سے بچانے آئی ہے۔ اس لئے آمریت کے درندوں نے اس دن کو جمہوریت کے چاہنے والوں کے خون سے سرخ کر دیا۔مشرف کی پیداوار نے پہلے سے کہا تھا کہ رات بارہ بجے یہ جلسہ ختم ہو جائے گا، سٹریٹس لائٹس تک بجھا دی گئیں اور پھر ایک معصوم بچے کے جسم پر بم باندھ پر دھماکہ کیا گیا اور 200 جانثار اپنی لیڈر پر قربان ہو گئے، کراچی کی سڑکوں پر ایک بار پھر پاکستان پیپلز پارٹی کا لہو پانی کی طرح بہایا گیا، اس دن نے ثابت کر دیا کہ آج بھی بندوقوں والے ایک لڑکی سےڈرتے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہ دہشت گردی اور حملے صرف ہم پر کیوں ہوتے ہیں، صرف ہمیں کیوں مارا جاتا ہے، کوڑے بھی ہمارے لئے، بم بھی ہمارے لئے اور گولی بھی صرف ہمارے لئے۔ کبھی قائد عوام اور اس ملک کے پہلے منتخب جمہوری وزیراعظم کو پھانسی دی جاتی ہے، کبھی مسلم امہ کی پہلی منتخب خاتون وزیراعظم کو سرعام شہید کر دیا جاتا ہے، خودکش حملے بھی صرف ہمارے لئے، جو سمجھتے ہیں کہ ہمیں دھماکوں اور پھانسیوں سے ڈرائیں گے اور ظلم سے جھکائیں گے، وہ سمجھ لیں کہ بھٹو کبھی ڈرتا نہیں ہے، ہماری ڈکشنری میں ڈرنے کا لفظ ہی موجود نہیں ہے۔ ہمارے پاس شہید ایاز، شہید ناصر بلوچ اور شہید ادریس جیسے جیالے ہیں جو ضیاءکے دور میں رقص کرتے ہوئے اور جئے بھٹو کا نعرہ لگاتے ہوئے پھانسی کے پھندے پر چڑھ کر شہید ہو جاتے ہیں۔ اگر ہمارے ساتھ ہوئے ظلم کی جھلک دیکھیںاور ہمارے جیالوں کی بہادری اور جذبہ دیکھیں جو بم دھماکے کے وقت بی بی شہید کی طرف بڑھے اور جانوں کا نذرانہ پیش کیا لیکن انہیں اکیلا نہیں چھوڑا، جب ان کے جسم بے جان تھے، چہرے خون سے لبریز تھے، جب ان کی آواز ختم ہو رہی تھی تب بھی ان کے لبوں پر ایک ہی صدا تھی، ایک ہی نعرہ تھا، اب راج کرے گی بینظیر۔ ۔۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 27 دسمبر 2007ءکو راولپنڈی کی سڑکوں پر خون بہتا ہے تو ہمارا بہتا ہے، 2011 ءمیں شہید سلمان تاثیر اور شہباز بھٹی کو مارا گیا، میں پوچھتا ہوں کہ کیوں؟ کیا اس لئے کہ صرف بھٹو ازم ہی ہے جو آمریت اور انتہاءپسندی کے خلاف ہے، جو بندوق کے زور پر اپنا نظریہ مسلط کرنے والوں کے راستے کی دیوار ہے، جو زبان علاقے اور مذہب کی بنیاد پر سیاست نہیں کرتے، صرف بھٹو ازم ہے جو پورے پاکستان کی بات کرتے ہیں، یاد رکھنا بھٹوازم اس ملک کی سلامتی کی ضمانت ہے، بھٹو کی پارٹی پنجاب کا مان ہے، سندھ کی شان ہے، بلوچستان کی جان ہے، یہ بھٹو کی پارٹی کے پی کے کی آن ہے، یہ بھٹو کی پارٹی گلگت کی پہچان ہے، یہ بھٹو کی پارٹی آزاد کشمیر کی زبان ہے، یہ بھٹوازم کا نظام اس ملک کی زنجیر ہے، سارے صوبوں کی زنجیر بینظیر۔۔۔
یاد رکھنا کہ اگر پاکستان پیپلز پارٹی نہیں ہو گی تو روشنیوں کے قافلے تمہارے گھر کا راستہ بھول جائیں گے، ہم نہ ہوئے تو کوئی مہتاب افق نہ دیکھے گا، ایسی نیند اڑے گی کہ پھر کوئی خواب نہ دیکھے گا، آج پاکستان میں ایک طرف بھٹو کے چاہنے والے ہیں اور دوسری طرف آمریت کے چاہنے والے۔ ایک طرف ووٹ کی طاقت سے تبدیلی لانے والے اور دوسری طرف کسی ڈکٹیٹر کی گود سے نکلے ہوئے اور کسی ایمپائر کی انگلی پر ناچنے والے ہیں، ہماری شہید بی بی کی قربانی اور زرداری کے وژن نے بھٹو کا نظام دے کر عوام کو نیا پاکستان دے دیا ہے، ہم نے اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے، ہم نے پہلی دفعہ سیاسی طور پر وہ حاصل کر لیا جس کی خاطر ہمارے شہداءنے جانوں کا نذرانہ دیا، اور وہ ہے ایک جمہوری پاکستان۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ 1973 کا دستور بھٹوازم ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں جمہوریت ہے، یہ وہ دستور ہے جس کو ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر مولانا مودودی تک سب نے تسلیم کیا۔ یہاں تک کہ وہ جو کل بھٹو کے دشمن تھے، ضیاءکا حقیقی کا بیٹا اور ضیاءکا روحانی وارث دونوں آج بھٹو کے بنائے ہوئے اس دستور پر حلف اٹھاتے ہیں، اس لئے ہم کہتے ہیں جمہوریت بہترین انتقام ہے۔ آج بی بی کے آصف اور بی بی کے بیٹے کو اس 6 سالہ جمہوریت کو بچانا ہے، میرے ساتھیو آج پورے ملک میں سکرپٹ کا شور مچا ہوا ہے، حکومت بے بس ہے، ملک خانہ جنگی کی طرف جا رہا ہے اور لوگ سوال کر رہے ہیں کہ یہ سکرپٹ کیا ہے۔ میں بتایا ہوں کہ یہ کیا سلسلہ ہے اور اصلی سکرپٹ کیا ہے۔ جس طرح بھٹو صاحب نے کہا تھا مجھے معلوم ہے کہ میرے عوام اور میرے خلاف سازشوں کی کیا کھچڑی پک رہی ہے، یہ سکرپٹ اس وقت لکھا گیا تھا، یہ سکرپٹ کل بھی وہی تھی اور آج بھی وہی ہے، یہ آمریت کے پجاری بی این اے اتحاد کی صورت میں قائد عوام کے سامنے آتے ہیں اور کبھی 5 جولائی 1977 کو ہم پر مسلط کئے جاتے ہیں، کبھی 4 اپریل 1979ءکو شہید ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر لٹکا دیتے ہیں، کبھی یہ آئی جے آئی کے روپ میں سامنے آتے ہیں اور کبھی فاروق لغاری جیسے سیاسی غدار بن جاتے ہیں، کبھی مشرف جیسے قومی غدار کی شکل میں نازل ہوتے ہیں، کبھی 18 اکتوبر 2007ءکی امید کی کرن کو خون کی ہولی میں رنگتے ہیں، مشرف اور سیاہ لابی مل کر ہماری بی بی کو ہم سے چھین لیتے ہیں اور بی بی کو شہید کر دیا جاتا ہے اور پاکستان ٹکڑوں میں بکھرنا شروع ہو جاتا ہے لیکن مرد آہن صدر زرداری نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگا کر اور بی بی کے بیٹے نے جمہوریت بہترین انتقام ہے کا نعرہ لگا کر بکھرتے ہوئے ٹکڑے کو زنجیر سے پھر باندھ دیا۔
کبھی یہ سیاسی دجال کے روپ میں سوموٹو سے جمہوریت کو سبوتاژ کرتے ہیں، اس سکرپٹ کا مقصد یہ تھا کہ نواز شریف کو جعلی سپر مینڈیٹ دیا جائے اور پتلی خان کو اپوزیشن لیڈر بنایا جائے، کوئی بہانا بنا کر بھٹو کا نظام توڑ کر ہمیشہ کیلئے جمہوریت کو پٹری سے اتار دیا جائے، مگر شہید کے جیالوں نے ایسا نہیں ہونے دیا، آپ نے دہشت گردی، سیاسی دجال اور دھاندلی کے باوجود اپنا اپوزیشن لیڈر بنایا، یہ سکرپٹ اس وقت تک ختم نہیں ہو گا جب تک کوئی کٹھ پتلی وزیراعظم نہ بن جائے تاکہ نظام درہم برہم ہو جائے اور پھر پاکستان میں سول وار شروع ہو جائے۔ اس سکرپٹ میں ملکی و غیر ملکی طاقتیں شامل ہیں وہ پاکستان کو بھی عراق اور سیریا کی طرح بنانا چاہتے ہیں تاکہ یہاں بھی دنیا بھر کے دہشت گرد اپنے خودکش بمبار تیار کر سکیں ۔ پاکستان میں جتنی تباہی پھیلے گی دشمن اور آمریت کے چاہنے والوں اور انتہاءپسندوں کو اتنا ہی فائدہ ہو گا۔
میرے نوجوان ساتھیو، آج اگر اس ملک کو سول وار سے بچانا ہے تو اس کا حل صرف اور صرف بھٹوازم ہی ہے۔ کیوں تقسیم کرتے ہو میرے ملک کے لوگوں کو؟ کیوں اکٹھے نہیں رہنے دیتے؟ پاکستان کے دشمنو تم ناکام ہو گے، یہ ملک بھٹو کے دیوانوں کا ہے، اور اس ملک میں صرف بھٹو کا نظام چلے گا۔
وزیراعظم صاحب! میں آپ کو بھی یاددلانا چاہتا ہوں آپ اس ملک کے وزیراعظم ہیں، آپ میرے وزیراعظم بھی ہیں، آپ کو کس نے اجازت دی کہ پوری وفاقی حکومت کے تمام تر وسائل ایک دھرنا ختم کرنے میں لگا دیں، کیا بھول گئے تھے کہ آپ پر 20 کروڑ عوام کی ذمہ داری بھی ہے؟ پیپلز پارٹی نے بھی کٹھ پتلیوں کے دھرنے دیکھے مگر اپنی ذمہ داریوں کو نہیں بھولے، ہم نے تو کوئٹہ میں ہزارہ کمیونٹی کا دھرنا بھی دیکھا، یہ انتہاءپسندی کے خلاف دھرنا تھا، پاکستان کی تاریخ میں اگر کوئی اصلی دھرنا تھا تو وہ میرے ہزارہ بھائیوں کا دھرنا تھا، ہمارے اس وقت کے وزیراعظم خود ان کے پاس گئے تھے اور ہم نے اخلاقی طور پر اپنی ہی حکومت کو ختم بھی کیا لیکن وزیراعلیٰ پنجاب نے کیا کیا؟ 14 معصوم لوگوں کو قتل اور 90 سے زیادہ لوگوں کو زخمی کر دیا، اور پھر ایف آئی آر بھی انہیں کے خلاف درج کروا دی۔ ایک طرف ہم پاکستان پیپلز پارٹی والے ہیں جو مرہم رکھنے کیلئے اپنی حکومت بھی ختم کر لیتے ہیں اور دوسری طرف وزیراعلیٰ پنجاب ہیں جو ضیاءکی پیداوار ہیں، آپ جو ظلم کا کوئی احتساب نہیں کرتے، مارتے بھی ہو اور رونے بھی نہیں دیتے، تمہارا شہر، تم ہی مدعی اور تم ہی منصف۔
وزیر خارجہ اور کٹھ پتلیو! آپ سب اس قوم کے قصوروار ہیں، یہ صرف آپ دونوں کی وجہ سے ہے کہ چین کے صدر نے پاکستان کا دورہ منسوخ کر کے بھارت جانے کافیصلہ کیا، آج ہم اپنی خارجہ پایسی میں ناکام ہو رہے ہیں، امریکی صدر اوباما نے ہندوستان کے مودی کے ساتھ ڈنر کیا اور آرٹیکل بھی لکھا اور دوسری طرف ہمارا شیر بھی وہاں گیا تھا وہ شیر جو بھیگی بلی بن کر واپس آ گیا۔
ذوالفقار علی بھٹو نے چین کو پاکستان کا گہرا دوست بنایا، امریکہ اور چین کی دوستی کروائی، پوری مسلم امہ کو اکٹھا کیا، ہمیں آج بھی بھٹوازم سے سبق سیکھنا ہو گا اور دنیا میں اپنا امیج بہتر کرنا ہو گا، آپس کے اختلافات چھوڑ کر پاکستان کو مسلم امہ کا لیڈر بنانا ہو گا۔ میرے جیالو ، آج لوگ ہمیں کہتے ہیں کہ ایک طرف تو پنجاب ہے جہاں کتنی ڈویلپمنٹ کی جا رہی ہے اور دوسری طرف دیگر صوبے ہیں جہاں ترقی نام کی کوئی چیز نہیں، لوگ سندھ کی بات کرنے سے پہلے بھول جاتے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے دور کے علاوہ 68 سال کی تاریخ میں سندھ کو تباہی کے سوا کچھ نہیں دیا گیا، لوگ بھول جاتے ہیں کہ پنجاب کو تو انگریز نے پاکستان بننے سے پہلے دنیا کا سب سے بڑا کینال نیٹ ورک بنا کر دیا، پنجاب میں تو قیام پاکستان سے پہلے خوشحالی تھی اور اس کے اوپر پورے پاکستان کا سرمایہ لگا دیا گیا۔
میں پوچھتا ہوں کہ پنجاب کے دیہات کو کیا ملا، کچھ کہنے سے پہلے ذرا آ کر سندھ کو دیکھو تو سہی، تب پتہ چلے گا کہ بھٹو کے نظام نے پاکستان کیلئے کیا کیا، ہم نے غریبوں کیلئے بینظیر بستی بنائی، بھٹو شہید یوتھ ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت لاکھوں نوجوانوں کو ہنر سکھایا، نئے تعلیمی ادارے بنائے، سندھ کی بیٹیوں کیلئے سکالر شپ پروگرام بنایا جس کے تحت 4 لاکھ بچیوں کو سکالر شپ دے رہے ہیں، عوام بازی گر سکیم کو گڈگورننس نہیں مانتے، گڈ گورننس صرف عوام کی خدمت کرنے سے آتی ہے۔ آج سندھ میں گندم کی امدادی قیمت پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ ہے، اس سے پہلے پاکستان میں چینی اور گندم کا بحران تھا لیکن پاکستان پیپلزپارٹی کے پچھلے دور کی وجہ سے پاکستان آج چینی اور گندم ایکسپورٹ کر رہا ہے، ہم نے دکھاوا نہیں کیا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ایک عام بس کو میٹرو بنا کر عوام کو بے وقوف بنایا گیا، کل آپ ایک عام بس کو جہاز کا نام دے کر قوم کو بے وقوف بنائیں گے، پھر جہاز کو آپ راکٹ کا نام دے کر ہمیں مارس بھیجنے کا ڈھونگ رچائیںگے، جتنا پیسہ انڈیا نے مارس پر راکٹ بھیجنے پر ضائع کیا اس سے تین گنا زیادہ پیسے سے اس بس کا ڈھونگ رچایا۔ دوسری جانب ہم ہیں جو خدمت کرتے ہیں، ہم نے غریبوں کیلئے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام بنایا، وسیلہ حق کے ذریعے کاروبار دیا، وسیلہ روزگار کے ذریعے باعزت روزگار دیا، ہم نے بینظیر ایمپلائیز پروگرام کے ذریعے ریاستی اداروں میں مزدوروں کو مالک بنایا، وہ چیختے تھے کہ ہم ایک مزدور کو مالک کیسے بنا سکتے ہیں، ایک مزدور آدمی کو اس کی زندگی بھر کی محنت پر 80 لاکھ روپے کے شیئرز کیسے بیچ سکتے ہیں لیکن بھٹوازم نے یہ کر دکھایا، بھٹوازم کا فلسفہ سمجھ لو، بھٹوازم غربت اور افلاس کے خلاف جہاد کا نام ہے، اس لئے ہمارے کسان، بیروزگار، مزدور، ہاری، خواتین، غرباءغرض پورا پاکستان بھٹوازم سے امید لگا کر بیٹھا ہے کیونکہ عوام کو پتہ ہے کہ بھٹو کا نظام ہی ان کے دن بدلے گا اور اس لئے وہ ہمارے ساتھ ہیں، اور یاد رکھیں پورے پاکستان میں سب سے زیادہ روزگار پاکستان پیپلز پارٹی نے ہی دیا ہے۔ اس لئے تو آج بھی صدا آتی ہے،” بینظیر آئے گی، روزگار لائے گی۔۔۔“
کراچی وفاق کی زنجیر ہے، پاکستان کے دل کی دھڑکن ہے، یہ کراچی قائداعظم کا دارالحکومت تھا، یہ سندھ کے تاج میں کوہ نور ہے، یہ کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے، یہ کراچی منی پاکستان ہے، یہاں پرانا سنی بھی ہے، یہاں نیا سنی بھی ہے، اردو بولنے والے ہیں، پشتو بولنے والے ہیں، پنجابی بولنے والے ہیں، بلوچی، کشمیر، سرائیکی، بنگالی بولنے والے ہیں۔ یہاں پورے پاکستان کی نمائندگی ہے، یہ کراچی جہاں بی بی شہید پیدا ہوئی، جہاں میں پیدا ہوا، یہ کراچی میرا ہے، ہم سب کا شہر ہے، میں آج کراچی کو دیکھتا ہوں تو ایسا لگتا ہے جیسے سب ایک دوسرے کے ظلم کا شکوہ کر رہے ہیں، پرانا سندھی کہتا ہے کہ میں کراچی میں اقلیت بن کر رہ گیا ہوں، نیا سندھی غمزدہ ہے اور کہتا ہے کہ میں ظلم کا شکار ہوں، ارے بس بھی کر دو، جانے بھی دو، کراچی سب کا ہے، ہم سب مل کر اس شہر کو دنیا کا عظیم ترین شہر بنائیں گے، ہم کراچی میں امن و امان بہتر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، کراچی آپریشن جاری ہے، کراچی میں لاہور سے دو گنا زیادہ آبادی ہے مگر پولیس لاہور سے آدھی ہے، یاد رکھیں! کراچی دنیا کا ساتواں بڑا شہر ہے، قانون کے مسائل دنیا کے کس بڑے شہر میں نہیں ہوتے؟ پی پی پی کی حکومت کی وجہ سے کراچی کے سیریس کرائم ریٹس آج بھی دنیا کے کئی بڑے شہروں سے کہیں کم ہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی آج تک یہ جنگ اکیلی لڑ رہی ہے، ہم کراچی کو امن کا گہوارہ بنانا چاہتے ہیں، وزیراعظم صاحب! ہمیں ہمارا حق دو، کراچی ایک سپیشل کیس ہے، پاکستان کا واحد بڑا شہر ہے، اس کیلئے ایمرجنسی پیکیج دیا جائے، یہ صرف سندھ کا نہیں پورے پاکستان کا ہے، سندھ کب تک اکیلا لڑتا رہے گا، کراچی میں انتہاءپسندی کا مافیا ہے، گینگ وار کا مافیا ہے، لینڈ مافیا ہے، پاکستان کے دشمنوں کا مافیا ہے، آمریت کے پجاریوں کا مافیا ہے، سیاسی مافیا ہے، عدالتی مافیا بھی ہے۔ شکایت تو مجھے عدالت سے بھی ہے کہ چوہدری اسلم شہید اور ان جیسے پولیس افسران کی ترقی ختم کر دی جاتی ہے اور ہمارے وہ سب افسر ہٹا دیئے جاتے ہیں جو دہشت گردوں کیلئے خوف کی علامت ہوتے ہیں اور پھر انہیں افسران کو ان سڑکوں پر شہید کر دیا جاتا ہے، میں کہتا ہوں کہ سندھ حکومت کو سبوتاژ کرنا بند کر دو، اگر آپ دہشت گردوں سے اتنا ہی ڈرتے ہو تو استعفیٰ دے کر گھر بیٹھ جاﺅ کیونکہ ہمارے درمیان بزدلوں کی کوئی جگہ نہیں، ہم دہشت گردوں کے خلاف جہاد کرنے کیلئے تیار ہیں، آمریت کے خلاف انتہاءپسندی کے خلاف، غربت کے خلاف جہالت کے خلاف جہاد کرنے کیلئے تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم 20 سال سے کراچی پر حکمرانی کر رہی ہے، ان بیس سالوں میں کراچی میں جو ہوہم سب جانتے ہیں مگر اب پی ٹی آئی لاہور کی ایم کیو ایم بننا چاہتی ہے، لیکن ہم ڈرنے والے نہیں ہیں، کراچی کو بھٹو کا نظام ہی بدلے گا، آج ملک میں دھاندلی کا بہت شور ہے، پی پی کے خلاف ہمیشہ ہی دھاندلی ہوئی، ہر صوبے میں ہمارے خلاف دھاندلی ہوئی مگر نہ تو ہم کسی ایمپائر کی انگلی پر ناچتے ہیں اور نہ کوئی تحریک چلاتے ہیں، 2018 میں کراچی میں شفاف انتخاب ہوں گے اور کراچی کو آزادی ملے گی، اس دن بسنت کا ماحول ہو گا اور ہر شخص کہے گا ’بو کاٹا ‘۔ان کا کہنا تھا کہ آج بجلی قیمت آسمان تک پہنچ گئی ہے، اگر وزیر اعظم صاحب آصف زرداری کے پاک ایران گیس منصوبے پر عمل کرتے تو بجلی کی قلت نہ ہوتی، اللہ نے سندھ کو وسائل دئے ہیں ، ہمارے پاس اتنا کوئلہ ہے کہ ہم بجلی بنا سکتے ہیں ، میں وزیر اعظم کو دعوت دیتا ہوں کہ آئیں مل کر کام کرتے ہیں ،میں ایم کیو ایم کو بھی دعوت دیتا ہوں کہ آئیں مل کر کام کرتے ہیں، صحت کی وزارت ان کے پاس ہے مگر اس محکمے میں کوئی کام نہیں ہو رہا، اگر یہاں ایبولا وائرس آ گیا تو کون ہمارے بچوں کو بچائے گا؟

انہوں نے کہا کہ کا نعرہ تو ایک بہانہ ہے تا کہ ہمیں عوام کی خدمت سے روکاجا سکے کیونکہ وہ ہمارے دشمن ہیں، ہمیں اب مل کر کام کرنا ہو گا، اب وقت آ گیا ہے، اب سب کام کرنا ہو گا، اب ہر چیز کو شفاف بنانا ہو گا، ہر نوکری پر تعیناتی شفاف کرنا ہو گی، اب جیالے سے لے کر وزیر اعلی اور وزیر اعظم سب کو کام کرنا ہو گا۔ اب سب کو حساب دینا ہو گا، حکومت بھی سرکولر ڈیٹ کا حساب دے۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ ہمیں دیکھنا ہو گا کہ پاکستان میں احساس محرومی کیوں ہے؟ ایک طرف وہ ہیں جو لاپتہ افراد کے لئے بلوچستان سے اسلام آباد اپنے رشتہ داروں کی خاطر آئے مگر کسی نے ان کی بات نہیں سنی، انہوں نے تو کسی کے استعفے کا مطالبہ نہیں کیا، مگر دوسری طرف کٹھ پتلیوں نے دھرنا دیا تو سارا میڈیا ان کی طرف توجہ دے رہا ہے۔ پیپلز پارٹ کی سابقہ حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب ہماری حکومت آئی تھی تو ہم نے بلوچستان سے معافی مانگی تھی، ہم نے ہی آغاز حقوق بلوچستان کا پروگرام دیا تھا، ہم نے صوبائی خود مختاری دی تھی یہ بھٹوازم کا درس تھا۔ بلوچستان میں ہمارے جلائے ہوئے دیے سے تبدیلی آ رہی ہے، ہماری حکومت نے ہی سوئی کے علاقے میں سوئی گیس فراہم کی تھی، اب وزیر اعلی ڈاکٹر مالک پہلے بلوچ وزیر اعلی ہیں انہوں نے اگر بلوچستان کی خدمت کر دی تو سب منصوبے ناکام ہو جائیں گے۔آج اگر جس کا جو دل میں آتا وہ بات کر رہا ہے تو یہ صرف بھٹو ازم کی وجہ سے ہی ممکن ہوا ہے۔

انہوں نے کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے لگاتے ہوئے کہا کہ جب میں کشمیر کی بات کرتا ہوں تو مودی سرکار مجھ پر سوال اٹھاتی ہے، میں نے کشمیر کی بات کی تو پورا ہندوستان غصے میں آ گیا، ہماری تصویریں جلائی گئیں اور ہماری ویب سائیٹ ہیک کر لی گئی، پوری دنیا اس بھٹو ازم سے ڈرتی ہے، جب میں کشمیر کی بات کرتا ہوں تو مجھے غلط نہ سمجھا جائے،یہ میری ماں کا وعدہ تھا کہ کشمیر بنے گا پاکستان۔ انہوں نے کہا کہ آج ہماری پاک فوج کے جوان وزیرستان میں ہماری جنگ لڑ رہے ہیں مگر ہر مسئلے کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں ہے، آپریشن تو مشرف نے بھی کئے تھے مگر ناکام ہوا کیونکہ عوام اس کے ساتھ نہیں تھے مگر ہم نے آپریشن کئے تو کامیاب رہے کیونکہ اس کے پیچھے عوام تھے اور بھٹو ازم تھا۔ جب ہمارے جوان لڑ رہے تھے تو ہماری قیادت ان کے شانہ بشانہ تھی مگر آج صورتحال مختلف ہے پیپلز پارٹی اور چند جماعتوں کے سوا کوئی ضرب عضب کی حمایت نہیں کر رہا مگر یہ آپریشن کامیاب ہو گا ، میں جوانوں کو سلام پیش کرتا ہوںکیونکہ آج تو ہمارے جونواں کے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ میں کہتا ہوں کہ کٹھ پتلیاں دھرنوں سے اٹھیں اور خیبر پختونخواہ میں جا رکر کام کریں، اگر طالبان سے ڈر لگتا ہے تو بنوں میں آئی ڈی پیز کی ہی خدمت کر دو، آپ تو تین ماہ میں کرپشن اور دہشت گردی ختم کرنے جا رہے تھے مگر سب ویسا ہی ہے، آپ نیا پاکستان کیا بنائیں گے آپ تو نیا خیبر پختونخواہ نہیں بنا سکے، تحریک انصاف میں انصاف صرف ایمپائر کے لئے ہے، یہ کیسی سیاست ہے؟ اگر سیاست سیکھنا چاہتے ہو تو ہم سے سیکھو کہ سیلاب میں ڈوبے ہوئے لوگوں کو کیسے بچانا ہے، کراچی میں دہشت گردی کا مقابلہ آج بھی کر رہے ہیں۔

انہوں نے اپنے حالیہ دورہ پنجاب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت دہشت گردوں کے خلاف ہمارا ساتھ نہیں دے رہا اگر ایسا ہی رہا تو امن کا خواب خواب ہی رہے گا، جنوبی پنجاب کو دہشت گردی کی آماجگاہ بنا دیا گیا تھاکیونکہ ان کے وسائل پر قبضہ کر لیا گیا ہے، میں کہتا ہوں کہ ان کا الگ صوبہ قائم کیا جائے اور وزیر اعظم اس بات پر عمل کریںورنہ ہم یہ صوبہ بنوائیں گے، باقی پنجاب میں بھی عوام کی بری حالت ہے اور ہر جگہ پولیس گلو بٹ بنی ہوئی ہے، ہم جانتے ہیں اس کی وجہ آپ کی آمریت ہے۔ بلاول بھٹو نے اس موقع پر ’میں باغی ہوں ‘ سمیت دیگر کئی نظموں کے اشعار بھی سنائے۔