عدلیہ پر حملے کرنے والوں میں 8سے 9افراد بھی ہو سکتے ہیں، زمین پھٹے یا آسمان گرے قانون کے مطابق چلیں گے: سپریم کورٹ

قومی

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن ) سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ زمین پھٹے یا آسمان گرے قانون کے مطابق چلیں گے ، میڈیا اور حکومتی نمائندے منظم مہم چلا رہے ہیں اور حقائق جانے بغیر بہت کچھ کہا گیا ۔ ہمیں کسی کے کہنے پر کوئی ڈر نہیں ہے ۔

سماءٹی وی کے مطابق جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں قائم 3رکنی پاناما عملدرآمد بینچ نے جے آئی ٹی کو تحقیقات میں رکاوٹوں اور دھمکیوں کے حوالے سے واجد ضیاءکی درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ خاموش تماشائی نہیں رہ سکتے،عدلیہ پر حملے کرنے والوں میں 8سے نو افراد بھی ہو سکتے ہیں۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ کس نے اختیار دیا ہے جے آئی ٹی ممبران کو ہراساں کیا جائے ، ہم نے کوئی بھرتیاں نہیں کی تھیں بلکہ جے آئی ٹی مقر ر کی تھی ۔ یہ سیدھا سیدھا ہراساں کرنا ہے ۔ عدالت نے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب یہ کیا ہو رہا ہے ، اس معاملے کی تحقیقات ہونی چاہئیں ۔
جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیے کہ یہ کوئی سائیکل نہیں جو ہر چیز کو لیک کا نام دیا جائے ، یہ معلومات باقاعدہ جاری کی جا تی ہیں ، آئی بی نے اعتراف جرم کیا ۔ بتایا جائے آئی بی ریاست کیلئے کام کرتی ہے یا کسی فرد کیلئے ۔ کیسے مان لوں میری مانیٹرنگ نہیں ہو رہی ۔۔کیا آئی بی ہمارا ڈیٹا بھی اکٹھا کرتی ہے۔ہم کیسے مان لیں کے آئی بی ہماری مانیٹرنگ نہیں کر رہی ، آئی بی کو کس نے اختیار دیا کہ ڈیٹا اکھٹا کرے ؟۔