قومی اقتصادی کونسل نے ترقیاتی بجٹ کی منظوری دیدی ،ملکی ترقی کے معاملے پر سیاست نہیں ،سب کو ایک ہونا چاہئے:وزیر اعظم محمد نواز شریف

قومی

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )قومی اقتصادی کونسل نے آئندہ مالی سال 18-2017 کے لیے پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے ترقیاتی بجٹ کی منظوری دے دی جبکہ اقتصادی ترقی کے ہدف کو آئندہ مالی سال کے لیے 6 فیصد تک مقرر کردیا۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم نوازشریف کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کا اہم اجلاس ’’وزیر اعظم ہاؤس ‘‘ میں  ہوا جس میں چاروں وزرائے اعلیٰ ، وزیر اعظم آزاد کشمیر اور وفاقی و صوبائی وزرا نے شرکت کی۔ قومی اقتصادی کونسل نے آئندہ مالی سال کے لیے 2ہزار ایک سو 13 ارب کے ترقیاتی بجٹ کی منظوری دیتے ہوئے  آئندہ مالی سال کے لیے معاشی ترقی کا ہدف 6 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے آئندہ بجٹ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔وفاقی ترقیاتی بجٹ 1 ہزار 1 ارب روپے جبکہ صوبائی ترقیاتی بجٹ 1 ہزار 1 سو 12 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ رواں مالی سال مجموعی ترقیاتی بجٹ کا حجم 16 سو 75 ارب روپے تھا۔وفاقی بجٹ کے لیے 1 سو 68 ارب روپے غیر ملکی ذرائع سے حاصل کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔وزیر اعظم نے آئندہ مالی سال کے لیے معاشی ترقی کی شرح کا ہدف 6 فیصد مقرر کیا جبکہ  رواں مالی سال ملکی معاشی شرح نمو 5.3 رہی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم محمد نواز شریف کا کہنا تھا کہ  توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے اقدامات کررہے اور وفاق سمیت تمام صوبوں کی یکساں ترقی کےلئے کوشاں ہیں، ملکی ترقی کے معاملے پر کوئی سیاست نہیں ہونی چاہئیے،پاکستان کی ترقی کے ایجنڈے پر سب کو ایک ہونا چاہیئے اور یہ معاملہ سیاست کی نذر نہیں ہونا چاہیئے،ملکی تاریخ میں پہلی بار صوبوں کے ترقیاتی بجٹ میں 3 گنا اضافہ کیاگیاہے،اسے سیاست کی نذر نہیں کرنا چاہیے، عوام کو صرف بجلی دینا ہی نہیں بلکہ سستی بجلی کی فراہمی ترجیح ہے۔انہوں نے کہا کہ چین میں بیلٹ اینڈروڈ کانفرنس میں چاروں وزرائےاعلیٰ میرےساتھ تھے اور دنیا نے دیکھا کہ پاکستان کی ترقی کےلیے پوری ملکی سیاسی قیادت متحد ہے،سی پیک پر تیز رفتاری سے کام ہورہا ہے، پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار کو عالمی اقتصادی ادارے بھی تسلیم کر رہے ہیں اور پاکستان کے معاشی اعشاریوں میں بھی بہتری آئی ہے جبکہ رواں سال اقتصادی ترقی 5.28 فیصد تک پہنچ گئی ہے جو حوصلہ افزاء اور قابل اطمینان ہے، گلگت بلتستان، آزادکشمیر اور فاٹا کی ترقی ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ  قومی اقتصادی کونسل نے وفاق اور صوبوں کے لیے 2 ہزار 113 ارب روپے کے ریکارڈ ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی ہے، وفاقی اور صوبائی حکومتیں ملک کی ترقی کےلیے اتفاق رائے سے آگے بڑھ رہی ہیں۔توانائی بحران پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ ملک میں توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایل این جی، کول، ہائیڈرل، سولر اور ونڈ پاور کے منصوبوں پر کام کیا جارہا ہے کیونکہ عوام کو صرف بجلی نہیں بلکہ سستی بجلی فراہم کرنا حکومتی ترجیح ہے،انفراسٹرکچر کی تعمیر ملکی ترقی کا بنیادی جزو ہے اسی لیے ملک بھر میں شاہراہوں اور دیگر مواصلاتی رابطوں کو جوڑنے کے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔

اجلاس میں وزارت خزانہ اور وزات منصوبہ بندی کی جانب سے آئندہ مالی سال کے اقتصادی اہداف اور ترقیاتی بجٹ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی،قومی اقتصادی کونسل نے رواں مالی سال کے 5.7 فیصد ہدف کے مقابلے میں آئندہ مالی سال کے لیے اقتصادی ترقی کا ہدف 6 فیصد مقرر کرنے کی بھی منظوری دی۔اجلاس میں وفاق کا ترقیاتی بجٹ ایک ہزار ایک ارب روپے جبکہ صوبوں کا ترقیاتی بجٹ ایک ہزار 112 ارب روپے رکھا گیا۔ پی ایس ڈی پی کی مد میں 866 ارب روپے جبکہ 135 ارب روپے خصوصی اقدامات کے لیے مختص کیے جائیں گے۔قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں آئندہ مالی سال 18-2017 کے بجٹ کے حوالے سے کئی تجاویز دی گئیں جن کے مطابق وزیر اعظم گلوبل ایس ڈی خیز پروگرام کے لیے 30 ارب،خصوصی وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لیے 40 ارب ،انرجی فار آل پروگرام کے لیے ساڑھے 12 ارب ،صاف پانی کی فراہمی کے پروگرام کے لیے ساڑھے 12 ارب،ایرا کے لیے ساڑھے 7 ارب ،سی پیک منصوبوں کی تکمیل سے متعلق 5 ارب،آئی ڈی پیز اور سیکیورٹی کے لیے 90 ارب، ایوی ایشن ڈویژن کے لیے 4 ارب 34 کروڑ 80 لاکھ ،کابینہ ڈویژن کے لیے 15 کروڑ 97 لاکھ ،کیڈ ڈویژن کے لیے 5 ارب 18 کروڑ ،موسمیاتی تبدیلی ڈویژن کے لیے 81 کروڑ 50 لاکھ ،وزارت تجارت کے لیے 1 ارب 20 کروڑ ،مواصلات ڈویژن کے لیے 13 ارب 66 کروڑ ،دفاع ڈویژن کے لیے 53 کروڑ 50 لاکھ ،دفاعی پیداوار ڈویژن کے لیے 4 ارب 46 کروڑ ، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے لیے 27 کروڑ ، وزارت تعلیم و تربیت کے لیے 2 ارب 96 کروڑ ، وزارتِ خزانہ کے لیے 18 ارب 93 کروڑ ،وزارت خارجہ کے لیے 20 کروڑ ،ایچ ای سی کے لیے 35 ارب 66 کروڑ ،وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے لیے 11 ارب اور وزارت انسانی وسائل کے لیے 30 کروڑ روپے کا ترقیاتی بجٹ رکھنے کی تجویز دی گئی ہے ۔