پاناما کیس کی سماعتوں کے دوران پیش آنے والے وہ لمحات جو ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے

قومی

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )سپریم کورٹ پاناما لیکس کیس کا فیصلہ سنا دیاہے اور جے آئی ٹی تشکیل دینے کا حکم جاری کیاہے تاہم پاناما کیس کی سماعت 126دن تک جاری رہی جس میں مجموعی طور پر26سماعتیں ہوئیں اور اس دوران ایسے لمحات بھی آئے جس کے باعث سپریم کورٹ کا ہال قہقہوں سے گونج اٹھا ۔
31دسمبر 2016کو ریٹائرمنٹ سے قبل لارجر بینچ کے سربراہی سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کر رہے تھے ،ایک مرتبہ سماعت کے دوران شیخ رشید کے دلائل سننے کے بعد انہوں نے ریمارکس دیئے ،شیخ صاحب آپ اگر آپ سیاستدان نہ ہوتے تو ایک اچھے وکیل ہوتے ،جس پر شیخ رشید نے ان کا شکریہ ادا کیا ۔
30نومبر 2016کوپاناما لیکس کی سماعت میں وقفے کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بولی ووڈ اداکارہ کترینہ کیف کا نام لیتے ہوئے ازراہ مذاق کہا تھا کہ میں مقدمے پر بات نہیں کروں گا ،ہاں اگر کترینہ کیف پر بات کرنے کو کہیں تو کرلوں گا ۔
11جنوری کو کیس کی سماعت کے دوران شیخ رشید نے عدالت عظمیٰ میں کہا کہ’شریف خاندان قطری خط کے پیچھے چھپ رہاہے ،یہ خط رضیہ بٹ کا ناول ہے ،جس پر عدالت میں قہقہے بلند ہوئے ۔
15دسمبر کو پانامالیکس کیس کی سماعت کیلئے آنے والے عمران خان کی چپل نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا تھا ،جس پر پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی عثمان ڈار نے اپنی چپل عمران خان کو پیش کر دی اور انہو ںنے خود محض موزوں پر ہی اکتفا کیا ۔
وزیراعظم نوازشریف کے وکلاءکی جانب سے پاناما کیس کی سماعت کے دوران ثبوت کے طور پر قطری شہزادے شیخ حماد بن جاسم بن طاہر الثانی کے دو خطوط پیش کیے گئے ،جنہوں نے 2007اور 2013تک قطر کی حکمرانی کی تھی ۔
6نومبر 2016کو کیس کی سماعت کے دوران لارجر بینچ کے رکن جسٹس آصف سعید کھوسہ نے پی ٹی آئی کی جانب سے جمع کروائے گئے شواہد کا ’داستان الف لیلیٰ‘ سے موازنہ کیا اور کہا کہ ہم نے 6گھنٹے صرف متعلقہ دستاویزات ڈھونڈنے میں صر ف کر دیئے ۔