پاناما کیس فیصلہ، پاکستانی کے ساتھ عالمی میڈیا پر بھی چھایا رہا

قومی

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ آف پاکستان نے آج (جمعرات کو) دوپہر 2 بجے پاناما کیس کا فیصلہ سنا دیا ہے۔ فیصلہ آنے سے پہلے اور بعد میں بھی جہاں پاکستانی میڈیا کی پوری توجہ اسی کیس پر ہے وہیں انٹر نیشنل میڈیا پر بھی پاناما کیس کا فیصلہ چھایا رہا ۔ پاناما کیس کے فیصلے نے پاکستان کے علاوہ دنیا بھر کے میڈیا میں شہہ سرخیوں میں جگہ پائی ہے۔ عالمی میڈیا میں پاناما کیس کے فیصلے پر لگائی جانے والی چند ایک سرخیاں ہم ذیل میں پیش کر رہے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی جانب سے فرانسیسی ناول گاڈ فادر کے جملے کے حوالے کو اپنی سرخی بنایا اور لکھا کہ ”سپریم کورٹ نے پاناما کیس میں وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف مزید تحقیقات کا حکم دے دیا ہے“۔


عرب میڈیا میں بھی پاناما کیس نے خوب جگہ بنائی
العربیہ نیوز نے فیصلے پر سرخی لگائی کہ ” پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت نے وزیر اعظم کو پاور میں برقرار رہنے کا فیصلہ سنادیا“۔


الجریرہ نے بھی اسی سے ملتی جلتی سرخی لگائی اور لکھا
” وزیر اعظم نواز شریف کو نا اہل قرار دینے کیلئے کافی شواہد پیش نہیں کیے گئے،پاکستانی سپریم کورٹ“


پاناما فیصلے کی کوریج کے معاملے میں بھارتی میڈیا پاکستانی میڈیا سے بھی چار ہاتھ آگے رہا اور سارا دن اس فیصلے کی براہ راست کوریج کرتا رہا۔
بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی نے پاناما کیس کے فیصلے کی لمحہ بہ لمحہ خبر دی جبکہ نیوز 18 ، نیوز ایکس سمیت دیگر بھارتی اخبارات و ٹی و چینلز اپنی ویب سائٹ یا ٹی وی سکرینز پر قارئین و ناظرین کو کیس سے لمحہ بہ لمحہ آگاہ کرتے رہے۔

امریکی ٹی وی چینل سی این این نے فیصلے کی کچھ ان الفاظ میں خبر دی
”پاناما پیپرز میں ملوث وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کو کیس میں نئی تحقیقات کا سامنا کرنا پڑے گا“۔


امریکی صف اول کے اخبار واشنگٹن پوسٹ نے لکھا
”پاکستانی وزیر اعظم سپریم کورٹ کے فیصلے میں نا اہلی سے بال بال بچ گئے“


برطانوی اخبار گارڈین نے پاناما فیصلے پر سرخی لگائی کہ
” کرپشن الزامات پر عدالت نے وزیر اعظم کو نا اہل قرار دینے کی درخواست مسترد کردی“


برطانوی خبر ایجنسی روئٹرز نے لکھا
”پاکستانی کی اعلیٰ ترین عدالت نے وزیر اعظم کو نا اہل قرار دینے کی درخواست مسترد کردی“