پانامہ کیس فیصلے میں جسٹس آصف سعید کھوسہ کی13تنقیدی باتیں

قومی

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ میاں نواز شریف کو رکن قومی اسمبلی کی حیثیت سے نااہل قرار دینے کا نوٹیفیکیشن جاری کرے جس کے نتیجے میں وہ وزارت عظمیٰ کے لیے نااہل قرار پائیں۔انہوں صدر پاکستان سے کہا ہے کہ وہ ملک میں جمہوریت اور پارلیمانی نظام کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔انہوں نے اپنے اختلافی نوٹ پر13تنقیدی باتیں بھی کی ہیں
تفصیلات کے مطابق پانامہ کیس میں جسٹس آصف سعید کھوسہ نے وزیر اعظم اور ان کے بیٹوں کے حوالے سے 13تنقیدی باتیں کی ہیں
1۔ گارڈ فادر کا اقتباس
جسٹس کھوسہ نے فیصلے کی ابتداءگاڈ فادر ناول کے ” ہر بڑی دولت کے پیچھے ایک جرم ہوتا ہے“ اقتباس سے کی ہے ۔
2۔ تحقیقاتی اداروں کی ناکامی/انکار
اپنے نوٹ میں آصف سعید کھوسہ نے لکھا کہ دیگر ادارے نواز شریف کی تحقیقات کرنے میں ناکام رہے یا انہوں نے تحقیقات سے انکار کردیا۔ یہ پٹیشن متعلقہ اداروں نیب، ایف آئی اے، سٹیٹ بینک آف پاکستان ، ایف بی آر ، سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن اور سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے الیکشن کمیشن میں وزیر اعظم کے معاملہ بھیجنے میں ناکامی یا انکار کی صورت میں دائر کی گئی۔
3۔وزیر اعظم قانون سے بالاتر نہیں
جسٹس کھوسہ نے تحریر کیا ہے کہ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ آپ جتنے بھی اعلیٰ رتبے پہ ہوں لیکن قانون آپ سے بھی بالا ہے۔یہ جمہوریت کا حسن اور قانون کی بالادستی ہے کہ ملک کا وزیر اعظم بھی اس کے سامنے پیش ہو اور انہیں محض استثنیٰ کی بنیاد پر چھٹی نہ دی جائے۔کیوں کہ تحقیقات کرنے والے دیگر اداروں میں وزیر اعظم کے وفادار افراد ہیں اس لئے سپریم کورٹ اس پر غیر جانبدار تحقیقات کرے۔
4۔وزیر اعظم سچے نہیں ہیں
اختلافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ نہیں بتایا گیا کہ کیس طرح وزیر اعظم کے والد نے اتفاق فاﺅنڈریز کے قومیائے جانے کے بعد محض18مہینوں میں 6نئی فیکٹریاں کیسے لگائی گئیں حالانکہ ان کی ساری دولت بحق سرکاری ضبط کر لی گئی۔وزیر اعظم نے تقریر میں یہ نہیں بتایا کہ دبئی کی فیکٹری کیسے اور کتنے میں بیچی گئی۔اور مکہ میں فیکٹری لگانے کے حوالے سے بھی کوئی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔ تمام چیزیں اور دولت محض قسمت کی مہربانی سے نہیں جمع کی جاسکتیں۔ نواز شریف اپنی ملکیتوں اور لندن کی جائیدادوں کی وضاحت کرتے ہوئے اس قوم، پارلیمنٹ اور عدالت کے سامنے دیانت دار نہیں رہے۔
5۔وزیر اعظم اور ان کے خاندان نے لندن میں جائیدادیں کیسے بنائیں؟
22اپریل 2016ءکو اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے لندن میں جائیدادیں بنانے کے حوالے سے کوئی بھی بات نہیں بتائی کہ وزیر اعظم نے یا ان کے بیٹوں نے یہ جائیدادیں کس طرح بنائیں۔ کم عمری میں بچوں کی جانب سے جائیدادیں بنانا سمجھ سے بالاتر ہے۔
6۔دبئی فیکٹری اچانک کہاں سے ٹپک پڑی؟
مئی2016ءمیں اپنے خطاب کے دوران وزیر اعظم نے دبئی کی فیکٹری کی فروخت کا تذکرہ کیا تھا لیکن اس جائیداد کے حوالے سے کوئی بھی تفصیل قوم سے شئیر نہیں کی گئی، یہ فیکٹری اچانک کیسے نمودارہوگئی؟
7۔ نواز شریف کی فیکٹری مکہ میں تھی یا جدہ میں؟؟
وزیر اعظم نے سعودی عرب میں فیکٹری کے حوالے سے قوم سے خطاب میں تسلیم کیا کہ انہوں نے فیکٹری مکہ میں ہے جبکہ قومی اسمبلی سے خطاب میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ فیکٹری جدہ میں ہے، یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ فیکٹری کہاں تھی
8۔وزیر اعظم کہتے ریکارڈ ہے مگر وکیل انکاری کیوں؟
لندن جائیدادوں اور فیکٹریوں کی خرید و فروخت کے حوالے سے وزیر اعظم نے کہا کہ ان تمام جائیدادوں کا ریکارڈ موجود ہے مگر وزیر اعظم کے وکیل نے عدالت میں ثبوت پیش کرنے سے معذرت کی۔
9۔شریف خاندان نے حقائق چھپائے
جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں کہا کہ وزیر اعظم اور ان کے بیٹوں نے قوم سے، پارلیمنٹ سے اور عدلیہ سے حقائق چھپائے ہیں اور انہوں نے حقائق چھپا کر بددیانتی کی ہے۔
10۔قطری خط ایک من گھڑت کہانی تھا
جسٹس کھوسہ نے قطری خط کے حوالے سے کہا کہ وزیر اعظم نے قطر میں رئیل اسٹیٹ بزنس کے حوالے سے نہ تو پہلے کوئی بات کی نہ ہی اپنی تقاریر کے دوران اس بات کو تسلیم کیا۔ قطری خط ایک من گھڑت کہانی کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔
11۔حسن نواز کے پاس دولت کہاں سے آئی؟؟
جسٹس آصف سعید کھوسہ کی جانب سے لکھے گئے اختلافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ لندن پراپرٹیز میں حسن نواز نے عدالت میں کوئی بھی ثبوت فراہم نہیں کئے وہ محض دولت جمع کرنے میں مصروف ہیں۔
12۔التہانی خاندان کی کہانی نے شریف خاندان کی ساکھ متاثر کی۔
جسٹس آصف سعید کے مطابق التہانی خاندان کے ساتھ مل کر رئیل اسٹیٹ بزنس میں شراکت داری کے انکشاف نے کیس کو ایک نیا رخ دیا مگر اس سے شریف فیملی کی ساکھ بھی متاثر ہوئی ہے۔التہانی خاندان کے حوالے سے کہا کہ میاں شریف مرحوم نے دبئی کی جائیدادیں فروخت کرکے التہانی خاندان کے ساتھ کاروباری شراکت داری کی مگر بعد ازاں کہا گیا کہ وزیر اعظم نوا ز شریف کے بیٹوں نے اس میں انویسٹمنٹ کی
13۔شریف فیملی حیلے بہانے کر رہی ہے۔
جسٹس کھوسہ نے کہا کہ شریف فیملی نے محض حیلے بہانوں کا سہارا لیا ، کیس کے دوران کوئی بھی جاندار ثبوت عدالت میں پیش نہیں کئے گئے۔وزیر اعظم کے وکلاءنے بھی ان کی بے گناہی کے حوالے سے کوئی بھی ثبوت نہیں دئیے اور نہ ہی نواز شریف کے بچوں نے اپنی جائیدادوں کے حوالے سے کوئی بھی قابل ذکر بات بتائی۔
جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا ہے’اس بد دیانتی کی وجہ سے وزیراعظم نواز شریف آئین کی شق 62 اور عوامی نمائندگان کے قانون 1976 کے تحت مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے رکن رہنے کے اہل نہیں رہے۔