ملک میں کسی دہشت گرد کا دفتر موجود نہیں: چوہدری نثار علی خان

قومی

اسلام آباد (صباح نیوز) وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ ملک میں کسی دہشت گرد کا دفتر موجود نہیں ہے، میری ایک ملاقات پر شور مچایا گیا اس وقت پر شور کیوں نہ مچا جب یہ شخص 2013ء کا الیکشن لڑا، فرقہ پرست تنظیموں پر پابندی کے حوالے سے مزید قانون سازی کی ضرورت ہے، ردالفساد، ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اس پر سیاست نہیں ہونی چاہئے۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اراکین سینٹ کی تحریک ''کہ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اپنے 10 جنوری 2017ء کے بیان کی وضاحت کریں'' پر ایوان بالا میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میرے بیان کے بعد ایوان بالا میں اس پر تنقید کی گئی۔ بہتر تھا کہ اس بار مجھ سے بھی وضاحت لی جاتی۔ یہاں ہمیں سچ بولنا چاہئے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ ایوان میں بات کا جواب ایوان میں ہی مانگا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے میں کسی قسم کی نرمی کی بات نہیں کی کہ ان کو کوئی لچک دی جائے مگر ایوان میں شور برپا کیا گیا۔ میں نے اپنے تجربے کی بنیاد پر کہا کہ ان دو گروہوں میں فرق ہے ایک دہشت گرد اور ایک فرقہ پرست ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد تنظیموں پر پچھلے 5 سال میں کوئی بات نہیں کی گئی نہ ان کا ڈیٹا لیا گیا اور نہ ہی ان کے خلاف ایکشن ہوا۔

انہوں نے کہاکہ جب ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان کا ذکر ہوا تو میں نے کہا تھا کہ یہ سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ کراچی کے ایک سینیٹر نے کہا کہ کراچی کو فوج کے حوالے کیا جائے مگر میں نے کہا کہ نہیں رینجرز کے ذریعے آپریشن کرینگے اور اس کا کنٹرول وزیراعلیٰ سندھ کے ہاتھوں میں ہو گا۔ میں نے قائم علی شاہ سے کہا کہ اس حوالے سے کریڈٹ نہیں لوں گا۔ وہاں کے حالات کی بہتری کی وجہ بھرپور تعاون ہے۔ ردالفساد، ضرب عضب، نیشنل ایکشن پلان وزارت داخلہ کا اقدام تھا۔ ایک وقت تھا۔ 5 سے 6 دھماکے روز ہوتے تھے۔ واضح کمی آئی ہے۔ شمالی وزیرستان دہشت گردوں کا گڑھ تھا۔ پچھلی حکومتوں نے ایکشن نہیں لیا۔ آج ملک میں کسی دہشت گرد تنظیم کا دفتر نہیں ہے۔ سارے سرحد سے باہر ہیں اگر کسی کو علم ہو تو وزارت داخلہ کو اطلاع کرے۔ انہوںنے کہا کہ مجھ سے کہا جاتا ہے کہ میں کالعدم تنظیموں سے ملتا ہوں۔ جو ملنے آئے ان میں مسلم لیگ (ق)، جماعت اسلامی کے لوگ اور مولانا سمیع الحق بھی موجود تھے۔ میرے پاس تصویریں موجود ہیں جن میں کالعدم تنظیم کا سربراہ صدر کو مل رہا ہے۔ نگران حکومت کے دورمیں اس شخص نے اسمبلی کا الیکشن لڑا۔ سینکڑوں جلسے کئے، مسلم لیگ (ن) کے رکن سے ہار گئے۔ الیکشن کمیشن نے ان کو دوبارہ رکن بنایا۔ اس وقت تو شور نہ ہوا۔ مجھے اچھا لگتا کہ یہ شور اس وقت بھی ہوتا۔ جس ملاقات پر شور شرابہ ہوا وہ طے بھی نہ تھی۔ شناختی کارڈ کے مسئلے پر ملے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گرد تنظیموں کو اجازت نہیں ہے جہاں تک فرقہ پرست تنظیموں کا تعلق ہے تو ہمیں طے کرنا ہو گا کہ یہ لوگ الیکشن نہ لڑ سکیں۔ کسی سے نہ مل سکیں۔ جلسے نہ کر سکیں۔ نیکٹا کو کہا کہ وہ فرقہ پرست جماعتوں کے حوالے سے بھی کام کریں اور دونوں ایوانوں میں قانون لائیں کہ دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ فرقہ پرست جماعتوں کے خلاف بھی قانون سازی ہو۔ اس بات کو غلط رنگ لیا گیا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ دہشت گرد تنظیم کا کوئی پتہ نہیں ہوتا۔ جب اس پر پابندی لگتی ہے تو اس کے پاس ایک مہینے میں ہائیکورٹ میں اپیل کی گنجائش ہوتی ہے۔ یہی قانون فرقہ پرست جماعتوں کیلئے بھی ہے۔ اس قانون کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔۔ یہ سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کامیابیوں پر سب ہم جانتے ہیں ناکامیوں پر وزیر داخلہ پر ذمہ داری ڈال دی جاتی ہے۔ اب تک جو کامیابیاں ہوئی ہیں۔ وہ ہماری مشترکہ کوششوں اور حکمت عملی سے ہوا ہے۔ بہت سا سفر طے کر چکے ہیں تھوڑا سا رہتا ہے۔ اس کو سیاست کی نذر نہ کیا جائے۔