عدالت اور مجوزہ جے آئی ٹی کودباؤ میں لانے کے لیے اپوزیشن نے انتشار کی سیاست شروع کردی، زرداری براہ راست عدلیہ کی تضحیک کے مرتکب ہوئے ہیں :سینیٹر ساجد میر

قومی

سیالکوٹ (ڈیلی پاکستان آن لائن) مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ  سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے  کہا ہے کہ عدالتی فیصلے کے بعد جس کے منہ میں جو آتا ہے چیخ وپکار کررہا ہے، عدالت اور جے آئی ٹی سے متعلقہ اداروں کودباؤ میں لانے کے لیے اپوزیشن نے انتشار کی سیاست شروع کردی،جس وزیر اعظم کو عدالت نے اہل قراردے دیا ہے اسے سڑکوں پر احتجاج کے ذریعے مستعفی ہونے پر مجبور کرنا کہاں کی جمہوریت اور آئین کی بالادستی ہے؟عدالت کے فیصلے کا احترام نہ کرنا کہاں کی دانشمندی ہے؟ آصف علی زرداری براہ راست عدلیہ کی تضحیک کے مرتکب ہوئے ہیں۔

سیالکوٹ میں  اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ اب جبکہ پانامہ کیس کے منطقی انجام کیلئے سپریم کورٹ کی جانب سے واضح لائن آف ایکشن دی جا چکی ہے، اس لئے فریقین کی جانب سے اس فیصلہ کو اپنی جیت یا ہار سے تعبیر نہیں کرنا چاہیے اور انصاف کے بول بالا کیلئے عدالتی احکام کی تعمیل میں جے آئی ٹی کے ساتھ مکمل تعاون کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جس کے منہ میں جو آتا ہے بات کر دیتا ہے، چیخ و پکار سے نہیں بلکہ دلیل اور حقائق کو پیش نظر رکھ کر تجزیہ کرنا چاہئے، پانچ سال حکومت کرنے والوں نے برطانیہ اور امریکہ میں جو جائیدادیں بنائیں عمران خان کو ان کے بارے میں بھی بلاول سے پوچھ لینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری الطاف حسین کے علاوہ وہ واحد سیاسی پارٹی لیڈر ہیں جن کے اثاثہ جات آج تک ڈیکلیئر نہیں ہوئے، اگر وہ اپنے اثاثہ جات کا اعلان کر دیں تو سارا مسئلہ ہی حل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خلاف تحریک کے نام پر دراصل سیاست کھیلی جا رہی ہے۔