گوادر میں چپکے سے چین نے ایسی چیز بناڈالی جو پورے پاکستان میں کہیں نہیں ہے، ایسا کیا ہے؟ جان کر پاکستانی بے حد خوش ہوجائیں گے

قومی

گوادر (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کا ایک ساحلی قصبہ جسے دنیا گوادر کہتی ہے، کبھی ایک گمنام جزیرہ نما ہوا کرتا تھا، لیکن چین کی عظیم الشان سرمایہ کاری کے بعد اب یہ نہ صرف چین اور وسطی ایشیاءکے درمیان رابطے کا اہم ترین ذریعہ بن رہا ہے بلکہ پاکستان کی سب سے بڑی بین الاقوامی بندرگاہ بننے کے لئے بھی تیار ہے۔
وائس آف امریکہ کی رپورٹ کے مطابق گوادرمیں بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر کی تعمیر جاری ہے اور جزیرہ نما گوادر چین کی خلیج فارس تک رسائی کے عزیم الشان منصوبے کا مرکزی نقطہ بن چکا ہے۔ یہاں کی ایک انتہائی منفرد چیز ”چائنہ ٹاﺅن“ ہے جہاں چینی شہری بھی نظر آتے ہیں اور چینی ثقافت کے خوبصورت رنگ بھی چھلکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایک اعلیٰ چینی عہدیدار نے بتایا کہ نومبر میں چین کے علاقے کاشغر سے گوادر تک 60 کنٹینروں کا پہلا قافلہ روانہ ہوا اور کامیابی سے اپنا سفر مکمل کیا۔ اس سے پہلے یہ تجارتی قافلے بحیرہ جنوبی چین اور بحر ہند سے ہوتے ہوئے گوادر پہنچا کرتے تھے۔ پاک چین اقتصادی راہداری کے شاندار منصوبے نے چین سے بحیرہ عرب تک پہنچنے کا 12ہزار کلومیٹر پر مشتمل روٹ مختصر ہو کر ایک چوتھائی رہ گیا ہے۔
اب چین کے سنکیانگ صوبے سے براہ راست گوادر تک کا زمینی راستہ تیار ہوچکا ہے۔ چین کے لئے نئی اقتصادی راہداری کا اہم ترین فائدہ یہ ہے کہ اس کے تجارتی سامان کو بحیرہ جنوبی چین میں امریکی بحریہ کی وجہ سے لاحق خطرات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
کاشغر سے گوادر کا سفر کرنے والے تجارتی قافلوں کی سکیورٹی کے لئے 12ہزار اہلکاروں پر مشتمل خصوصی سکیورٹی فورس کا قیام عمل میں آچکا ہے۔ پاکستان کے دشمنوںنے اس منصوبے کے خلاف ہر ممکن سازش کی لیکن پاکستانی سکیورٹی فورسز اور چینی عزم کے سامنے یہ تمام سازشیں سمندر برد ہوچکی ہیں۔
افواج پاکستان کی شاندار سکیورٹی نے چین کو مزید حوصلہ دیا ہے اور اس کی تعمیراتی و تجارتی سرگرمیوں میں تیزی آگئی ہے۔ کوئلے سے چلنے والا ایک فیبریکیٹڈ پلانٹ بھی گوادر لانے کی تیاری کی جارہی ہے، جو توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اسی طرح چین گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے قیام کے لئے بھی مالی تعاون فراہم کرے گا۔ فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن چین کے مالی تعاون سے پاکستان میں تین ہزار کلومیٹر پر مشتمل شاہراہوں کا نیٹ ورک بھی تعمیر کررہی ہے، جو فاصلوں کو مزید مختصر کردے گا۔


اب کراچی سے گوادر تک کی شاہراہ بہت ہموار ہے جس کے کنارے سمندر کی لہریں، عظیم الشان پہاڑ اور سنہری ریت میں گم ہوتی کھائیاں طلسماتی منظر پیش کرتی ہیں۔ جب اس طویل اور عظیم شاہراہ پر سفر کرنے والے گوادر پہنچتے ہیں تو یوں احساس ہوتا ہے کہ گویا سمندر کے کنارے صدیوں سے خوابیدہ خوبصورتی انگڑائی لے کر جاگ اٹھی ہے۔
گوادر میں امن آنے کے بعد رئیل سٹیٹ کا کاروبار بھی عروج پر ہے اور ہر کوئی یہاں قیمتی زمین کا مالک بننے کیلئے بے چین نظر آتا ہے۔ گوادر میں چینی سرمایہ کاری کے بعد سمندری علاقہ بھی پہلے سے زیادہ محفوظ ہوگیا ہے۔ فروری کے مہینے میں 36 ممالک، جن میں امریکہ اور روس بھی شامل تھے، نے پاکستانی بحریہ کی کثیر الملکی بحیرہ عرب پٹرولنگ میں حصہ لیا، جو عالمی سطح پر اس بات کا اعتراف ہے کہ یہ سمندری علاقہ مکمل طور پر محفوظ ہے۔