سپریم کورٹ میں پانامہ سماعت کل تک ملتوی،پانامہ کیس تکمیل کی جانب بڑھ رہا ہے، انشاءاللہ پرسوں کیس کی سماعت مکمل ہوجائے گی:جسٹس آصف سعید کھوسہ کے ریمارکس

قومی

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں پانامہ کیس کی سماعت ہوئی اور جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ پانامہ کیس تکمیل کی جانب بڑھ رہا ہے اور انشاءاللہ پرسوں کیس کی سماعت مکمل ہوجائے گی۔سپریم کورٹ نے سماعت کل تک ملتوی کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو کل 11 بجے تک دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں 4 روز کے وقفے کے بعد پانامہ کیس کی سماعت آج پھر ہوئی اوروزیراعظم اور ان کے بچوں نے ایک نئی درخواست جمع کرائی۔درخواست میںپی ٹی آئی کی دستاویزات کو ریکارڈ کا حصہ نہ بنانے کی استدعاکی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم اور ان کے بچوں کی طرف سے جمع کرائی گئی درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ اگر پی ٹی آئی کی دستاویزات کو ریکارڈ کا حصہ بنانا ہے تو مزید 8 ہفتوں کا وقت دیا جائے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ دستاویزات ہمارے وکلاءکے دلائل مکمل ہونے کے بعد جمع کرائی گئی ہیں،دلائل ختم ہونے کے بعد دستاویزات پر جواب جمع کرانے کا موقع نہیں ملے گا۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ عمران خان اور جہانگیر ترین کیخلاف درخواستوں کو سماعت کیلئے مقرر کیا جائے کیونکہ عمران خان،جہانگیر ترین نے بھی آف شورکمپنیوںکے الزامات مسترد نہیں کیے ہیں۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ آف شور کمپنیوں سے متعلق ایف بی آر کا کیا کردار ہے؟ ۔انہوں نے ریمارکس دیئے کہ آف شور کمپنی بنانا کوئی غلط کام نہیں یہ تو طے ہے۔چیئرمین ایف بی آر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاناما معاملہ سامنے آنے پر فوری طورپر وزارت خارجہ سے رابطہ کیا،ایکشن کیلئے صرف آف شور کمپنی کا نام اورڈائرکٹرز کا پتاہوناکافی نہیں ہے،ایف بی آر کا کردار ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کے بعد شروع ہوتا ہے،پانامہ کے ساتھ ٹیکس معلومات کے تبادلے کا کوئی معاہدہ نہیں ہے اور ٹیکسوں کے معاملات کیلئے پانامہ جنت ہے۔
جسٹس عظمت سعید شیخ نے چیئرمین ایف بی آر سے استفسار کیا کہ ایف بی آر نے پانامہ کے معاملے پر وزارت خارجہ سے کب رابطہ کیا؟ جسٹس عظمت سعید نے کہا ریمارکس دیئے کہ ایف بی آر کا دفتر وزارت خارجہ سے 200 گز کے فاصلے پر ہے،ایف بی آر کو وزارت خارجہ سے رابطہ کرنے میں 6 ماہ لگ گئے،200گز کا فاصلہ 6 ماہ میں طے کرنے پر آپ کو مبارک ہو۔جسٹس عظمت سعید نے مزید استفسار کیا کہ ایف بی آر نے آف شور کمپنی مالکان کو نوٹس کب جاری کیے؟ جس پر چیئرمین ایف بی آر نے جواب دیا کہ 2 ستمبر 2016 کو ایف بی آر نے نوٹس جاری کیے،343 افراد کو نوٹسز جاری کیے گئے،آف شور کمپنیوں پر صرف ڈائرکٹرز کا نام ہونا کافی نہیں،39 کمپنیوں کے مالکان پاکستان کے رہائشی نہیں،52 افراد نے آف شور کمپنیوں سے ہی انکار کردیا ۔
جسٹس آصف کھوسہ نے استفسار کیا کہ شریف فیملی کو نوٹس جاری کرنے پر کن کا جواب آیا؟چیئرمین ایف بی آر نے جواب دیا کہ 92افراد نے آف شور کمپنیوں کو تسلیم کیا اور 12 افراد دنیا میں نہیں رہے،59 نے آف شور کمپنیوں سے انکار کیا،حسن،حسین اور مریم نواز نے آف شور کمپنیوں پر جواب دیا،مریم نواز نے کہا ان کی بیرون ملک کوئی جائیداد نہیں،مریم نواز نے کہا وہ کسی آف شور کمپنی کی مالک نہیں ہیں۔ جسٹس آصف سعید نے پھراستفسار کیا کہ کیا مریم نواز نے ٹرسٹی ہونے کا ذکر کیا؟ جس پر چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ مریم نے اپنے جواب میں ٹرسٹی ہونے سے متعلق کچھ نہیں کہا۔جسٹس آصف سعید نے ریمارکس دیئے کہ7 گھنٹوں کے کام میں چیئرمین ایف بی آر نے ایک سال لگادیا۔چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ تمام معلومات کی تصدیق کر رہے ہیں جس پر جسٹس گلزار نے ریمارکس دیئے کہ اپنے اقدامات کو ریکارڈ سے ثابت کریںاور لگتا ہے کہ آپ کو تصدیق کیلئے30 سال درکارہیں۔جسٹس کھوسہ نے استفسار کیا کہ جواب موصول ہونے کے بعد آپ نے کیا اقدامات کیے؟جسٹس عظمت نے ریمارکس دیئے کہ گھنٹوں کے کام میں ایک سال لگا دیا گیا،ایف بی آر جو کر رہا ہے سب کے سامنے ہے،کون کب سے بیرون ملک ہے ایک گھنٹے میں پتا چل سکتا ہے۔انہوں نے استفسار کیا کہ ٹریول ہسٹری کیلئے کس ادارے کو کب لکھا وہ ریکارڈ دکھائیں؟جس کے جواب میں ایف بی آر کے وکیل نے کہاکہ عدالت کو دکھانے کیلئے ریکارڈ موجود نہیں ہے۔جسٹس کھوسہ نے استفسار کیا کہ کیا آپ کو تحقیقات بڑھانے کیلئے عدالت کی مداخلت درکار ہے؟وکیل ایف بی آر نے جواب دیا کہ ایک ایشو یہ بھی تھا کہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے،تسلیم کرتے ہیں کہ فوری اقدامات نہیں کیے گئے ۔وکیل نے کہا کہ بیرون ملک مقیم 39 آف شور کمپنی مالکان کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

جسٹس گلزار نے سوال کیا کہ دوسرے الفاظ میں آپکا مطلب ہے ایف بی آر نے منی لانڈرنگ پر کچھ نہیں کیا؟وکیل ایف بی آر نے جواب دیا کہ منی لانڈرنگ کے لیے الگ قوانین اور ادارے موجود ہیں۔جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ جہاں کارروائی کرنا ہوتی ہے ایف بی آرفوری کارروائی کرتاہے،آپ کو فوری طور پر ایکشن لینا چاہیے تھا۔جسٹس کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ کوئی ادارہ کام کرتا تو کیس عدالت میں نہ آتا۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے پراسکیوٹر جنرل نیب سے استفسار کیا کہ آپ چیرمین نیب کی نمایندگی کریں گے یا عدالت کی معاونت؟جس پر پراسکیوٹر جنرل نیب نے جواب دیا کہ بطور نمایندہ نیب عدالت کی معاونت کروں گا۔چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ میں تھوڑا ڈرا ہوا تھا مگر بچت ہوگئی،نیب اپنی ذمے داریوں سے پوری طرح آگاہ ہے،ستمبر 2016 میں معاملہ پبلک اکا¶نٹس کمیٹی میں آیا۔جسٹس کھوسہ نے ریمارکس میں کہا کہ کمیٹی میں نیب کا موقف تھا کہ ہمارا دائرہ اختیار نہیں ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس عظمت سعید نے چیئرمین نیب سے استفسار کیا کہ کیا نیب ریگولیٹر اداروں کے کام کا انتظار کرتا ہے؟ چیئرمین نیب نے جواب دیا کہ نیب کا موقف ہے کہ متعلقہ ادارے کے بعد ہی کارروائی کر سکتے ہیں۔جسٹس کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ نیب کا قانون چیئرمین کو کارروائی کا اختیار دیتاہے۔چیئرمین نیب قمر زمان چودھری نے کہا کہ نیب کو اس کے قوانین ریگولیٹ کرتے ہیںجس پر جسٹس گلزار نے استفسار کیا کہ کیا نیب کو بھی کوئی ریگولیٹ کرتا ہے؟ جسٹس اعجاز افضل نے پوچھا کہ ریگولیٹر نیب کے کام میں رکاوٹ کیسے بن گیا؟ کیا نیب آرڈیننس میں کسی ریگولیٹر کا ذکر ہے؟ جسٹس گلزار نے ریمارکس دیئے کہ آپ کو عدالت کی معاونت کا کہا تھا،پراسیکیوٹر جنرل صاحب، اب بس کر دیں اورنیب کی ٹیم کو سن کر افسوس ہوا ہے۔جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ آج پتا چل گیا کہ نیب کا ریگولیٹر کون ہے۔جسٹس کھوسہ نے استفسار کیا کہ ریگولیٹر کا لفظ آخر کہاں سے آیا؟پاکستان میں آخر ریگولیٹر ہے کون؟کیا ریگولیٹر وہ ہے جو چیئرمین کو تعینات کرتا ہے؟ اوگرا اور نیپرا کا تو بطور ریگولیٹر سنا تھا، نیب کا ریگولیٹر کون ہے؟جسٹس گلزار نے ریمارکس دیئے کہ آپ سے کہا تھا کہ عدالت کی معاونت کریں اور آپ نے عدالت کو گمراہ کرنا شروع کر دیا ہے۔پراسکیوٹر جنرل نیب نے جواب دیا کہ مشکوک ٹرانزیکشن ہو تو بینک تحقیقات کا کہتا ہے۔جسٹس عظمت نے ریمارکس دیئے کہ ہزاروں ریفرنس زیر التواہیں جن میں بینکوں نے کارروائی کا نہیں کہا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ انوکھا مقدمہ ہے جس میں کسی ادارے کو دائرہ اختیار ہی نہیں ہے۔جسٹس کھوسہ نے کہا کہ باپ سے پوچھو تو کہتا ہے بچوں سے پوچھو،ادارے اپنا کام کرتے تو ہمیں مقدمہ نہ سننا پڑتا۔جسٹس عظمت نے ریمارکس دیئے کہ جن کے نام پانامہ پیپرز میں آئے انہیں بلا کر پوچھتے تو سہی، آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس آتا تو نیب انکوائری تو کرتا ہی ہے۔جسٹس اعجاز نے ریمارکس دیئے کہ ایک سال گزر گیا لیکن نیب نے کچھ نہیں کیا۔جسٹس گلزار کا کہنا تھا کہ عدالت کو کہانیاں نہ سنائیں جبکہ جسٹس آصف سعید نے ریمارکس میں کہا کہ چیرمین نیب کو تعینات کرنے والے بھی نہیں ہٹا سکتے،اللہ نے آپ کو ایسا عہدہ دیا ہے کہ آپ عوام کی خدمت کر سکیں۔انہوں نے چیئرمین نیب سے استفسار کیا کہ کسی ایک بندے سے پوچھا کہ سرمایہ کہاں سے آیا؟نیب کے لیے یہ اطلاعات نئی نہیں تھیں،ہائیکورٹ نے ریفرنس خارج کر دیا تو پھر بھی مواد موجود تھا۔جسٹس اعجاز نے ریمارکس دیئے کہ ادارے اپنا کام کرتے تو اس کیس پر اتنا وقت نہ لگتا۔