بدترین لوڈ شیڈنگ ،جماعت اسلامی نے 28 اپریل کو ملک گیر احتجاج اور دھرنوں کا اعلان کر دیا ، حکمرانوں کی کرپشن نے ملک کا مستقبل تاریک کر دیا: لیاقت بلوچ

قومی

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)جماعت اسلامی پاکستا ن  کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہاہے کہ جماعت اسلامی 28 اپریل کو ملک میں جاری بدترین لوڈشیڈنگ کےخلاف ملک گیر احتجاج کر ے گی اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے ہیڈ آفسز اور دفاتر کے سامنے دھرنے دے گی ، لاہور ، کراچی ، اسلام آباد ، پشاور اور کوئٹہ سمیت ملک بھر میں تمام بڑے بڑے شہروں میں عوامی دھرنے دیئے جائیں گے ،  سینیٹر سراج الحق مالاکنڈ میں بڑے عوامی جلسہ سے خطاب کریں گے جس میں وہ حکومت کے خلاف قوم کو آئندہ کا لائحہ عمل دیں گے ۔ جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ عوام کو لوڈشیڈنگ اور موجودہ حکومت کے عذاب سے نجات دلانے کے لیے پورے ملک میں حکومت کے خلاف ایک بڑی تحریک کا آغاز کیا جائے گا ۔ امیر جماعت اسلامی  نے عوام سے احتجاجی دھرنوں میں شرکت کی اپیل کی ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور  پریس کلب میں پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےلیاقت بلوچ نے کہاکہ حکمرانوں کی نااہلی سے ملک توانائی کے بہت بڑے بحران سے دوچار ہے ،  ملک میں سیاسی ، معاشی اور معاشرتی ناہمواریوں اور حکمرانوں کی کرپشن سے ملک کا مستقبل تاریک کر دیا گیا ہے ، شہروں میں روزانہ بارہ سے سولہ گھنٹے اور دیہاتوں میں سولہ سے بیس گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے ، وفاقی وزیرپانی و بجلی نے اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے کہاہے کہ آئندہ سالوں میں بھی بجلی کے بحران پر قابو نہیں پایا جاسکے گا حالانکہ وزیراعظم نوازشریف اور ان کے گڈ گورننس کے دعوے دار بھائی شہباز شریف اپنے انتخابی جلسوں میں لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے بڑے بڑے دعوے کرتے تھے ۔ انہوں نے کہاکہ نوازشریف یا تو عوام سے غلط بیانی کر کے انہیں سبز باغ دکھارہے ہیں یا پھر ان کے ارد گرد خوشامدی ٹولہ اور تھنک ٹینک انہیں غلط اعدادو شمار دے کر گمراہ کررہاہے ۔ لیاقت بلوچ نے کہاکہ ملک میں جاری لوڈشیڈنگ سے خود حکومت کی ساکھ اور قومی اداروں پر حکومتی گرفت ختم ہونے کی گواہی دے رہی ہے جبکہ وزراءکے احکامات پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے ریاستی نظام تباہ ہوچکاہے ، سینیٹ اور قومی اسمبلی میں وزراءکی نااہلی کرپشن اور بد زبانی جلتی پر تیل کاکام کر رہی ہے ، وزراءکرپشن ترک کرنے کو تیار ہیں نہ عوامی نمائندوں کے سوالات کا سامنا کرپارہے ہیں ، وزراءسے سوال کیا جائے تو ان کی زبانیں زہر اگلنا شروع کر دیتی ہیں ۔

لیاقت بلوچ نے بتایا کہ 2013 ءمیں بجلی کا شارٹ فال جو پانچ ہزار میگاواٹ تھا ، آج بڑھ کر چھ ہزار میگاواٹ ہوچکاہے اور طلب بڑھ کر 23 ہزار میگاواٹ ہوچکی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ حکمران دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ اسی سال کے دوران 35 ہزار میگاواٹ بجلی نظام میں لے آئیں گے جبکہ عملاً حکومت نے اپنے دور میں پاور جنریشن کا موقع ضائع کردیاہے ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت اووربلنگ کے ذریعے عوام کو لوٹ رہی ہے اور بجلی کے بلوں سے جمع ہونے والا پیسہ بھی پاور کمپنیوں کو ادا نہیں کیا جارہا۔ انہوں نے کہاکہ اصولی طور پر خریدی جانے والی بجلی ایک ارب چھتیس کروڑ کی بنتی ہے جبکہ حکومت بجلی کمپنیوں کو ساڑھے چار ارب روپے روزانہ ادا کر رہی ہے اس طرح روز تین ارب روپے کا ملک کو نقصان ہورہاہے ۔انہوں نے کہاکہ عوام کو مہنگی بجلی بیچ کر پیسے کمپنیوں کو دینے کے بجائے اپنے اللے تللوں میں خرچ کیے جارہے ہیں، اس سے بڑی نااہلی ، بے حسی اور عوام کے ساتھ زیادتی اور کیا ہوسکتی ہے ؟ بجلی کی ٹرانسمیشن لائنوں کو ٹھیک کرنے اور بجلی چوری روکنے کی بجائے حکومت کا سارا زور جھوٹے نعروں اور دعوﺅں پر صرف ہورہاہے ،  نیلم، جہلم پراجیکٹس کی لاگت 520 ارب روپے تک بڑھ گئی ہے ، نندی پور پاور پراجیکٹ کے سکینڈل میں سینکڑوں ارب روپے خورد برد ہوئے ۔ لیاقت بلوچ نے کہاکہ حکومتی نااہلی سے کراچی میں 9 سو کارخانے اور فیصل آباد میں پانچ سو صنعتی یونٹس بجلی نہ ہونے کی وجہ سے بند ہوچکے ہیں ۔ گجرات ، گوجرانوالہ اور دیگر صنعتی شہروں میں 95 ہزار محنت کش بے روزگارہوئے ہیں اور سرمایہ کار ادارے اور افراد اپنا سرمایہ نکال کر بیرون ملک منتقل کر رہے ہیں ۔