حکومتی وفد کی طاہر القادری سے ملاقات ختم، ساڑھے نو بجے دوبارہ ملاقات ہو گی، حقوق دو ورنہ چھین لیں گے: طاہر القادری

قومی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان عوامی تحریک کے حکومتی ٹیم کے ساتھ مذاکرات ختم ہو گئے ہیں اور حکومتی وفد طاہر القادری کے ساتھ دوبارہ ملاقات کا کہہ کر وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ ملاقات کیلئے روانہ ہو گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اسحاق ڈار اور زاہد حامد ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کئے بغیر ہی روانہ ہو گئے جس کے بعد طاہر القادری نے کنٹینر سے باہر نکل کر کارکنوں کو دیکھ کر وکٹری کا نشان بنایا اور مختصر خطاب بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہایت مختصر بات کرنے آئے ہیں اور یہ بتا دینا چاہتے ہیں کہ یہ وفد آخری وفد ہے اور ہم بھی مذاکرات میں آخری عذر ختم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے آنے والا وفد تین رکنی تھا اور انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ جب وہ گفتگو کرنے آئیں گے تو ہمارے مطالبات کیاں ہوں گے، ان کا خیال تھا کہ صرف رحمت ہی رحمت ہو گی، شفقت ہی شفقت ہو گی اور صرف عفوو درگزر ہو گا، یہ اندازہ نہیں تھا کہ اللہ رب العزت کی ایک شان ظلم کا بدلہ لینے والی بھی ہے، اللہ پاک سے بڑھ کر غفور و رحیم کوئی نہیں لیکن اللہ رب العزت ظالموں سے ظلم کا انتقام لینے والا بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی وفد کو بتا دیا کہ ڈیڈ لائن میں چند گھنٹوں کا اضافہ اور توسیع بھی نہیں ہو سکتی لیکن اگر عوامی تحریک کی 10 سے 12 شرائط میں سے صرف 2 شرائط ابھی اور یہاں پر ہی پوری کر دی جائیں تو باقی شرائط اور مطالبات پر بات چیت کیلئے ڈیڈ لائن میں چند گھنٹوں کی توسیع ہو سکتی ہے لیکن انقلاب مارچ ملتوی نہیں ہو سکتا اور شرائط کے پورے پیکیج کو نافذ کئے بغیر واپس نہیں جا سکتا، صرف چند گھنٹوں کی توسیع اس شرط کے ساتھ ممکن ہے کہ پہلی دو شرائط کو ابھی اور یہاں پورا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جو شرائط پیش کی گئیں انہیں پورا کرنے کیلئے وفد کے پاس اختیار نہیں تھا جس پر انہوں نے وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات اور اجازت کے بعد دوبارہ ساڑھے نو بجے ملاقات کا وعدہ کیا ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ اگر وفد مقررہ وقت تک نہ پہنچ سکا تو ہم اپنے اگلے لائحہ عمل کا اعلان کر دیں گے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے تین رکنی وفد کے سامنے پیش کی جانے والی 2 شرائط سے متعلق بتانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ ان شرائط کے بارے میں ابھی نہیں بتا سکتے تاہم دوبارہ ملاقات کے بعد حکومت سے ان کا اعلان کرائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شلم کی دیواریں گرنے والی ہیں، ان گرتی دیواروں کو ایک اور دھکا دو، ظالموں سے حساب لینے والا اللہ ہی ہے۔ طاہر القادری نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ ان کی زبان سے کبھی جھوٹ نہیں نکلا، کبھی غلط بات نہیں کی اس لئے سینہ تان کر بات کرتا ہوں، میں جان دے دوں گا لیکن تمہیں طاہر القادری دوبارہ نہیں ملے گا۔

 

طاہر القادری کی حکومتی وفد کو پیش کی گئی 2 شرائط کی تفصیلات جاننے کیلئے یہاں کلک کریں۔