وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر41

مقابلے کا دن بھی آ پہنچا۔ یہ عجوبہ کشتی دیکھنے کیلئے تماشائیوں کا رش ٹوٹ کر گرا تھا۔اس کشتی کو دیکھنے کیلئے اساتذہ فن نے خاص طور پر شرکت کی تھی۔ کشتی شروع ہوئی۔ گاماں نے جھپٹ کر حریف پر حملہ کیا اور دوسرے ہی لمحہ ایک دھماکہ ہوا۔ گاماں نے جونہی پیٹرسن کے پٹ کھینچنا چاہے، اس کے ہاتھ پھسل گئے اور وہ خود ہی اکھاڑے میں گر پڑا۔ اس کا گرنا بھی عجیب طرح سے تھا۔ گاماں اپنے زور میں اکھاڑے کی مٹی میں دھنس گیا تھا۔ اس کا چہرہ تو کئی انچ تک زیر زمین چلا گیا۔ تماشائی حیران تھے کہ یہ کیا انہونی ہو گئی ہے۔ وہ تو سب گاماں کی فتح کا خواب لے کر آئے تھے مگر ادھر تو گاماں کی شکست نظر آ رہی تھی۔تماشائی حیرانی کے عالم میں نشستوں سے کھڑے ہو گئے۔ پیٹرسن جوابی حملہ کیلئے پرتول رہا تھا۔ اس نے گاماں کو نیچے رکھا اور اسے الٹنا چاہا۔مگر پیٹرسن کا خواب پورا نہ ہوا۔گاماں یکدم حواس میں آ گیا۔اس نے دوسرے ہی لمحے اکھاڑے کا نقشہ بدل ڈالا اور نیچے سے نکل آیا۔اس نے اکھاڑے کا ایک چکر لیا اور شاہین کی طرح پیٹرسن کو آ دبوچا۔ اس بار گاماں نے پیٹرسن کو دھوبی پارٹ مارا۔داؤ کارگر تھا۔ پیٹرسن کے پاؤں اکھاڑے کی مٹی سے جدا ہوئے اور وہ چاروں شانے چت پڑا تھا۔

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر40 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
مقابلہ تین منٹ تک جاری رہا۔ مقابلہ ختم ہوتے ہی گاماں مہاراجہ کے پاس پہنچا۔ ’’حضور اس نامراد کی دونوں رانوں کا معائنہ کرایا جائے‘‘۔
مہاراجہ نے تعجب سے پوچھا۔ ’’کیوں، کیا ہوا؟‘‘
’’مجھے شک ہے کہ اس نے اپنی رانوں پر کوئی پھسلن دار چیز لگائی ہے‘‘۔ گاماں نے کہا۔
’’مہاراجہ کی تیوری پر بل پڑ گیا۔ اس نے ڈاکٹر کو بلایا اور پیٹرسن کی رانیں چیک کرنے کیلئے کہا۔ پیٹرسن نے بڑا شور شرابہ کیا۔ڈاکٹر نے رانیں چیک کرنے کے بعد کہا۔
’’حضور! مسٹر پیٹرسن نے اپنی رانوں پر چکنا مادہ کثرت کے ساتھ لگایا ہوا ہے‘‘۔
مہاراجہ نے دبے ہوئے غصے کے ساتھ کہا۔’’مسٹر پیٹرسن ہم نے تمہاری تمام شرائط مان لیں مگر پھر بھی تم نے یہ حرکت کی۔ کیا تمہارے ملک میں کشتی لڑنے کا رواج یہی ہے‘‘۔
پیٹرسن شرمندہ ہو گیا۔اس کی زباں گنگ ہو گئی۔ محض اتنا ہی بولا۔ ’’آئی ایم سوری‘‘۔
’’مہاراجہ نے اسے سفری خرچ اور بیس ہزار روپے نقد دئیے اور اسے رخصت کر دیا۔ بعد میں جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ گاماں پیٹرسن کے پٹ کھینچتے ہوئے کیوں گرا تھا تو سب نے اسے خوب برا بھلا کہا۔
مہاراجہ نے گاماں کی اس فتح پر خوب جشن منایا اور ایک شکار پارٹی کا بھی اہتمام کیا، لیکن اسی روز گاماں کی طبیعت میں گرانی پیدا ہوئی اور وہ شکار پر نہ جا سکا۔ البتہ امام بخش مہاراجہ کے ساتھ تھا۔سپاہی اور ہانکا کرنیوالے جنگل میں پھیل گئے۔ ان کے ہاتھوں میں خالی کنستر اور ڈھول تھے۔ ہانکا کرنے سے شیر اور دوسرے درندے شکاریوں کے سامنے آ جاتے تھے۔ جس سے شکاری کو شکار میں آسانی ہو جاتی تھی۔ ہانکا کے دوران ایک جھاڑی سے قوی ہیکل ریچھ باہر نکلا۔ جھاڑی کے قریب ہی ایک سپاہی ہاتھ میں نیزہ لئے کھڑا تھا۔ اسے ریچھ کی آمد کا پتہ نہ چلا۔ ریچھ نے اسے گرفت میں لیا چشم زدن میں اسے ادھیڑ کر رکھ دیا۔ جنگل سپاہی کی چیخوں سے گونج اٹھا۔ اس وقت مہاراجہ مچان پر بیٹھا تھا۔ اس سے کچھ فاصلے پر امام بخش پہلوان اور دوسرے شکاری تھے۔ امام بخش کے ہاتھ میں ایک تیز انی والا نیزہ تھا۔ مہاراجہ نے اس سے قبل اتنا بڑا ریچھ نہیں دیکھا تھا۔ ریچھ غیض و غضب میں تھا۔ مہاراجہ کو سپاہی کے مرنے کا قلق ہوا۔ اس کا پہلے ارادہ تھا کہ ریچھ کو زندہ پکڑا جائے اور اسے ریاست کے چڑیا گھر میں رکھا جائے مگر ریچھ نے انہیں سوچنے کا موقع ہی نہ دیا اور ایک دوسرے ہانکا کرنے والے پر جھپٹ پڑا۔ مہاراجہ نے اپنی بندوق کا رخ اس طرف کیا اور فائر کر دیا۔ گولی نشانے پر نہ لگی۔ اسی لمحہ ریچھ اس شخص کو اپنی گرفت میں لے چکا تھا۔امام بخش اس کو بچانے کیلئے ریچھ کی طرف بڑھا۔ اس نے نیزہ ایک طرف پھینکا اور ریچھ کی گردن پر کسوٹا دے مارا۔ ریچھ اس شخص کو ساتھ لئے زمین پر گر گیا۔ اس نے پلٹ کر خوں آشام نظروں سے امام بخش کو دیکھا اور اپنے شکار کو چھوڑ کر چنگاڑتا ہوا امام بخش پر جھپٹ پڑا۔ ریچھ نے امام بخش کو ’’جن جپھا‘‘ مارا۔ ریچھ کا سب سے مہلک اور واحد داؤ ’’جن جپھا‘‘ مشہور ہے۔ امام بخش اس داؤ سے آگاہ تھا اس نے توڑ پیش کیا اور اسے پٹھی مار کر نیچے گرا لیا۔
اب سماں ایک دلچسپ کشتی میں بدل چکا تھا۔ ریچھ اور امام بخش پہلوانوں کی طرح ایک دوسرے کی اکھاڑ پچھاڑ میں لگے تھے۔ مہاراجہ اس منظر سے خوب محظوظ ہوا تھا۔سپاہیوں نے دونوں کے گرد گھیرا ڈال رکھا تھا۔ امام بخش نے ریچھ کی نعل بندی کی اور اسے جھنجھوڑ ڈالا۔ ریچھ ببر شیر کی تاب نہ لا سکا اور بلبلانے لگا۔اس کی تمام درندگی کافور ہو گئی تھی اور وہ بچاؤ کیلئے ہاتھ پاؤں مارنے لگا تھا۔ کچھ ہی دیر بعد ریچھ بے سدھ ہو گیا۔ امام بخش اسے چھوڑ کر ہٹا تو ریچھ اچانک اٹھا اور دم دبا کر جنگل میں بھاگا۔ ریچھ کا یوں بھاگنا تھا کہ فضا میں مہاراجہ کے قہقہے گونجنے لگے۔
’’واہ مزہ آ گیا۔ ریچھ خود کو کیا سمجھ رہا تھا۔ ہمارے شیر ببر نے اس کی خوب درگت بنائی ہے‘‘۔
امام بخش اور ریچھ کی کشتی اتنی مشہور ہوئی کہ اس کے بعد امام بخش کو شیر ببر کہا جانے لگا۔ امام بخش شکل و شباہت میں بھی ایک شیر کی ماند تھا۔ اس واقعے کے بعد تو امام بخش نے ایک شیر پال لیا جس کے ساتھ وہ اکھاڑے میں زور کیا کرتا تھا۔ (جاری ہے)

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر42 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں