وہ پہلوان جنہوں نے اپنے اپنے دور میں تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر 17

کلو پہلوان نے کیکر سنگھ کو دعوت مبارزت دی اور1903ء میں امرتسر میں دونوں پہلوان ایک دوسر ے کے سامنے آگئے!کلو پہلوان نے کیکر سنگھ کی غضبناکی اوروحشت کو ہوا دینے کے لئے اسے مکے مارنے شروع کر دیئے اور مار مار کر اس کا یہ حال کر دیا کہ وہ منصف سے یہ کہنے پرمجبور ہو گیا۔
’’دیکھیں جی کلو مکے مارتاہے۔یہ کشتی کے قواعد کے خلاف ہے۔‘‘
جواب کلو نے دیا۔’’بڑا آیا قواعد کا احترام کرنے والا تو بھی نیستی مارتا ہے۔‘‘

معروف پہلوانوں کی داستانیں جنہوں نے اپنے اپنے دور میں تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر16 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

منصف نے کلو کو خاموش رہنے کے لیے کہا اور کیکر سنگھ کو سمجھایا۔’’اگریہ تجھے مکے مارتا ہے تو تم بھی مارو۔یہی اس کا علاج ہے۔‘‘
کیکر سنگھ نے بھی جواب مکے مارے مگر کلو پھر بھی باز نہ آیا اور دونوں پہلوان زور آزمائی اور داؤ پیچ لگاتے رہے۔ یہ کشتی پون گھنٹہ جاری اور برابر چھڑا دی گئی۔
کلو کا کیکر سنگھ سے برابر چھوٹ جانا بھی ایک طرح سے کامیابی تھی۔ ماں سے کیا وعدہ پتر نے خوب نبھایا تھا۔ تھوڑے ہی عرصہ بعد کیکر سنگھ اور کلو پہلوان کی دوبارہ کشتی ہوئی جو پھر برابرر ہی اورآخرکار کلو اور کیکر سنگھ کے درمیان شاہدرہ کے مقام پر5مارچ1904ء کو آخری انصاف دنگل ہوا۔
کیکر سنگھ نے اسی مقام پر غلام پہلوان کو نیستی ماری اور پھر اس کی انگلیاں چیر دی تھیں۔آج اسی مقام پر غلام کے چھوٹے بھائی سے اس کا مقابلہ تھا۔ اسی لئے یہ مقابلہ دیکھنے کے لئے ہزاروں کا ہجوم ہو گیا۔ یہ کشتی اڑھائی گھنٹے جاری رہی اور آخر کلو پہلوان نے کیکر سنگھ کی انگلیاں چیر دیں اور کہا۔’’میں نے اپنے بھائی کا بدلہ لے لیا ہے۔‘‘ کیکر سنگھ کی انگلیاں لہو اگلنے لگیں اور منصف نے یہ کشتی بھی برابر چھڑا دی۔
کلو پہلوان نے اپنا کہا سچ کر دکھایا اور ماں کے دودھ کی لاج رکھ لی۔ اس نے اپنے خاندان کے گرز کو اپنے گھر سے نہیں جانے دیا اور کیکر سنگھ سے تین بار مقابلہ برابر چھوٹ کر ثابت کر دیا کہ وہ ایک بڑا پہلوان بن چکا ہے۔
استاد کیکر سنگھ کو حد سے بڑھی خودسری، خود نمائی لے ڈوبی تھی۔ وہ جتنا بڑا پہلوان تھا اگر اپنی طاقت اور فن کی طغیانی کے آگے تحمل ،بردباری،انکساری کا بند باندھ دیتا تو یوں اس مہمان کی رسوائی نہ ہوتی جو کلو پہلوان کے ہاتھوں ہوئی۔
کلو پہلوان جس نے اپنے نامی گرامی بھائیوں کی موجودگی میں اکتساب فن پایا مگر پہلوانی کو باقاعدگی سے اختیار نہ کیا لیکن جب کیکر سنگھ کی بڑھکوں سے اس کے خاندان پر افتاد ٹوٹ پڑی تو وہ لنگوٹ کس کر اکھاڑے میں اتر گیا اور جی جان سے پہلوانی کی اور پھر چندہی سالوں بعد ایک بڑا پہلوان بن کر کیکر سنگھ کی سر کشی کو لگام ڈال دی۔
کلو پہلوان سے شکست کے بعد بھی کیکر سنگھ کے اعصاب نہ جھنجلائے بلکہ وہ اپنے دم خم میں رہا اور1904ء میں شاہنوراز نانی والا سے کشتی لڑا۔ یہ کشتی ڈیرہ غازی خاں میں ہوئی۔
شاہنواز پہلوان پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے مگریہاں اس کا ذکر چھڑ گیا تو بات بہت آگے نکل جائے گی اور کہانی کا رخ تبدیل ہو جائیگا۔ بہرحال شاہنواز کا مختصر ذکر کرنے کے بعد استاد کیکر سنگھ کے ساتھ اس کے مقابلہ کی روداد پیش کی جاتی ہے۔
شاہنواز خاں جس دور میں پیدا ہوا وہ فن پہلوانی کے عروج کا دور تھا۔ کیکر سنگھ دیوہند، چراغ بالی والا، غلام رستم دوراں،کلو امرتسری، میراں بخش ،رحیم سلطانی والا،گاماں پہلوان،علی سائیں ،چنن قصائی، اللہ دتہ،بجہ ،قادر بخش بجہ، سندر سنگھ رمزی اور موچی تونسہ اور ایسے متعدد قابل ذکر پہلوان ریاستو ں میں موجود تھے۔ شاہنواز ملتان کا رہنے والا تھا۔ اس نے استاد بجر کی شاگردی اختیار کی اور اپنے آبائی شہر ہی سے فن کاریاں دکھانے کا آغاز کیا۔ جب وہ ملتان کے تمام مقامی پہلوانوں کو گراچکا تو اپنے شہرسے باہر نکلا اور مختلف ریاستوں میں جاکر درباری پہلوانوں کو پچھاڑا۔ اس دوران شاہنواز کی کلو پہلوان سے کشتیاں سب سے زیادہ یادگار ثابت ہوئیں۔ کلو پہلوان نے پہلے پہل ریاست دتیہ میں اسے پچھاڑ دیا تھا لیکن دوسری کشتی جو ملتان میں ہوئی اس میں کلو پہلوان شکست کھاگیا۔ تیسری کشتی امرتسر کے قریب1892ء میں ہوئی۔اس کے لئے رستم ہند کا خطاب تجویز کیا گیا تھا۔شاہنواز نے کلو کو شکست دے کر یہ خطاب جیت لیا۔
1896ء کے قریب ہندوستان بھر میں ویسے تو سینکڑوں بڑے پہلوان تھے مگر سب سے زیادہ چرچا ان چار پہلوانوں کا ہونے لگا تھا۔ کیکر سنگھ کا دیو نما قدوقامت اور طاقت کے لئے۔ غلام پہلوان کافن پہلوانی اور سبھاؤ کی حلیمی کے لئے۔شاہنواز کا شاہ زوری کے لئے اور کلو کا دہشت کے لئے جس طرح کیکر سنگھ کلو پہلوان کو کبھی اپنا جوڑ ہی تصور نہیں کرتا تھا مگر غلام پہلوان کے لئے اس کے دل میں احترام تھا، کچھ اسی طرح شاہنواز بھی غلام پہلوان سے گرنے کے بعد کلو کو اپنا جوڑ خیال نہیں کرتا تھا مگر غلام پہلوان کے لئے اس کے دل میں بہت قدر تھی۔
1904ء میں عادل پیر(واقع ڈیرہ غازی خاں) کے میلہ میں شاہنواز اور کیکر سنگھ کے درمیان مقابلہ ہوا۔
کیکر سنگھ کو ہمیشہ کی طرح یقین تھا کہ اس خطہ میں اس کے مقابلہ کا ایک بھی پہلوان نہیں ہے۔ اسی زعم میں مبتلا ہو کر اس نے شاہنواز خاں سے کشتی لڑی۔ وہ اسیمحض مقامی زور آور سمجھ رہا تھامگر قدرت جب نظارے دکھاتی ہے تو آنکھیں حیرت سے چندھیا جاتی ہیں اور بڑبولوں کے منہ بند ہو جاتے ہیں۔کچھ یہی شاہنواز خاں اور کیکر سنگھ کے ساتھ بھی ہوا۔ دونوں کے درمیان کشتی پون گھنٹہ جاری رہی۔ کافی زورآزمائی ہوئی۔ کبھی کیکر سنگھ شاہنواز خاں کو آگے رکھ لیتا اور کبھی شاہنواز کیکر سنگھ کو۔ ایک مرتبہ جب شاہنواز خاں نیچے سے اٹھ رہا تھا تو کیکر سنگھ کے کسی بہی واہ نے موقع کی نزاکت تاڑ کر پہلوان کو غلیظ گالی دے کر اشتعال دلایا کہ وہ کیا کررہا ہے۔ ایک بالکا اس سے چت نہیں ہو رہا ہے۔۔۔ گالی سن کر کیکر سنگھ دیوانہ ہو گیا اور غصے میں آگیا۔ اس نے شاہنواز کی پھیلی ہوئی بائیں ٹانگ پر ایسے زور سے گھٹنامارا کہ شاہنواز کی ٹانگ کا پٹھا ٹوٹ گیا۔
وہ اس طرح نہ صرف کشتی ہار گیا بلکہ ایک ٹانگ سے معذور ہو گیا اور لنگڑاتا رہا۔اس کشتی کے بعد شاہنواز کو بڑی مقبولیت حاصل ہوئی تھی اور والئی ریاست نواب بہاولپور نے اس کی سرپرستی کی۔ شاہنواز خاں کا وزن تقریباً سات من تھا۔ روزرہ کی خوراک جو والیان ریاست کی جانب سے مقرر تھی۔ اس میں گیارہ سیر گوشت، پانچ پاؤ مغز، بادام،پانچ پاؤ کھانڈ، آدھ پاؤ چھوٹی الائچی اور پانچ پاؤ گھی تھا۔ دودھ حسب ضرورت ہوتا۔ شاہنواز نے ہندوستان کے تقریباً ہربڑے پہلوان سے مقابلہ کیا۔کسی کو گرایا اور کسی سے گرابھی۔
استاد بوٹا غلام پہلوان رستم دوراں ،کیکر سنگھ کی بعض کشتیوں سے نالاں تھے اور اس کا انہیں اس قدر غم ہوا کہ وہ اندر سے گھلنا شروع ہو گئے اور پھر کلو پہلوان سے برابرمیں چھوٹ جانے کا انہیں اس قدر قلق ہوا کہ 1906ء میں اس دکھ کے باعث انتقال کر گئے۔کیکر سنگھ کو اپنے استاد کی ناگہانی موت ا جس قدر دکھ تھا اتنا ہی تمام ریاستوں کے پہلوانوں کو ہوا۔ استاد بوٹا ایک نابغہ روز گارپہلوان تھے۔ ان سے قبل غلام پہلوان رستم دوراں اچانک وفات پا گئے تھے اور انکے بعد استاد بوٹا کا اس جہاں سے اٹھ جانا گویا ریاستی اکھاڑوں کو یتیم کرنے کے مترادف تھا۔ کیونکہ پہلوانی صرف طاقت کا نام نہیں تھا فن کے بغیر اسے نا مکمل خیال کیا تھا اور یہ فن کسی کسی کو نصیب ہوتا تھا۔۔۔ اور پھر اس خلا کو پر کرنے کے لئے میراں بخش بھکی والا کا نام لیا جانے لگاتھا۔یہ پہلوان بلاشبہ اس اعزاز کامستحق تھا کہ اس کا نام استادکے طور پر لیا جاسکے۔(جاری ہے)

وہ پہلوان جنہوں نے اپنے اپنے دور میں تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر 18 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں